Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آپ کو چند دن پہلے بتایا تھا کہ آثار لگ رہے انڈیا پھر پنگا کا سوچ رہا ہے آج انڈیا کے وزیر دفاع نے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دے دی ہے یہی ہم تجزیہ بھی کر رہے تھے ویسے یر سال اپریل اور مئی میں انڈیا کو خارش...

78,746 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ “فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟! مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ: “ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے” فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟ انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔

Rodium-A

71,376 просмотров • 3 месяцев назад

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,169 просмотров • 5 месяцев назад

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق اس دور کے امریکی صدر ریگن کی چاپلوسی کیا کرتے تھے امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو زبردستی ضیاء الحق نے گھسایا، عمران خان ہمیشہ سے جنگوں کے خلاف ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں پرائی جنگ میں نہیں کودنا چاہیئے، آج پھر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چاپلوسی کرتا ہے اس نے افغانستان پر زبردستی حملہ کر دیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بگرام ایئر بیس ہمارے پاس ہونی چاہیے تھی اور اگر ہم یہاں سے ایران پر حملہ کرتے تو ایران کی حکومت کو اور اس کے ملک کو تباہ کر سکتے تھے، آج اسی چاپلوسی میں یہ جنگ شروع کر دی گئی ہے اور پاکستان پھر پرائی جنگ میں کود گیا ہے، خواجہ آصف آج عاصم منیر کا چمچہ بنا ہوا ہے جس طرح اس کے والد ضیاء الحق کے چمچے تھے اور وہی چیز دھرائی جا رہی ہے، یہ چمچہ کلچر پاکستان کے اندر تباہی و بربادی کا ذریعہ بن رہا ہے، ضیاء الحق کو پرائی جنگ میں کودنے سے کیا ملا تھا؟ معیشت اس نے تباہ کر دی پاکستان میں ہیروئین کلچر لے کے آ گیا کلاشن کوف کلچر لے کے آ گیا، افغانستان کی سپریم کورٹ کے اعظم شیخ مولوی عبد الرؤف نے پاکستان کے خلاف لڑنا جہاد قرار دے دیا ہے اور افغان نوجوانوں کو کہا ہے کہ ہم پہ جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اپنے ملک کا دفاع اب ہم نے کر دیا ہے اور یہ ایک جہاد ہے، دونوں طرف سے جہاد کے فتوے آ رہے ہیں دونوں طرف مسلمان ہیں اور بے مقصد جنگ، دوسرے کی جنگ پاکستان نے شروع کر دی ہے تو پھیل رہی ہے، کیا دہشتگردی بگرام ایئر بیس امریکہ کو دینے سے ختم ہو جائے گی؟ #PakAfghanConflict #FascismUnderAsimLaw

Qasim Khan Suri

10,252 просмотров • 5 месяцев назад