Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

انڈیا کی یہاں کولمبو تک چیخیں آ رہی ہیں اس حد تک رونا، دھونا، چیخنا، چلانا، اتنا زیادہ شور، اتنی زیادہ تکلیف، کبھی کہتے ہیں کہ براڈکاسٹرز کا نقصان ہی کوئی نہیں ہے، امبانی گروپ، ریلائنس موبائل بہت امیر ہیں، ان کو فرق ہی نہیں پڑتا تو پھر چیخ...

34,178 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔ اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔ یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔

Arbaz Raza Bhutta

109,996 görüntüleme • 2 ay önce

سلمان اکرم راجہ نے ابھی اسپیس میں indirectly مجھے ٹاؤٹ کہا ہے۔ میں سلمان اکرم راجہ سے کہتا ہوں کہ اپنی بات کا ثبوت پیش کریں۔۔۔۔ ثبوت پیش کریں، آپ نے میرا نام لیے بغیر اتنی بڑی بات کی ہے۔ آپ کو ثبوت پیش کرنا پڑے گا کہ میری ڈوریں کون ہلا رہا ہے۔ میں اپنی سچائی کے لیے قرآن پر حلف اٹھا سکتا ہوں، کیا آپ حلف اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ میں ٹاؤٹ ہوں؟ کیا آپ قرآن پر حلف اٹھا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے میرا کیس نہ لینے کے لیے علی بخاری کو منع نہیں کیا؟ میری رہائی کے بعد 26 نومبر کے کیس میں، آپ نے آئی ایل ایف کو منع نہیں کیا کہ حیدر کا کیس کوئی نہیں لے گا میں اڈیالہ کے باہر آپ سے سوال کرتا ہوں، اور آپ جواب نہیں دیتے۔ آپ نے اسپیس میں یہ کہا کہ میں ایسے لوگوں کو کبھی جواب نہیں دوں گا اور ہمیشہ ان کو نظر انداز کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا جن کی ڈوریں کوئی اور ہلا رہا ہو اور ان کے پیچھے وہی لوگ ہیں جو ہمارے خلاف ہیں اور ان کو پلانٹ کیا گیا ہے سلمان اکرم راجہ، آپ نے indirectly خان کے ورکر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر الزام عائد کیا ہے۔ راجہ جی، ثبوت پیش کریں۔

Haider Saeed

12,899 görüntüleme • 1 ay önce

آپ سے عوام کیوں نفرت کرتی ہے اب ؟ دیکھ لیں اس ویڈیو کو اور دوبارہ کسی آہنی محفل میں اپنے پسند کے بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے یہ جھوٹ مت بولنا کہ آپ کے اور عوام کے درمیان لازوال رشتہ ہے آپ 80% عوام کے دلوں کی محبت کھو چکے ہیں 10% نوکری کرتے ہیں 10% کو آپ نے اشرافیہ بنایا ہوا ہے باقی 80% عوام سچ دل سے اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہے اس وقت آپ عوام کی نظروں میں بہت حد تک گرچکے ہیں یہ سچائی ہے کوئی جھوٹ یا بغض نہیں۔ یقین نہیں تو بھیس بدل کر عوام میں نکلو گلیوں بازاروں سڑکوں میں عوام آپ کو بددعائیں اور شدید نفرت کرتے ہوئے نظر آئے گی ۔ گھاٹے کا سودا کیا آپ نے چوروں اور امریکہ کو تحفظ دے کر آپ ہار چکے ہو بس ماننے کی دیر ہے تاریخ ظالم ہے معاف نہیں کرتی سر نہیں معاف کرتی آپ بے شک ہم سب محب وطن لوگوں کو غدار کہ دیں مگر آپ پار چکے ہیں عوام آپ کے پیچھے نہیں ہے آپ کو اس وقت پتہ چلے گا جب کوئی طاقتور آپ کے مقابلے آئے گا وہ طالبان کی صورت ہو یا ہندوستان کی صورت تب آپ کو نظر آئے گا عوام اور آپ میں کتنی دوری ہے

Rashid Mehmood Bangash

101,467 görüntüleme • 3 yıl önce

جب تک سب مل کے نہیں بیٹھیں گے اور مسائل کا حل نہیں نکالیں گے ہم دائرے کا سفر کرتے رہیں گے دائرے کا سفر ختم ہونا چاہیے، پاکستان کو آگے جانا چاہیے پاکستانیوں کا مقدر بھوک اور غربت اور ناانصافی نہیں ہے مختلف مواقع پہ انصاف کے نام پہ یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا انصاف دیا ہی نہیں گیا لوگ حکومت میں بغیر تیاری کے آ جاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے چلانے کا میکنزم کیا ہے آپ بیٹیوں، بچیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی فیصلہ کریں جذبات میں آ کر نہ کریں، سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں وقت آنا چاہیے کہ ہمیں ائی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں جب آپ پیسے مانگنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چلے جائیں اپنے سے سو گنا چھوٹے ملکوں کے آگے جا کے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا پھر ہم کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں ہے، جب ہم پیسے مانگیں گے، خیرات مانگیں گے تو کون ہماری عزت کرے گا؟ یہ درسگاہ صرف ٹیکسٹ بک کے لیے نہیں ہے یہ آپ کی گرومنگ اور روحانی نشونما کی درس گاہ ہے آپ کے اساتذہ کے لیے ذمہ داریاں ہیں کہ وہ آپ کو اس طریقے سے تیار کریں کہ آپ جہاں رہیں میرٹ پر کام کریں میں نے بھی زندگی میں بہت قیمت ادا کی ہے لیکن ہر مشکل سے آپ نکل ہی آتے ہیں، اگر مشکل آتی ہے تو اس کے بعد آسانی بھی آ جائے گی ریل حادثہ ہمارے کم وسائل کا شاخسانہ ہے، ہم اس کو انویسٹیگیٹ کر رہے ہیں چائنیز کے ساتھ ایم ایل ون کا ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے فیصلہ تو ہم 2018 میں کر گئے تھے مگر پھر سب کچھ بی فریزر میں چلا گیا یہ میں نے ڈنکے کی چوٹ میں سب کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کو بدلنا پڑے گا اور ویسے ہی بدلنا پڑے گا جیسے دنیا میں باقی ایئر لائن کو بدلا گیا ہے آج پی آئی اے کی حالت بری ہو گئی ہے کیونکہ اس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کی بنیاد پر کام نہیں کیا گیا اسلام آباد کا ایئرپورٹ ہم 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کریں گے یہ اسلام آباد کا ایئرپورٹ جوخالی ایئرپورٹ نظر آتا ہے یہ بھرا ہوا ایئرپورٹ ہوگا، دنیا بھر کے برانڈز اس کے اند ر ہونگے اور اس کی کپیسٹی 90 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ پہ چلی جائے گی یہ چند چیزیں جو میری ذمہ داری تھی میں نے سمجھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کی بات ہے بہت سے کام ہیں جو ہو رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا

Khawaja Saad Rafique

40,146 görüntüleme • 3 yıl önce

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,781 görüntüleme • 1 ay önce