Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آپڈیٹ کراچی جیئے بھٹو سرکار کا خوفناک تحفہ ڈکیتوں نے8 بہنوں کا اکلوتا بھائی، میٹرک کا ٹاپر چھین لیا ڈکیتی کے دوران گھر میں گھس کر سفاک ملزمان نےروشن مستقبل رکھنےوالےنوجوان کی جان لےلی۔سندھ حکومت ناکام کراچی میں سٹریٹ کرائم نہیں بلکہ اب گھروں کےاندر کھلے عام قتل و...

14,786 views • 2 days ago •via X (Twitter)

12 Comments

RH Riaz's profile picture
RH Riaz2 days ago

پولیس اور سندھ انتظامیہ کی مکمل ناہلی کیوجہ سے ڈاکو بےخوف دندناتے پھر رہےہیں جیئے بھٹو کا نعرہ لگانےوالےحکمران اس معصوم خاندان کی بربادی اور اس ظلم کے برابر کے ذمہ دار ہیں` شہرِ قائد کے عوام کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام یہ ناقص اور راشی نظام اب مزید برداشت کے قابل نہیں 2/2

Aamir shahzad's profile picture
Aamir shahzad2 days ago

😢😢😢😢🥲🥲🥲

Raham Khan's profile picture
Raham Khan2 days ago

Heart bleeds beautiful young man lost his life no help from state

Muhammad's profile picture
Muhammad2 days ago

😭😭😭😭😭😭

ataullah bukhari's profile picture
ataullah bukhari1 day ago

انا للہ وانا الیہ راجعون

Khawaja M. Ghori's profile picture
Khawaja M. Ghori2 days ago

کراچی چاہئے لوٹنے کیلئے

Salar _ Sikandar's profile picture
Salar _ Sikandar2 days ago

😭 💔 😭

Mubashar®مبشر📡🔭SSsams™🛰️🚀's profile picture
Mubashar®مبشر📡🔭SSsams™🛰️🚀1 day ago

پاکستان و پاکستانیوں کوتباہ کرنےوالوں سےہوشیار رہیں.۔🌹۔!!!!!حصہ اوْل قیامِ پاکستان کےکچھ عرصےبعد سردارعبدالرب نشتر نےایوب خان کےبارےمیں ایک فائل قائداعظم کوبھجوائی توساتھ نوٹ میں لکھاکہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی و ریلیف کےبجائےسیاست میں دلچسپی لیتاہے اس پر قائد اعظم نےفائل پریہ

Faizan Ullah's profile picture
Faizan Ullah1 day ago

RIEP

Mirza Rizwan's profile picture
Mirza Rizwan1 day ago

حسبي الله ونعم الوكيل

Abu yaqtan 2's profile picture
Abu yaqtan 21 day ago

😥😥

Abdullah Saqib's profile picture
Abdullah Saqib2 days ago

😭

Related Videos

کراچی میں ڈکیتی کی واردات کے دوران27 سالہ نوجوان کیمیکل انجینئر اتّقا کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔یہ المیہ ہےکہ کراچی میں روزانہ شہر کے نوجوانوں کو ڈکیتی اوررہزنی کی وارداتوں کے نام پر قتل کیاجارہا ہے، ماؤں بہنوں، بزرگوں، دکانداروں، تاجروں کولوٹا جارہا ہے لیکن پولیس، رینجرز اور دیگرقانون نافذ کرنے والے ادارے ان کرمنلز کوپکڑنے اورشہریوں کوجان ومال کا تحفظ کرنے کے بجائے الٹاخود شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔کراچی میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ڈکیتی کی وارداتوں میں شہرکے 71 نوجوانوں کو اسی طرح قتل کیا جاچکا ہے لیکن گزشتہ 18 سال سے سندھ پر مسلط پیپلزپارٹی کی حکومت امن اورچین اور''سب اچھاہے ''کی بانسری بجارہی ہے ۔ میں اتّقا شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اورہمدردی کا ا ظہارکرتاہوں اوردعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی جواررحمت میں جگہ دے اورتمام اہل خانہ کویہ ناقابل تلافی نقصان اورعظیم صدمہ برداشت کرنے کاحوصلہ اورصبرجمیل عطافرمائے۔ آمین میں شہرکے عوام سے بھی اپیل کرتاہوں کہ وہ اس طرح کی اندوہناک وارداتوں سے محفوظ رہنے کیلئے اپنے اپنے علاقوں میں گلیوں میں حفاظتی گیٹ لگوائیں اوراپنی مددآپ کے تحت اپنی حفاظت کریں #JusticeForIttiqa

Altaf Hussain

11,127 views • 2 years ago

گزشتہ چار روز سے سندھ کا صوبہ نئے صوبوں کے معاملے پر بحث کر رہا ہے کہ آیا سندھ کو تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سندھ اسمبلی میں پر جوش تقاریر کا سلسلہ جاری ہے جو کا عنوان ہے کہ سندھ کیا چاہتا ہے۔۔۔ سندھ کی تقسیم سے انکار کی پانچ قراردادیں سندھ اسمبلی پہلے منظور کر چکی ہے جبکہ چھٹی قرارداد اب سامنے لائی گئی ہے۔ 👈وزیراعلی سندھ: خبردار قومی اسمبلی۔۔ تم سندھ تقسیم کرنے کی بات بھی نہیں کر سکتے۔۔ 👈فریال تالپور: ہم سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ 👈شرجیل انعام میمن: اسمبلیوں کے نمائندے مر جائیں گے سندھ پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ 👈سعید غنی: سندھ میں صوبہ نہیں بنے گا نہیں بنے گا نہیں بنے گا۔ ایم کیو ایم کا اپنا موقف مگر آج اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کر رہے سندھ کے چھ اضلاع میں وسائل کی برابری کی بنیاد پر تقسیم کی بات کر رہے ہیں۔ اس سب کے دوران صدر آصف علی زرداری نجی دورے پر ملک سے باہر ہیں۔۔۔ پنجاب کیا چاہتا ہے۔۔مسلم لیگ نواز کا واضح موقف اب تک سامنے نہیں آ سکا۔۔ دوسری جانب وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سندھ پہنچے ہیں، چھ ستمبر کو کراچی میں جلسہ عام کرنے کی بات کر رہے ہیں،، کیا سندھ حکومت اجازت دے گی۔۔ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

16,873 views • 12 days ago

کاش سندھ سرکار کو اس ماں کی دل دہلا دینے والی چیخیں سنائی دیں،آخر کب تک روشنیوں کا یہ شہر کرپشن اور نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں اپنے بچوں کو یوں کھوتا رہے گا؟ کیا ان مسلط کردہ فارم 47 کے حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے دلوں میں ذرا سا بھی خوفِ خدا باقی ہے؟ کمسن ابراہیم آج اس بدانتظامی اور بےحسی کی بھینٹ چڑھ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اس کی ماں کو اس کا بیٹا کون واپس لا کر دے گا؟ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن نے کراچی کو اس حد تک برباد کر دیا ہے کہ یہ شہر اب انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، لاقانونیت، کرپشن، بھتہ خوری، ہر طرف مافیا کا راج، اور بے قابو ڈمپر روزانہ انسانی جانیں نوچ رہے ہیں،کراچی والوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے چاہ کر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اگر اب بھی خاموشی برقرار رہی تو یہ بربادی صرف کراچی تک نہیں رہے گی بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

Senator Allama Raja Nasir

64,128 views • 9 months ago

“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔

Chaudhry Nazeer Kahut

60,153 views • 1 month ago

والد کے پاس موبائل فون نہ ہونے پر ڈکیتوں کا گالی دینا اور ایک ننھی جان کو گولی مار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں انسان نہیں، صرف درندے آزاد گھوم رہے ہیں۔ کراچی ایف سی ایریا شہید چوک کے قریب رونما ہونے والا یہ واقعہ صرف ایک تین سال کی بچی کا قتل نہیں بلکہ اس بے حس اور تباہ شدہ قانون کا ثبوت ہے جو اس شہر پر مسلط ہے۔ یہ المیہ صرف گلی کے ایک مجرم کا نہیں، بلکہ اس بوسیدہ اور مفلوج نظام کا ہے جو شہریوں کی سیکیورٹی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی حکومت اور وزارتِ داخلہ سندھ کی بے حسی اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہاں ہیں وہ ادارے جن کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ ہے؟ رینجرز اور پولیس کی اتنی بھاری نفری، اربوں روپے کے بجٹ اور گلی گلی ناکوں کے باوجود اس شہر کی گلیوں پر نفاذِ قانون کے بجائے اسٹریٹ کرمنلز کا راج کیوں ہے؟ جب ایک باپ اپنی تین سالہ بچی کے ساتھ بھی محفوظ نہیں، تو پھر ان اداروں کے قائم رہنے اور ان کے شاہانہ اخراجات کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

19,185 views • 1 month ago

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بلاآخر یہ تسلیم کر ہی لیا کہ کچھ قوتیں صوبہ سندھ میں اختیارات اور وسائل اس بنیاد پر حاصل کرنا چاہتی ہیں یا انہیں اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہیں کیونکہ سندھ حکومت نے صوبے کے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ قوت اسٹیبلشمنٹ ہے یا وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی کی سرکار کے ہاتھوں ملک کے تجارتی مرکز کراچی کی تباہی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کے قائدین اس خام خیالی میں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یا کوئی بھی محب وطن وفاقی حکومت کراچی کی اس بربادی پر خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ طاقتور حلقوں میں کراچی کی انتظامی خود مختاری، شہر کو "انتظامی یونٹ" کا درجہ دینے یا پھر اسلام آباد سے کراچی کے معاملات کو چلانے جیسے اہم آپشنز زیر غور ہیں۔ اس تمام صورتحال میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو سندھ میں اپنی حکومت کا خاتمہ صاف نظر آ رہا ہے اور وہ اب اسے وفاق اور صوبے کی لڑائی یا پھر لسانیت کا رنگ دینے کی ہر مذموم کوشش کرینگے۔ #Karachi #Pakistan #Sindh #Punjab #BalochistanHaiPakistan #KPK DG ISPR

Imran Hussain

13,417 views • 8 months ago

یہ سین ہے کراچی کی یونیورسٹی روڈ کا جہاں گرین لائن بس کا منصوبہ گزشتہ چار سال سے انتہائی سست روی کیساتھ جاری ہے- چھ ماہ پہلے شرجیل میمن نے کہا تھا کہ اس منصوبے کی خاطر لوگوں کو دو سے ڈھائی سال مزید تکلیف برداشت کرنی پڑے گی- یہ تو اس نے اپنے منہ سے کہا لیکن حقیقتاً چار سے پانچ سال سے پہلے یہ منصوبہ مکمّل ہونے کے کوئی آثار نہیں- منصوبہ سندھ حکومت کی فنڈنگ کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے لون اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے- ہر منصوبے کی طرح یہاں بھی سندھ حکومت نہ صرف سست روی کا شکار ہے بلکہ Escalation clause کی آڑ لیکر ملائی چاٹنے میں بھی مصروف ہے- ہم تو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ایسا کوئی منصوبہ مکمّل ہونے میں سات سے آٹھ سال لگیں- لیکن کراچی والوں کی بدقسمتی کہ صوبائی حکومت کی نالائقی, نااہلی اور ہوشربا کرپشن پر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں- الله تعالیٰ اہل کراچی پر اپنا خصوصی کرم فرمائیں (آمین) جیئے بھٹّو - لٹّو تے پھٹّو #موئن_جو_کراچی

Amir H. Qureshi

30,560 views • 11 months ago

کورنگی میں مزاحمت کے دوران سفاک ڈاکوؤں کی فائرنگ کےنتیجےمیں کراچی یونیورسٹی کےطالبعلم لاریب کےجاں بحق ہونےکاواقعہ انتہائی دلخراش ہے۔کراچی میں جرائم پیشہ افراد کی جانب سے ڈکیتی، رہزنی موبائل فون ،گاڑیوں کا چھیننا، راہگیروں اوردکانداروں کولوٹنا اورمزاحمت میں انہیں گولیوں کا نشانہ بناناروزکا معمول بن چکا ہے، شہرمیں کسی بھی علاقے میں کوئی شہری محفوظ نہیں ہے،کورنگی اور اس کے اطراف کے علاقے میں تو یہ وارداتیں بہت بڑھ گئی ہیں،چند روز قبل بھی کورنگی میں اسی طرح کے ایک واقعہ میں سفاک کرمنلز کی گولیوں کانشانہ بن کر دوسال کی معصوم بچی جاں بحق ہوگئی تھی اور اب طالبعلم لاریب کو فون چھیننے کے دوران گولی مارکراس کی جان لےلی گئی۔ کراچی میں پولیس، رینجرز اورطرح طرح کی ایجنسیاں تعینات ہیں اس کے باوجود ان وارداتوں میں کمی ہونے کے بجائے مسلسل اضافہ یہ ثابت کرتاہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کو پولیس، رینجرزاور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی پشت پناہی اورسرپرستی حاصل ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہےتو پھر عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والی متعدد ایجنسیوں کےہزاروں اہلکاروں کے شہرمیں موجود ہونےکے باوجود یہ وارداتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟شہریوں کوجان ومال کاتحفظ فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ میں کہتا ہوں کہ لاریب کے قتل کا مقدمہ وزیراعلیٰ سندھ اورپولیس ورینجرز کے حکام کے خلاف درج ہوناچاہیےکیونکہ وہ جرائم پیشہ عناصر سے شہریوں کی جان ومال کےتحفظ میں بری طرح ناکام ثابت ہورہی ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس اور رینجرز کی چوکیوں کے باوجود اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ اوررینجرز اورپولیس کی جانب سے عوام کی جان ومال کےبنیادی فرض سےدانستہ غفلت سے عوام میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہےکہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کیلئےقانونی طورپراسلحہ لائسنس بناکر قانونی طریقے سےاسلحہ حاصل کریں اور اپنی، اپنے اہل خانہ اور اپنی گلیوں اور علاقوں کی حفاظت خود کریں۔ میں سفاک ڈاکوؤں کی فائرنگ سےجاں بحق ہونے والےلاریب کےلواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں،میں اورمیرےتمام ساتھی ان کےغم میں برابرکےشریک ہیں اوردعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ لاریب کی مغفرت فرمائے،لاریب کوجنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے اوراہل خانہ کویہ ناقابل تلافی نقصان اور عظیم صدمہ برداشت کرنے کاحوصلہ اورصبرجمیل فرمائے۔ (آمین ثمہ آمین)

Altaf Hussain

19,718 views • 2 years ago

کراچی ملیر سٹی پولیس کی مبینہ حراست میں میں نوجوان ہلاک 17 سالہ ارشاد آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا پولیس نے لاسی گوٹھ میں گھر پر چھاپہ مار کر ارشاد کو گرفتار کیا، اہل خانہ کا الزام ارشاد کو بجلی کا کرنٹ لگا کر قتل کردیا گیا، اہلخانہ کا الزام اہل خانہ اور اہل محلہ کا جناح اسپتال میں احتجاج متوفی کی لاش کے ہمراہ اہلخانہ کا پریس کلب کے باہر بھی احتجاج ملیر سٹی پولیس نے بدنام منشیات فروش ارشد کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا، ایس ایچ او ملیر سٹی منشیات فروش ارشد کو گرفتار کرکے اسکے قبضے سے 55 گرام آئس برآمد کی گئی کارروائی کے دوران ملزم کا پڑوسی نوجوان ارشاد بھاگنے لگا گھروں کی چھتوں سے کودنے کے دوران بجلی کے تار سے الجھ گیا اور اسے کرنٹ لگا پولیس نے ارشاد کو تحویل میں لیا تو وہ بے ہوش تھا، ریاض بھٹو جناح اسپتال لایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسکی موت کی تصدیق کی، ایس ایچ او ریاض بھٹو نوجوان ارشاد پولیس کی حراست میں تشدد سے ہلاک نہیں ہوا، ایس ایچ او کا دعویٰ ملزم ارشد کی گرفتاری کے دوران ارشاد نے ڈر کے مارے فرار کی کوشش کی اور کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا، پولیس کا دعوی

Shahid Hussain

14,209 views • 16 days ago

کراچی کا معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ خوفناک آتشزدگی کی لپیٹ میں آ کر کھنڈر بن گیاپلازہ میں قائم ایک ہزار کے قریب دکانیں اور ان میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس اندوہناک حادثے میں اب تک پانچ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کے پلازہ میں موجود ہونے کی اطلاعات نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے شدید آگ کے شعلے گھنٹوں تک بلند ہوتے رہے اور دنیا بھر کی نظریں جلتے ہوئے گل پلازہ پر جمی رہیں، مگر افسوس کہ اس سانحے کے دوران کراچی بے یارو مددگار نظر آیاسوائے گورنر سندھ کے، کوئی حکومتی نمائندہ جائے وقوعہ پر متاثرین کی داد رسی کے لیے نہ پہنچ سکا یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے کہ کراچی جیسے عظیم شہر میں سانحات کے وقت صرف بیانات ہی رہ جاتے ہیں،عملی اقدامات اور فوری ریلیف کہیں دکھائی نہیں دیتا اب تو یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اس شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں اللہ تعالیٰ کراچی پر رحم فرمائے ، آمین #Karachi #GulPlaza

Samar Abbas

35,036 views • 8 months ago

میں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں تاجروں کی دکانیں سیل کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ سراسر ظلم ہے، حکومتی غنڈہ گردی اور بربریت ہے ۔ حیدرآباد کے علاقے چھوٹی گٹی میں یہ دکانیں ، شہر کے تاجروں نے اپنی محنت کی کمائی سے برسوں پہلے بنائی تھیں، لیکن حکومت نے پولیس و انتظامیہ کے ذریعے رات کی تاریکی میں سیل کرنے کے نوٹس دکانوں اور شاپنگ پلازہ پر لگا کر انہیں سیل کردیا ہے، ایک عمارت میں نجی اسپتال بھی قائم ہے، اسے بھی سیل کرنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے حیدرآباد کے ان تاجروں ہی میں نہیں بلکہ پورے حیدرآباد کے شہریوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ دکانوں کو سیل کرنےکا سندھ حکومت کا اقدام حیدرآباد کے تاجروں کا معاشی قتل ہے۔ میں اس اقدام کی سخت مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ چھوٹی گٹی کی دکانوں کو سیل کرنے کا اقدام واپس لیا جائے ۔ میں حیدرآباد کےدکانداروں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتا ہوں۔

Altaf Hussain

10,431 views • 2 months ago

🚨نئی گرفتاریوں کی فہرست🚨 شام چھہ بجے تک 170 گرفتار آج دوپہر 12 بجے تک سندھ حکومت کے کریک ڈاؤن میں 93 پی ٹی آئی کارکنان و عہدیداران کی گرفتاریوں کی تصدیق ہو چکی تھی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 170 ہو چکی ہے۔ یہ نئی اپڈیٹڈ فہرست (شام 6 بجے تک) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی ڈویژن میں گرفتاریاں انتہائی تیزی سے جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹو کی سندھ حکومت اور مریم نواز کی پنجاب حکومت کے درمیان فسطائیت کا مقابلہ چل رہا ہے—اور سندھ حکومت اس دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔ اس مرتبہ سندھ پولیس نے جبر، فسطائیت اور پولیس گردی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بزرگ شہریوں کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی عہدیداران کے بچوں کو اٹھایا گیا، خواتین کے گھروں میں گھس کر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ متعدد کارکنان کو بغیر ایف آئی آر کے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا ہے، چند پر MPO لگایا گیا، جبکہ اکثریت تاحال بلاجواز قید میں ہے۔ یہ سب آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر کھلا حملہ ہے۔ پی ٹی آئی سندھ اس ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ گرفتار کارکنان کی مکمل فہرست منسلک ہے salman akram raja

Haleem Adil Sheikh

29,743 views • 7 months ago