Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یہ ویڈیو غور سے دیکھیں یہ نوجوان گھر سے نکل رہا ہے اور نکل کر بائیک پر بیٹھتا ہے جیسے ہی یہ بائیک اسٹارٹ کرتا ہے دو موٹرسائیکل سوار آتے ہیں اور ایک اتر کر اس پر اسلحہ تان لیتا ہے پھر اس کی تلاشی لیتے ہیں اور نقدی...

21,309 Aufrufe • vor 29 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,447 Aufrufe • vor 11 Tagen

یہ لاہورئیے تو آزادی کے نام پر پاگل ہی ہو گئے ہیں اور گھر میں قید ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ گلی محلے تو ایک طرف رہے پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے ڈیفنس سے گلبرگ مین بلیوارڈ پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں اور صرف لونڈے لپاڈے نہیں ہیں بلکہ فیملیز ہیں۔ خواتین اور بچوں کی سبز اور سفید کمبی نیشن میں ڈریسنگ دیکھنے والی ہے۔ اس بار آزادی کے جشن کا جوش زیادہ لگتا ہے۔ باقاعدہ میلے کا سماں ہے اور اس کی وجہ معرکہ حق کے میں بھارت کی شکست کے بعد مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر مان بڑھا ہے، پاکستانیوں کی امید بڑھی ہے۔ بے شک یہ جشن اور یہ وارفتگی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے مگر ان کی موت ضرور ہے جو مایوسی، ناکامی، نفرت اور فساد کے بیوپاری ہیں۔ میں جن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں وہ مایوس اور نامراد نہیں ہیں۔ جوش اور امنگ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے انداز میں کوئی معذرت خواہی نہیں ہے۔ آپ اسے ہلڑ بازی بھی کہہ سکتے ہیں اور جوش و خروش بھی۔ میرے ارد گرد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سیلاب ہے۔ خصوصی ملبوسات ہیں، بڑے بڑے پرچم ہیں اور باجے بھی ہیں۔ یہ ایک زندہ قوم ہے۔

Najam Wali Khan

12,410 Aufrufe • vor 20 Tagen

کلمہ پڑھ، مسلمان ہو جا سندھ پولیس کی شرمناک حرکت ۔ ایک نوجوان شیلنگ اور لاٹھی چارج سے نڈھال ہے، منہ سے خون بہہ رہا ہے۔ اسے سندھ پولیس کے بےشرم اہلکار تشدد کرکے کلمہ پڑھنے کا کہہ رہے ہیں۔ ساتھ میں کہتے ہیں کلمہ پڑھنا نہیں آتا، اور نام اسلام کا لیتے ہو۔ اس نوجوان نے چلتے کلمہ پڑھا، اسے سنا جا سکتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کا مطالبہ کرنے والا ساتھ میں گالیاں بھی بک رہا ہے، اور جرم یہ ہے کہ اس نوجوان کا ہاتھ وردی پر لگ جاتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں، کیسے بے حسن اور بےشرم اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگ ہیں سندھ پولیس کے اہلکار نہ صرف اسے مار رہے ہیں، بلکہ اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر چوری بھی کر رہے ہیں، ایک اہلکار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی فسطائیت اور وڈیرہ شاہی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ نام جمہوریت کا لیتے ہیں، رویہ فاشسٹوں والا ہے۔ اس موقع پر ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جنھوں نے سندھ بالخصوص کراچی کو پیپلزپارٹی کو کرائے پر دے رکھا ہے۔ کراچی سے کوئی غرض نہیں، زرداری فرنٹ مین بنا رہے، تو سب قبول ہے۔ افسوسناک شرمناک

Shamsuddin Amjad

53,367 Aufrufe • vor 6 Monaten

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 Aufrufe • vor 3 Monaten

یہ بھائی چلاس گلگت بلتستان کا ایک مقامی صحافی ہے، جو حال ہی میں Belgium کے ایک سیاح جوڑے کا انٹرویو کر رہا تھا۔ کافی احباب نے اس کا مذاق اُڑایا اور طنز و تشنیع پر مبنی تبصرے کیے۔ میں ان آراء سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ کئی بار میں نے اس بھائی کی ویڈیوز پر تنقیدی تبصرے بھی کیے ہیں، لیکن اس بار میں اسے داد دیتا ہوں۔ یہ اس کا بے پناہ حوصلہ اور بے مثال جرات ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جوڑے سے گلگت بلتستان، بالخصوص اپنے ضلع دیامر، کے بارے میں تاثرات معلوم کر رہا ہے۔ اس کی انگریزی اہم نہیں، بلکہ وہ پیغام اہمیت کا حامل ہے جو وہ اس ٹوٹی پھوٹی انگریزی کے ذریعے دنیا کو دینا چاہتا ہے۔ کوئی زبان فرفربولنا اہم نہیں، مخاطب کو اگر آپ جیسے بھی سمجھا سکتے ہیں تو بس یہی کافی ہے۔ بولنے سے بولنا آتا ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن یہ روانی کے ساتھ بھی بول سکے گا۔ زبان سیکھنے کے لیے تعلیم نہیں، بلکہ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ماحول میسر آ جائے، زبان اپنے آپ آجاتی ہے۔ اس کلپ کے آخری کلمات ضرور سنیں، یہ حوصلے اور جذبے کی بہترین مثال ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

37,299 Aufrufe • vor 11 Monaten

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 Aufrufe • vor 5 Monaten