Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اُمید ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آج رات تک اس کی عمل درآمد ضروری ہے۔ حکومت نے فیصلے کے خلاف جو اپیل کی ہے، اب دیکھتے ہیں کہ اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی کرتی ہے تو پھر ملک...

19,467 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 views • 1 month ago

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 views • 7 months ago

آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان صاحب کی صحت مقدم ہے۔ آج سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ موجود ہونگے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ عمران خان صاحب کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جارہی ہے یہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟وجہ کیا ہے؟ ان کے ساتھ جیل میں ایسا کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ اس تمام عمل کے دوران خان صاحب کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ جو ایک ایم بی بی ایس ہیں منسلک رہیں گی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں وہ بھی اس تمام عمل کا حصہ رہینگے ۔ salman akram raja

PTI

107,434 views • 1 month ago

سابق وزیراعظم عمران خان کے ذاتی معالج اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا ویڈیو بیان: (16-02-2026) کل رات تقریباً نو بج کر پینتالیس منٹ پر میں نے اسلام آباد میں موجود ان دو ڈاکٹروں سے ٹیلی فون پر بات کی جو فی الحال جناب عمران خان کی آنکھ کا علاج کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھی ڈاکٹر خرم عظیم مرزا، جو لاہور میں ریٹینل اسپیشلسٹ ہیں، سے درخواست کی کہ وہ بھی اس گفتگو میں شامل ہوں اور انہوں نے مہربانی فرمائی۔ ہماری گفتگو تقریباً چالیس منٹ جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے ہمیں تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے جناب عمران خان کو کب پہلی بار دیکھا، اس وقت ان کے کیا علامات تھیں، کون سے ٹیسٹ ہوئے، اب تک کیا علاج دیا گیا ہے، اور آئندہ علاج کا کیا پلان ہے۔ ان کی تازہ ترین تشخیص کل ہوئی تھی۔ ان ٹیسٹوں اور تازہ اسیسمنٹ کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ علاج کی وجہ سے جناب خان میں نمایاں بہتری آئی ہے، آنکھ میں بہتری ہے اور بینائی بھی بہتر ہوئی ہے۔ میں بہت خوش ہوتا اگر میں اس کی پورے یقین سے تصدیق کر سکتا۔ بدقسمتی سے، چونکہ میں نے خود انہیں نہیں دیکھا، نہ ان کی دیکھ بھال میں حصہ لیا، نہ ان سے بات کی، اس لیے نہ تو میں اس کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید۔ اسی لیے میں ایک بار پھر اتھارٹیز سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھے یا ڈاکٹر فیصل سلطان کو، یا دونوں کو، اور جناب عمران خان کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹروں کو اسلام آباد میں معائنہ کرنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئندہ تمام دیکھ بھال اور علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں کیا جائے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ یہ عالمی معیار کا اسپتال ہے جہاں مناسب سہولیات موجود ہیں اور جناب عمران خان کو بہترین علاج مل سکے گا۔“ #WhatAreTheyHiding #ComeToStreetsForKhan

PTI

15,164 views • 7 months ago

رپورٹر: محمود خان اچکزئی نے تو یہ کہا ہے کہ اگر عمران خان سے ہماری ملاقات کروائی جائے تو پھر ہم مذاکرات شروع کر لیں گے۔ ​علیمہ خان: اگر عمران خان سے... ایک سیکنڈ... میں پی ٹی آئی کی بات کر رہی ہوں۔ ​رپورٹر: تحریک تحفظ آئین نے شرط رکھی ہے... ​علیمہ خان: آپ میری بات سنیں۔ مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ اچکزئی صاحب کیا کہتے ہیں۔ وہ بہت واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ان تمام پارٹیوں کو شامل کر لیں جو آئین کی بحالی، جمہوریت کی بحالی اور انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ سب کو منوا لیں، ہم عمران خان کو منوا لیں گے۔ ​عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں، وہ (اچکزئی صاحب) بھی یہی چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایک پیج پر ہیں۔ عمران خان نے اسی لیے انہیں ساتھ دینے کا کہا تھا۔ اس لیے جب آپ بات کریں گے، تو مجھے بہت واضح طور پر معلوم ہے کہ اچکزئی صاحب کیا کہتے ہیں۔ ​پچھلے منگل کی رات جب ہم اڈیالہ جیل کے باہر تھے، تو علامہ راجہ ناصر صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے ان سے کئی بار درخواست کی کہ آپ یہاں سے چلے جائیں، مگر وہ وہاں سے نہیں اٹھے۔ آپ کو پتہ ہے کہ وہ وہاں تین چار دفعہ گرے، لیکن پھر بھی دیکھ لیں کہ وہ ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ عمران خان کا ساتھ دیا ہے۔

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

22,294 views • 3 months ago

"معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آج (عمران خان سے ملاقات کے لیے) فیملی جب جائے گی ایک یا دو بجے اڈیالہ جیل تو کیا سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ان کی ملاقات کروائیں گے ؟ ایز پر ارڈر آف دا سپریم کورٹ ؟ اور کیا جب وہ فیملی اندر جائے گی عمران خان صاحب سے بات ہوگی تو وہاں سے ہمیں یہ بھی مل سکتی ہے خبر کہ کیا پچھلے ایک ہفتے میں دو دفعہ عمران خان صاحب کے بیٹوں سے بات کروائی ہے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے یا نہیں؟ تو یہ دو پوائنٹس بڑے میجر ہیں اس ارڈر کے اور یہ ڈائریکٹ کرتے ہیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے ساتھ اور اگر ان پر عمل نہیں ہوتا تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین کی کاروائی انیشیٹ ہو سکتی ہے کہ پہلا معاملہ تو شفاء کا تھا انتظامیہ اسلام آباد کی تھی اب یہ تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات یا پنجاب حکومت کا معاملہ ہے تو وہ چیزیں جو ہیں وہ میرے خیال میں خراب بھی ہو سکتی ہیں تو اب کل کا دن بڑا اہم ہے کہ حکومت کیا باقی دو نکات پر سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق عمل کرتی ہے یا نہیں"

Saqib Bashir

46,234 views • 1 month ago

مریم نواز کی ضد !! لاہور میں بیٹھے باپ بیٹی اس بات کو نہیں مان رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ہاسپٹل شفٹ نہ کیا جائے ۔ عمران خان کو ابھی تک شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹل شفٹ نہیں کیا گیا۔ کچھ معتبر وکلا سے میری بات ہوئی انکا کہنا ہے کہ ججز نے یہ فیصلہ اس انداز میں لکھا ہے کہ کوئی لُوپ ہول نہیں چھوڑا، تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ آپ نے یہ جھول چھوڑ دی تھی۔ عدالت نے اس فیصلے میں موجود تمام پارٹیوں کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر لکھا ہے ۔ آج عمران خان کی بہن عظمیٰ خان جو پٹیشنر ہیں وہ اور انکے وکلاء نے اپنی تمام زمہ داریوں کو پورا کیا۔ عدالت کے فیصلے کی کاپی حاصل کی اور جیل انتظامیہ کو عدالتی فیصلے کے ساتھ ساتھ ایک ایک کاغذ کی کاپی جمع کروا دی ہے اور انھیں بتا دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے آڈرز ہیں کہ عمران خان کو 48 گھنٹے میں شفٹ کرنا ہے اگر نہ کیا تو توہین عدالت کی کاروائی ہو گی ۔ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا ۔ حکومتی ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی طبعیت کافی خراب ہے اسکے بعد عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ عدالت سے مزید وقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن20 تاریخ کی شام کے بعد سے ان پر توہین عدالت شروع ہو جائے گی ۔ (شہباز گل )

Rodium-A

69,401 views • 1 month ago

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,079 views • 3 days ago