Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

انصاف یوتھ ونگ ایبٹ آباد کے نوجوانوں نے کوہالہ میں کشمیر پختونخوا کی سرحد پر فوجی گاڑی کو سڑک پر روک کر اس کے آگے لیٹ کر بھرپور احتجاج کیا اور گاڑی کو آگے بڑھنے سے روکا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں...

15,551 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اسلام آباد میں سرعام بدمعاشی!! ابھی ایک شہری نے ویڈیو بھیجی!! کہہ رہاہے, پاکستان میں واقع ہی جنگل کا قانون ہے جوکہ آج ثابت ہو گیا آج میں اپنے کزنز کے ہمراہ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام آباد کی طرف اسلام آباد آرہے تھے, تو اسی دوران ایک TOYOTA AXIO گاڑی جسکو ایک شخص شراب میں دھت ہو کر 846-BMC رجسٹرڈ نمبری چلا رہا تھا جس نے پہلے دو تین بار ہماری گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی اور جس سے پہلے تو ہم نے بمشکل خود کو بچایا تو وہ شخص کبھی ہمارے آگے کبھی ہماری سائیڈ پر آکر سائیڈ دبانے کی کوشش کرنے لگا آخر کار ہم نے گاڑی اس سے پیچھے کر لی تو اس نے ہم سے آگے گاڑی بھگا کر آگے لے گیا آگے جا کر ایکسپریس وے کے عین درمیان میں گاڑی کھڑی دی اس میں سے نکل کے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دی اور گاڑی سے پسٹل نکال کر ہم پر تان لیا جو کہ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے عین اس وقت ہم نے ہمت کرکے فورا موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے گاڑی پیچھے کو بھگا لی اور اس طرح ہماری بچت ہوئی لیکن 130 پہ موٹروے پولیس اور 15 پر کال کرنے کے باوجود وہ بندہ بھاگ گیا یہ ہے آپ کے پنجاب اور اسلام آباد کی پولیس کی کارکردگی ایک بندہ سرعام ایکسپریس وے کے اوپر شراب پی کر گاڑی چلا رہا ہے اور لوگوں کی گاڑیوں میں ہٹ کر رہا ہے اور سرعام روڈ کے درمیان میں گاڑی کھڑی کرکے لوگوں پر اسلحہ تان رہا ہے اور پولیس کو بار بار کال کرکے اطلاع دینے کے باوجود وہ بھاگ جاتا ہے وہ بھی اتنی آسانی سے کہ جیسے اٹے میں سے بال نکلتا ہے ایک مشہور شاہراہ پر لوگوں کی جان کی یہ اہمیت ہے کہ کوئی بھی کہیں بھی سرعام روڈ کے درمیان کھڑا ہو کر پسٹل تان لیتا ہے باقی, اگر اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے!!

ZEShan ⚫

33,580 views • 1 month ago

نظریہ پاکستان کی جدو جہد – ڈھاڈر سے اٹھنے والی ایک روشنی میں نے اپنی جدو جہد اُس وقت شروع کی جب نظریہ پاکستان صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے عزم کیا کہ یہ نظریہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت بنے گا۔ میں نے گھر گھر جا کر ہر بچے، نوجوان اور بزرگ کو نظریہ پاکستان پر قائل کیا، اور وہ وقت آیا جب ہر گھر سے پاکستانی جھنڈا بلند ہوا ، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ڈھاڈر کی دھرتی پر محبتِ وطن کی جڑیں آج بھی گہری ہیں۔ آج اسی عوام نے کشمیر کی آواز بن کر اپنی ہمدردی اور یکجہتی کا روشن پیغام دیا۔ اس ویڈیو میں واضح دکھائی دے رہا ہے کہ چھوٹے بچے تک سائیکلوں پر اور پیدل اسی ریلی کے ساتھ دوڑ رہے ہیں؛ یہ محبّتِ وطن اور قربانی کا جذبہ ہے جو نسلوں سے منتقل ہو رہا لیکن افسوس کہ سیاسی گدھ آج بھی اس روشنی کو بجھانے کی سازش میں مصروف ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں پائیدار امن اور ترقی ہو، کیونکہ ان کی سیاست انتشار اور مفاد پرستی پر کھڑی ہے۔ اگر آج بھی حکومت میں بیٹھے جنگی مفاد پرست عناصر ہر محبِ وطن کے ساتھ مقابلہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں بجائے اس کے کہ نظریے کو پروان چڑھائیں تو یہ دراصل ان کی نیتوں کی کمزوری ہے۔ میں حکومت اور اس کے نمائندوں کو کھلے عام چیلنج کرتا ہوں: یہ جذبہ، یہ صفِ اول کا عزم اور یہ عوامی یکجہتی آپ بھی لا کر دکھائیے پر امن، آئینی اور عوامی انداز میں۔ اگر آپ اس جذبے کو زندہ نہیں کر سکتے تو ہمیں روکنے کی بجائے ساتھ مل کر اس نعمتِ وطن کو مضبوط کرنے کا راستہ اپنائیں۔ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہ شعور، وہ اتحاد اور وہ عوامی تحریک پیدا کر سکتے ہیں جو شاید طاقتور ترین حلقے بھی بے حد کوشش کے باوجود اس طرح نظریات کی پروان نہیں چڑا پاتے اور یہ سب ہم امن، قانون اور قوم کے مفاد میں کریں گے۔ ہماری لڑائی سیاست کے لیے نہیں، نظریے کے لیے ہے۔ ہماری جدوجہد کسی عہدے کے لیے نہیں، وطن کے وقار کے لیے ہے۔ ان شاءاللہ، ڈھاڈر کی یہ زمین پھر وہی پیغام دے گی پاکستان زندہ باد، نظریہ پاکستان پائندہ باد #Balochistan #Dhadar #DGISPR #NationalActionPlan #TLPMarchForPalestin

Babar Khan Khajjak (عبدالقادر)

22,298 views • 11 months ago

بلوچستان سے آئے انصاف مانگنے والے لواحقین اسلام آباد میں اپنی آواز سنانے پہنچے، مگر پریس کلب کے سامنے انہیں بیٹھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اردگرد خاردار تاریں لگا دی گئیں، ان کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں ہراساں کیا گیا اور وہاں سے نکال دیا گیا۔ اب وہ پریس کلب کے پیچھے، خاردار تاروں کے سائے میں، پُرامن انداز میں اور بغیر کسی گلے، شور و شکوے کے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ سڑک کے فرش پر آ کر بیٹھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنے غم، تکالیف اور دکھ کو خاموشی سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کبھی ان کے مخالف گروہوں کو سامنے بٹھا کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، یا نام نہاد صحافیوں کو بھیج کر ان سے بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کروائی جاتی ہے، اس دوران ان پُرامن مظاہرین پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور ان کی جدوجہد کو ناکام بنانے کے لیے مختلف حربے آزمائے جاتے رہے، پھر بھی وہ صبر اور ہمت کے ساتھ بیٹھے ہیں، اس امید پر کہ کوئی درد شناس آئے گا اور ان کی فریاد سنے گا۔ تکلیف و اذیت میں رہنے کے باوجود یہ مظاہرین پُرامن طریقے سے بیٹھے ہیں اس سے بڑھ کر پُرامن، جمہوری اور سیاسی اندازِ احتجاج اور کیا ہو سکتا ہے؟

Sammi Deen Baloch

17,894 views • 1 year ago

قرآن مجید انسانیت کے لیے راہِ ہدایت اور منشورِ عدل ہے۔ ربّ کائنات نے واضح حکم دیا ہے کہ نہ خود ظلم کرو اور نہ ہی ظلم کے آگے سرِ تسلیم خم کرو بلکہ ظالم کے چہرے سے نقاب نوچ کر اسے بے نقاب کرنا مؤمن کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال اس قرآنی حکم کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ آج اس سرزمین پر مسلط حکمرانوں نے ظلم، جبر اور بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ایسے ماحول میں ہر محبِ وطن اور باشعور پاکستانی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو، اپنی آواز بلند کرے اور حق کے علم کو سر بلند رکھے۔ آج جمعۃ المبارک کے روز ہم ملک بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں،ہمیں گھروں سے نکل کر ہر گلی، ہر کوچے اور ہر بازار میں اس ظالمانہ مسلط شدہ رجیم کے خلاف اپنی صدائے احتجاج بلند کرنا ہے۔ ہمیں ان ظالموں کے سامنے جھکنا نہیں، ان کے جبر سے خوفزدہ نہیں ہونا، بلکہ استقامت، ہمت اور مزاحمت کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ یقین رکھیں،جب ایک غیور قوم ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو تو اللہ کی سنت یہی ہے کہ باطل کو شکست ہوتی ہے اور حق کو غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔ #ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا #BlackDay

Senator Allama Raja Nasir

24,990 views • 10 months ago

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 views • 10 months ago