正在加载视频...

视频加载失败

آپ کو سیالکوٹ فیکٹری کا وہ واقعہ تو یاد ہوگا جس میں سری لنکن منیجر کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا یہ شخص ان ملزمان میں سے ایک ہے اس کی بے بسی چیک کریں روتے ہوئے لہجے میں کہہ رہا اس کی بیگم...

36,637 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

28 条评论

TROY 的头像
TROY5 个月前

لوگوں کو یہ ڈھکوسلے مت دو کہ عوام تو بے چاری ہے۔ کیوں عوام کا فرض نہیں کہ جو مولوی اسکو کچھ سکھا رہا ہے وہ اسکا پکا ثبوت مانگے ؟؟؟ کیا اسلام کہ تعلیم سیکھنا مرد عورت پر فرض نہیں ؟

Muhammad Sohaib Tariq 的头像
Muhammad Sohaib Tariq5 个月前

سزائے موت ایک مؤثر اور عبرت ناک سزا ہے۔ جو بھی اس سنگین جرم میں ملوث ہو، اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو، اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اگر صوفی صاحب برین واش ہوئے بھی ہوں تو بھی اپنے اعمال کی سزا دُنیا میں بھگت کر جائیں!

RęŤřò🎯 的头像
RęŤřò🎯5 个月前

حرام زادے جانور اس وقت ان کو جنت نظر ارہی تھی ابھی معصوم بن رہے ہیں

khalid jutt 的头像
khalid jutt5 个月前

یہی وہ زہر ہے جو ڈی ایل پی اور ہمارے درندے اسلامی رہبر ہمارے اندر بھر رہے تھے بھلا ہو حکومت کا جس نے اس ناسور کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہے ابھی بھی کچھ گئے ہیں جو توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات قائم کرواتے ہیں ان کا کلام کما کرنا بھی بہت ضروری ہے

جاوید بلتی 的头像
جاوید بلتی5 个月前

ایسے شر پسند لوگوں کو یا تو زندگی بھر جیل میں رکھنا چاہیئے یا پھانسی دے دی جائے اس بے چارے پریا نتھا کمار نے کوئی غلط کیا بھی نہیں اور ان درندوں اور عقل کے اندھوں نے زندہ جلا ڈالا

Rocky 的头像
Rocky5 个月前

اُس ہجوم کا حصہ بننے والے کسی شیطان یعنی مولوی کو معافی نہیں ملنی چاہئے۔ بلکہ انکو بھی سزائے موت دیکر ویڈیو انکے گھر والوں کو دکھانی چاہئے۔ جس طرح انہوں نے حضور نبی کریم کا نام استعمال کرکےایک غیر مسلم پر ظلم کیا، انکو زندہ جلا دینا چاہئے۔

Ali Ehmed 的头像
Ali Ehmed5 个月前

Ultaa latkao in bherwayy Haram zaaady insano ko bherwaa sharam bhi nahi arahi keh rha Maaf krdiyaa Kuttay ki nasal shakal sy Suarr lag rhaaa Randii zaaat

Imran khan 的头像
Imran khan5 个月前

اس کتے کے بچے کو پھانسی کی سزا ہونی چاہیے

Faisal Malik 的头像
Faisal Malik5 个月前

نہیں ان خبیثوں کو شریعت کے مطابق سزا ملنی چاہیے سب سے پہلے اسلام کوُاستعمال کرکے قتل کرتے ہیں اور بعد میں اسلامی شریعی قانون سے جان چھڑواتے ہیں ان کا سلام کہاں ہے سب ڈرامے بازی کرتے ہیں اسلام کے نام پر ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے

A Patriot 的头像
A Patriot5 个月前

یہ صرف اور جہالت کی وجہ سے ھوتا ھے اس جمھورا پٹوارستان میں

Abdul Rehman 的头像
Abdul Rehman5 个月前

جوبھی جرم کرے قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے ریمنڈ ڈیوس نے 3پاکستانیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اسلام آباد میں ایک امریکی نے تیز گاڑی کے نیچے 2 پاکستانیوں کو مارڈالا جیل میں ہیں یاچھوز دیا گیا؟

Saad Usama 的头像
Saad Usama5 个月前

jb qanoon ki bala dasti na ho to esa wakyat hota rhain ga...jesa Asea malona ko frar krwaya gea tha....gostaka rasool ki saza sirf tan sa joda..

Aawaz-e-Dost 的头像
Aawaz-e-Dost5 个月前

لقمان کو الٹا لٹکا دیا جائے

AlibinSufyan118 的头像
AlibinSufyan1185 个月前

تم لوگوں کے حرامزادے لیڈروں کو کچھ کہا جائے تو ماں بہن کی گالیاں اور قتل و غارت مچا دیتے ہو، 9 مئی سامنے ہے۔ اور اگر بات مذہبی معاملے کی ہو تو وہاں بھونکنے لگ جاتے ہو سارے کے سارے۔ بجائے معاملات کی حساسیت سمجھنے کے۔ اگر ایک چیز غلط ہوئی ہے تو وہ کرنے والے کی غلطی ہے نہ کہ سب کی۔

Tariq Ali Khan  的头像
Tariq Ali Khan 5 个月前

Regret kills a Sinner day and night .

™ 的头像
™5 个月前

سزا نہ ملی تو باہر جا کر مزید شیر ہو جائیں گے

Anees 的头像
Anees5 个月前

لخ لعنت اس ملعون پر

haroon ksa 的头像
haroon ksa5 个月前

Itna zulm keya gya tha wahan k meray heesab se wahan kharay sirf dekhnay walo ko b umer Qaid ki saza honi chaheay.

آزاد قیدی 的头像
آزاد قیدی5 个月前

کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہئیے ایسے لوگوں کو

Inguti 的头像
Inguti5 个月前

ان کو رکھو پچیس سال پورے ہونے تک

گل خان 的头像
گل خان5 个月前

میڈیا بلکہ سوشل میڈیا اب جیلوں میں 302 کے قیدیوں کے انٹرویو چلا رہا ہے کیوں وجہ؟ صولت مرزا کا انٹرویو پھانسی گھاٹ سے اس قت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کراچی کی ایم کیو ایم کے خلاف چلایا پھر کیا ہوا ؟ آج بھی الطاف حسین کا ووٹ بنک قائم ہے

Khizar Hayat 的头像
Khizar Hayat5 个月前

Kam bohat acha kiya ta uske wife se ghalte se maaf hua hai or tumhare shakal shut karne ke kabil hai

No Name Pashtoon 的头像
No Name Pashtoon5 个月前

اس کا کچھ کروا دیں پلیز حکومت کو بول دے کہ جلد از جلد پھانسی پر چڑھا دے اسے

Never give up 的头像
Never give up5 个月前

,اس کی شکل پر کےنی پیاری لعنت برس رہی ہے

Wo Kon Tha 的头像
Wo Kon Tha5 个月前

اس کی باڈی لینگوئیج ہی خطرناک ہے، اگر بیس سال بعد باہر آیا تو پھر کوئی نیا کارنامہ کرے گا، جیل میں ہی اس کو پار کر دیں تو اچھا ہوگا

Mr Devil 的头像
Mr Devil5 个月前

Surah Al-Baqarah (2) ki ayat number 179 hai. Aayat:وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(Al-Qur'an, Surah Al-Baqarah 2:179) Tarjuma:"Aur ae aqal walo! Qasas (badle) mein tumhare liye zindagi hai, taake tum (qatl aur khoonrezi se) bacho.

Muhammad Nadeem 的头像
Muhammad Nadeem5 个月前

ایسے بیغرت لوگوں کو معافی نہ دی جائے

BloodyCivilian🇵🇰 的头像
BloodyCivilian🇵🇰5 个月前

Q? damag sab ko dia h Allah ne.

相关视频

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 次观看 • 24 天前

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 次观看 • 1 年前

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 次观看 • 2 个月前

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,743 次观看 • 7 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

ضمیر کے مقتل میں انصاف کا جنازہ: جس معاشرے میں انصاف کے ایوان مقبوضہ ہو جائیں، وہاں صرف فیصلے صادر ہوتے ہیں، عدل نہیں ہوتا۔ آج انصاف کے ایوانوں سے ایک بار پھر انصاف کے قتل کی وہ سدا گونجی جس کا ڈر اس ملک کے ہر باضمیر شہری کو تھا۔ ارشد شریف وہ شخص جس نے سچ کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی، اس کے کیس کی فائل کو بند کر دینا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی اخلاقی موت کا اعتراف ہے۔ فسطائیت کے اس دور میں ترازو طاقتور کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ جب عدالتیں مقبوضہ ہوں وہاں ثبوت نظر انداز کرکے طاقتوروں کی منشا پر فیصلے ہوتے ہیں۔ ارشد شریف کا قصور یہ تھا کہ اس نے اس سیاہ نظام کے چہرے سے نقاب الٹنے کی جرات کی تھی جسے آج مقدس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشدشریف شہید محب وطن پاکستانی ،ایک حق اور سچ کی آواز سے کینیا کی گمنام سڑکوں پر جینے کا حق چھینا گیا، اور آج اپنے ہی وطن کی عدالتوں نے اس کی یاد پر مٹی ڈال کر اس جرم میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ ایک ریاست دو دستور کا عملی نمونہ پاکستانی عدالتوں میں آئے روز دیکھنے کو مل رہا جہاں عام آدمی کے لیے قانون کی گرفت آہنی، قابض سیاہ نظام کے خلاف بولنے والے حق پر بھی ہوں ان کے قتل کے کیس بھی داخل دفتر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مخصوص ٹولے کو ملک لوٹنے پر کرسی اور آئین توڑنے پر بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ ارشد شریف کی ماں آج بھی انصاف کی منتظر ہے، لیکن شاید ہمارے نظام کے پاس اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کا کوئی وزن نہیں۔ آپ نے کیس تو ختم کر دیا، لیکن کیا عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو بھی ختم کر پائیں گے؟ کیا تاریخ کے اس سیاہ باب کو مٹا پائیں گے جہاں لکھا جائے گا کہ ایک سچے صحافی کے خون کا سودا بے دردی سے کیا گیا؟ #JusticeForArshadSharif

PTI

12,294 次观看 • 8 个月前

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 次观看 • 2 个月前

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 次观看 • 9 个月前

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 次观看 • 11 天前

مجھے یہ گفتگو سن کر بے حد افسوس ہوا چونکہ یہ افراد خود کو اسلام اور ناموس رسالت ﷺ ککا محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی زبان اور طرزِ کلام کو سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں پرکھیں تو ان کی حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل جنرل فیض کا پراجیکٹ ہے، جس کا مقصد مسلم لیگ (ن) کے 2018 کے انتخابات میں بریلوی مکتبِ فکر کے ووٹ بینک کو پی ٹی آئی کو جتوانے کے لئے توڑنا مقصود تھا۔ ان سے مجھ پر، خواجہ آصف پر، اور نواز شریف پر بے بنیاد حملے کروائے گئے۔ یہ لوگ اپنی نفرت انگیز باتوں کے ذریعے معاشرے میں جنونیت کو فروغ دیتے ہیں، جس کا خمیازہ اکثر سادہ لوح عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے اس رویے نے سیالکوٹ جیسے سانحہ کو جنم دیا، جہاں ایک بے گناہ سری لنکن شہری کو انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کیا گیا، اور بعد میں پوری قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح ایک نوجوان نے انکی تقریروں سے متاثر ہو کر میری زندگی لینے کی کوشش کی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کی کوئی جماعت ٹھیکیدار نہیں ہو سکتی بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان پوری امت ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کی محافظ اور داعی ہے، کیونکہ اس عقیدے میں معمولی سا بھی انحراف ایمان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ میری رگوں میں اس ماں کا خون ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ کا قانون بنایا، اور اس باپ کا خون ہے جو جنت البقیع، مدینہ میں مدفون ہے۔ مجھے سرکارِ دو عالم ﷺ سے اپنی نسبت پر فخر ہے، اور اس نسبت کے لیے مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ آپ خود فیصلہ کریں یہ طرز کلام ہمارے دین کی کس حد تک علامت ہے؟

Ahsan Iqbal

1,004,382 次观看 • 1 年前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 9 个月前

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 次观看 • 1 个月前