正在加载视频...

视频加载失败

انصافینز خدارا ایک دوسرے کو غدار غدار کہنا بند کیجئے۔ مخالفین کے وار کو سمجھئے۔ اپنی توجہ عمران خان صاحب کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی و آئین و قانون کی حکمرانی پہ رکھیں۔ پارٹی کے نام نہاد اندرونی اختلافات پہ نہیں اس فارم 47 کی ناکام حکومت کی...

23,841 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

11 条评论

Haider Ali 的头像
Haider Ali1 年前

آپ کہہ دیں علی امین گنڈا پور فیصل امین گنڈاپور پور بیان دے دیں ہم نے بل پر خان سے مشاورت کی ہے سارا مسئلہ فوری ختم ہو جائے گا اتنی سی بات ہے

imran khan 的头像
imran khan1 年前

بس کروں خدا کے لیے ان جذباتی تقاریر سے تم کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب وقت اتا ہے کڑے ہونے کا تو اس وقت تم لیٹ جاتے ہو منافقت کا اعلی مثال ہو تم

Ujii 的头像
Ujii1 年前

سب سے زیادہ کمپرومائزڈ انسان آپ ہیں، آپ کو ہم اتنی زیادہ عزت دی، احترام دیا، ووٹ دیا، اور آپ کو لفظوں اور زلفوں سے فرصت نا ملی

Dr Shad Katuu 🌐 的头像
Dr Shad Katuu 🌐6 年前

Open access ~> "Using Web Analytics to Assess Traffic to the Mandela Portal: The Case of African Countries" in New Review of Information Networking #BigData #DataTrustworthiness #Ghana #GoogleAnalytics #Kenya #NelsonMandela #Nigeria #SouthAfrica #Tanzania

Humera 的头像
Humera1 年前

انصافینز کی توجہ تو عمران خان ہی کی طرف ہے، توجہ تو آپ کی ہٹی ہوئ ہے۔

Haider Ali 的头像
Haider Ali1 年前

آپکی بات بلکل درست ہے جناب اب مسئلہ یہ ہے کہ علیمہ خان سمیت PTi کے کافی رہنماؤں نے منرلز بل کو عمران خان کی قید اور رہائی سے جوڑ دیا ہے جس پر دو دن سے بہت زیادہ آواز اٹھ رہی ہے اب KPK حکومت اس پر عمران خان سے مشورہ کرکے آگے بڑھائے ساری ٹینشن ختم ہو جائیگی

پاکستانی 的头像
پاکستانی1 年前

خان کی رہائی تک مائنز اور منرلز بل نا منظور

SQ 的头像
SQ1 年前

Sunntay Hain Dabbay Paao Koi Baal Banna Ke Ayya Hai. Baari Baari Phenkta Hain.

Mazlum Khan 1 的头像
Mazlum Khan 11 年前

مردان کے مداری لوگوں کو بے وقوف بنانا بند کرو۔اپ لوگوں کی اصلیت قوم کو معلوم ہوچکی ہے۔پارٹی کےکالے بھیڑوں میی اپ سر فہرست ہے۔یہ جوظلم جبر تشدد اور قتل عام کررہا یہ جعلی حکومت نہیی بلکہ آپکےپنڈی مالکان کرتےہے۔لیکن آپ تنقیدجعلی حکومت پرکرکےلوگوں کو بےوقوف بنانےکی ناکام کوشش ہے

ihsan khan 的头像
ihsan khan1 年前

آپ کا کیا بہترین عزت بنا ہوا تھا اپنے بزدلی کے وجہ سے وہ بھی خاک میں ملا دیا آپ نے

M Azam khan 的头像
M Azam khan1 年前

Ghadar

相关视频

🚨 حفیظ اللہ نیازی صاحب کی نظر میں پاکستان کا اصل کرائسز اور اس کا حل پاکستان کا اصل کرائسز یہ ہے کہ پورے عوام کراچی سے چترال تک اور بلوچستان تک اس جماعت تحریک انصاف کے ساتھ ہیں جس کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے، پاکستان کی عوام موجودہ نظام کے لیے اجنبی ہو چکی ہے ، جب ملک کی اکثریت نظام کا حصہ نہ ہو اور اپنے ہی ملک میں اجنبی کے طور پر رہ رہی ہو تو معاملات کیسے چلیں گے؟ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے بائی دا پیپل ، جمہور کی آواز ،اکثریت کی آواز، مگر جب اکثریت آپ کے ساتھ آن بورڈ نہ ہو ، سنک نہ ہو ، تو اصل کرائسز یہ ہے اس کو حل کریں، اکثریت آپ سے ناراض ہے اس لیے وہ تخریب کاری کرنے والوں کو بھی سپورٹ کرتے ہیں کہ پاکستان کو تکلیف پہنچے ، آپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس ناراض اکثریت کو آن بورڈ کیسے کرنا ہے؟ ان کو کاٹ کر بحیرہ عرب میں نہیں پھینک سکتے، پاکستان سے الگ نہیں کر سکتے ، عمران خان کے ساتھ شاید سب سے زیادہ اختلافات میرے ہوں لیکن ہم زمینی حقائق کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟ عمران خان کو آن بورڈ کیے بغیر معاملات نہیں چل سکتے ، جائیں اور جیل جا کر اس سے بات کریں، عمران خان سے کہیں کہ ہمیں ملک کی خاطر آپ کی مدد چاہیئے، خان سے کہیں کہ خدا کے واسطے ہم آپس میں بعد میں نمٹتے رہیں گے لیکن اس وقت ملک کی خاطر ہمیں اپنی مدد دیں، اگر عمران خان یہ مدد دے دیں تو یہ ان کی مہربانی اور بڑا پن ہے ، حفیظ اللہ نیازی صاحب کی مہرین منان کے پروگرام میں گفتگو

Siddique Jan

83,177 次观看 • 1 个月前

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 次观看 • 5 天前

ایک بات میں ذاتی طور پر کہہ رہا ہوں، کوئی خفا نہ ہو، یہ تحریکِ انصاف کے اکابرین۔ میں سیاسی کارکن ہوں۔ یعنی ایک آدمی Imran Khan جو پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے، کروڑوں کے لوگ فالوور ہیں، اس کی ملاقات پہ پابندی۔ اب ایسے حالات بنائے جا رہے ہیں، کہ مائنس عمران خان۔ ​یہ جہاں سے بھی ہوگا، اگر خدانخواستہ، راجہ صاحب کی طرف سے ہوا، عمران خان کے خاندان کی طرف سے بھی ہوا یا سرکار اور فوج کی طرف سے ہو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نہ صرف اس کی مذمت کرے گی بلکہ مزاحمت کرے گی۔ ​کسی کو یہ اختیار نہیں، لوگ چاہتے ہیں عمران خان کو، تم کون ہوتے ہو؟ یہ آپ نے پٹریاٹ بنا کے کیا کیا نتیجہ نکلا؟ اپ نے مسلم لیگ کو 15، 14 گروپوں میں تقسیم کیا نتیجہ کیا ہوا؟ خدا کے لئے عمران خان میرا نہ چچا ہے، نہ ماموں ہے، نہ خالہ زاد ہے، نہ میں اس کی پارٹی کا ہوں۔ لیکن پاکستان کے عوام اس کو سپورٹ کر رہے ہیں، Let him come! اور جتنی دیر اس کو جیل میں رکھو گے، یاد رکھو، یاد رکھو آپ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارا وہ قلندر بن گیا۔ ​اب ذوالفقار علی کی قبر، اس کی بیٹی کی قبریں، اس کے بچوں کی قبریں حکمرانی کریں گی اس سارے علاقے پہ۔ اب یہ کام تم نے عمران سکیمش کے ساتھ کرنا ہے؟ خدا کو مانو رحم کرو اس ملک پہ۔ یہ ملک ہمارا ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی مائنس عمران خان کرنے والوں کو وارننگ

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

10,764 次观看 • 3 个月前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,845 次观看 • 19 天前

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 次观看 • 3 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

"ان حالات میں ایسے مواقع کو ضائع کرنا اس ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پاکستان کی مقبول ترین جماعت عمران خان کی ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اس وقت ضمیر کے قیدی ہیں، جو اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان ٹوٹا نہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قیدِ تنہائی (Isolation) میں رکھ کر اذیت دی جا رہی ہے۔ ہماری کسی سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں؛ نہ کسی فوجی سے، نہ شہباز شریف سے اور نہ ہی نواز شریف سے۔ ہمارا اختلاف صرف ان قوتوں سے ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتیں، اور جو غریب عوام کے لیے روٹی پانی کا بندوبست نہیں کرتیں۔ ہم اس کے خلاف نہ تو گالیاں دیں گے اور نہ ہی پتھر اٹھائیں گے، بلکہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا جس میں ہم جلسے اور جلوس نکالیں گے۔ کل کے واقعے کے حوالے سے تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت یہاں موجود ہے، جو آپ کو مزید تفصیلات بتائے گی۔ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان اور ہماری تمام اتحادی جماعتیں ان کے ساتھ سو فیصد یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ایک 'متحدہ اپوزیشن' بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہو رہی ہے جس کے لیے ہم سب کوشاں ہیں۔ خدا اس اتحاد کو نظرِ بد سے بچائے، تاکہ ہم اس بحران سے نکل کر عوام اور فوج دونوں کی جان چھڑا سکیں اور ایک حقیقی جمہوری پاکستان کی تشکیل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔ " قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

52,683 次观看 • 1 个月前

اگر میری وجہ سے پارٹی میں انتشار پھیل رہا ہے اگر میری وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے تو میں پارٹی سے جانے کے لیے بھی تیار ہوں. مجھے کسی سے کوئی اختلاف نہیں میری خواہش ہے کہ عمران خان کی پارٹی اسی طرح قائم و دائم رہے جس طرح عمران خان نے اس کو 20 سال سے زائد عرصہ محنت کی اور بنایا، ایک تحریک چلائی پاکستان کے نوجوانوں کو اٹھایا۔ یہ کسی ایک شخص کی جماعت نہیں ہے ۔ میری خواہش ہے کہ تمام لیڈرشپ سامنے ائے، گراؤنڈ پہ ائے، مینڈیٹ چوری ہوا ہے پاکستان کی عوام نے اٹھ فروری کو تاریخ رقم کی ہے مشکل سے مشکل حالات میں ووٹ دیا لیکن ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔ ہمارا مینڈیٹ واپس کرنے کے لیے ہمیں احتجاج کی ضرورت ہے اور ہم احتجاج کریں گے۔ عید کے بعد پوری قوم کو نکلنا چاہیے، پوری پارٹی کی قیادت کو نکلنا چاہیے، پوری لیڈرشپ کو نکلنا چاہیے، اور ہم احتجاج کریں گے۔ ہمارے لیڈر جیل میں ہے ہمارا ٹارگٹ یہی ہے کہ ہم نے اپنے لیڈر کو باہر کیسے لانا ہے اور ہم نے یہ مینڈیٹ چوری کا کس طرح ریکور کرنا ہے جو ہماری قوم نے عمران خان پہ اعتماد کیا اور اسے مافیا نے چوری کر کے چوروں کے ٹولے کو ملک پر مسلط کیا۔

Sher Afzal Khan Marwat

220,980 次观看 • 2 年前

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے

Khurram Zeeshan

55,199 次观看 • 5 个月前

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 次观看 • 7 天前

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 次观看 • 9 个月前

میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں۔ خبردار! بیدار رہو! آنکھیں چار کرو! عمران خان کو جیل میں رکھ کر مائنس عمران خان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی طرف سے، خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ گناہ ہم کسی کو کرنے نہیں دیں گے۔ کسی کو! چاہے وہ عمران خان کے گھر سے ہو، چاہے عمران خان کی پارٹی سے ہو، چاہے کسی مارشل لاء ہیڈ کوارٹر سے ہو، چاہے فوجی ہیڈ کوارٹر سے ہو۔ عمران خان نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ عمران خان سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے، کوئی اس کے متعلق کچھ اور کہہ سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کا سب سے مقبول ترین اور پاور فل لیڈر ہے۔ وہ مردِ حق ہے! اس کو کسی صورت بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تماشے بند ہونے چاہئیں، میں پھر ریپیٹ کرتا ہوں۔ میں سیاسی کارکن ہوں اور میں سونگھ لیتا ہوں باتیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ تماشہ ہو رہا ہے کہ اگر عمران خان باہر نہیں آتا تو فلاں کو نکال لو، فلاں کو نکال لو۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی انسان جیل میں نہ رہے، لیکن اگر سارے انسان رہا ہوتے ہیں اور عمران خان جیل میں رہتا ہے، تو ہم کہیں گے مردہ باد! ہم کہیں گے مردہ باد مائنس عمران فارمولا! عمران نے کیا گناہ کیا ہے؟ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

29,485 次观看 • 3 个月前

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 次观看 • 1 个月前