Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آئین ، قانون اور عملداری: مزمل سہر وردی ، حسن ایوب اور منیب فاروق سے گفتگو۔ یہ کہنا کہ ماضی میں بھی ایسے ہی سیاسی لیڈران کے مقدمے چلتے تھے حقائق کے منافی ہے، لیڈران عدالت آتے تھے میڈیا سے بات کرتے تھے، کیا علیمہ خان دہشت گرد ہیں...

25,162 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

"ماضی کے منیب فاروق اور غریده فاروقی " غلاظت اور کالک میں ایک بہت خاص بات ہوتی ہے - یہ ہمیشہ اندر چھپی نہی رہ سکتی - کالک باہر آتی ہی آتی ہے اور اپنا داغ دکھاتی ہی دکھاتی ہے - اسی غلاظت عیاں ہو کر اپنا تعفن واضح کرتی ہی کرتی ہے کیوں کہ اس کی سرشت میں ہی یہی ہے کہ یہ خود اپنی قباحت عیاں کرے - اس کلپ میں بھی یہی ہورہا ہے - ماضی کی غلاظت اور کالک آج خود کو خود عیاں کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہویے ذرا بھی شرم ' بھرم ' ندامت ' ہزیمت اور قباحت محسوس نہی کر رہی - خیر ان کا حال دیکھ کر بھی ان کے ماضی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر آج یہ مصلحت کے شامی ہیں تو تب بھی کونسا کوئی “چی گویرا” ہونگے - آج بھی گوبر کو "گجریلا" ثابت کرتے ہیں اور تب بھی بلغم کو "مقیت شہد" لکھتے ہونگے میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ ہر دور میں ایسے صحافی رہے ہیں جو اپنے قلم سے آمروں اور ڈکٹیٹرز کے بوٹوں میں تسمے ڈالتے رہے ہیں - آج اگر آپ کو غریده فاروقی ' طلعت حسین ' ' منیب فاروق ' حسن ایوب اور کامران شاہد نظر آتے ہیں تو ماضی میں بھی مجیب شامی جیسے صحافی موجود رہے ہیں جو آج بہت فخر سے بتا رہے ہیں کہ "ہم کس طرح ڈکٹیٹر ضیاء کو قائل کرتے تھے کہ سیاسی جلسوں پر پابندی ہونی چاہیے' بیانیہ تو وہ ہے جو ہم جیسے صحافی آپ کیلئے بنا ہی دیں گے ' لیکن آپ کو انتخاب سے پہلے احتساب کروانا چاہیے وغیرہ وغیرہ" اسی طرح بیس تیس سال بعد کوئی غریده فاروقی' کوئی حسن ایوب' منیب فاروق بیٹھا ہنس ہنس کر بتا رہا ہوگا کہ کس طرح ہم 26 نومبر 2024 کا دفاع کرتے تھے’ کس طرح چھبسویں اور ستائیسویں ترامیم کو “آب حیات” قرار دیتے تھے ‘ اور کس طرح آمروں کو کہتے تھے کہ فروری 2024 کے انتخاب میں آپ جو مرضی گند کرلیں ‘ ہم عوام میں آپ کی مرضی کا بیانیہ بنالیں گے - اس مملکت خدا داد نے بھی کیا نصیب پایا ہے - آمر ملے تو ہٹلر ' منصف ملے تو سوداگر سیاستدان ملے تو گداگر اور صحافی ملے تو ......... بنجر (جو آپ سننا چاہ رہے ہیں وہ لفظ میں نہیں لکھونگا کیوں کہ میں گالیاں نہیں لکھتا 😊 )

Dr Waqas Nawaz

35,731 Aufrufe • vor 8 Monaten