正在加载视频...

视频加载失败

آپ کرتے کیا ہیں ؟ میں اسٹوڈنٹ ہوں، مجھے قانون کی نظر میں دہشتگرد کہا جاتا ہے۔ وہ ایسے ابھی آپ نے کہا سوفٹویئر اپڈیٹ، مجھے گھر سے تین بار اٹھایا گیا ہے ہمارا گناہ یہ تھا ہم سڑک پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لیکر چل رہے تھے...

17,580 次观看 • 8 天前 •via X (Twitter)

9 条评论

Save Pakistan 的头像
Save Pakistan8 天前

کہتے پنجاب میں غیرت مند ورکرز نہیں ہے یہ کیا ہے؟

Bohot maza 的头像
Bohot maza8 天前

Love you

Mubbashir abbas 的头像
Mubbashir abbas8 天前

Mashallah! What a conviction and clarity of thoughts pf young man

Tayyab Bajws 的头像
Tayyab Bajws8 天前

What person he is! He needs to be highlighted.

Faiyyaz Ahmed 的头像
Faiyyaz Ahmed8 天前

🤲🤲🤲🤲🤲💞💞💞💞

Save Pakistan 的头像
Save Pakistan8 天前

🥹🥹

Shaa Jaa 的头像
Shaa Jaa8 天前

Time for talking is over just shoot these bastard police officer now

RahatForAll 的头像
RahatForAll7 天前

Dont bother. They have to go

سرکار 的头像
سرکار7 天前

لمبی ہے غم کی رات مگر رات ہی تو ہے 💔💔

相关视频

بریکنگ نیوز 🚨مظہر برلاس کا بڑا انکشاف۔ اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والا 80 سالہ بوڑھا انگیز عمران خان کا دیوانہ نکل آیا خان کی ایمانداری کی گواہی دے ڈالی 🔥🔥 عمران خان ایک اثاثہ ہے آپ یقین کریں یہاں اسکاٹ لینڈ میں ایک انگریز بوڑھا دیہاتی آدمی اُس نے کہا میں نے زندگی میں پاسپورٹ نہیں بنایا وہ اسی سال کا ہوگا اور میں اسکاٹ لینڈ سے باہر گیا ہی نہیں تو میں نے کہا پھر اُس نے کہا آپ پاکستان سے ہیں مجھے عمران خان کی بڑی فکر ہے میں نے کہا آپ کو کیوں فکر ہے؟ کہنے لگے نہیں وہ انصاف پسند آدمی ہے وہ دیانتدار آدمی ہے وہ کرکٹ میں جب تھا تو وہاں یہ تھرڈ امپائر کا سارا چکر اُس نے چلایا وہ بے ایمانی کو چیٹنگ کو ناپسند کرتا ہے تو میں بڑا پریشان ہوں میں نے کہا آپ تو پاکستانی بھی نہیں ہیں آپ کو پریشانی کیوں ہے؟ اُس نے کہا میں انسان تو ہوں ناں میں انصاف پسند انسانوں کو پسند کرتا ہوں جو قانون کی بالادستی پر یقین کرتے ہیں اُن انسانوں کو پسند کرتا ہوں تو یہ ہے عمران خان جسکی ساری دنیا دیوانی ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

16,050 次观看 • 2 个月前

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,040 次观看 • 2 个月前

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,723 次观看 • 6 个月前

آج میرے کیس کی پیشی تھی۔ آئی ایل ایف کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ میرا کیس مزید نہیں لیں گے اور مجھے اپنا پرائیویٹ وکیل کرنا ہے۔۔۔۔ جج صاحب نے بھی ریمارکس دیے کہ کیس آپ کو ہی لینا چاہیے۔ میں نے اگے سے کہا کہ میرے اوپر پی ٹی ائی کے احتجاج کا کیس ہے تو کیس بھی انہیں لینا چاہیے تو تب محترمہ وکیل نے کہا کہ آپ نیگیٹو نہ ہوں، ہم ٹرائل کیسز نہیں لیتے، ہم صرف ضمانتوں کے کیس کرتے ہیں۔ لیکن ایک اور کیس عامر مغل اور باقیوں کے خلاف ہو رہا تھا اور اس کیس کا بھی ٹرائل جاری ہے۔ اگر آئی ایل ایف والے ٹرائل کیسز نہیں لیتے تو پھر اس کیس کو کیا کیا جا رہا ہے؟ میرے کیس میں ہی کیوں کہا گیا کہ ہم ٹرائل نہیں لیتے؟ یہ ہیں آئی ایل ایف کے حالات۔۔۔۔ یہ نااہلی ہے آئی ایل ایف کی پارٹی پر تنقید کرنے والوں کے کیس شاید آئی ایل ایف نہیں لیتی یا اگر لے تو سپریم کورٹ تک بات کو پہنچا دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آئی ایل ایف کے وکیل میرے کیس کے لیے نہیں آئے تھے وہ کسی اور کیس کے لیے آئے تھے میں جب وہاں گیا تو انہوں نے دیکھا اور میرے پاس آگئے ورنہ انہیں میرے کیس کا معلوم بھی نہیں تھا۔۔۔۔

Haider Saeed

42,011 次观看 • 4 个月前

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

188,410 次观看 • 1 个月前