Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آپکو پرو PTIسمجھا جاتا ہے! PTIکے دور میں میری نوکری چلی گئ! مجھے ٹارگٹ کیااپنے ہی ساتھی صحافیوں نے جب میرا نام IKسے ملاقات کی لسٹ میں آیا- جسنے میرے بارے میں گھٹیا باتیں کی منسٹرز نے اس کو کھانے کھلاۓ! آج کاشف عباسی شوکرنا چاہتے ہیں aryشو کروانا...

39,987 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 görüntüleme • 5 ay önce

میرے دوست کاشف عباسی نے اچھی باتیں کی ہیں خصوصا یہ کہا کہ اب ٹی ای اینکرز کو پتہ نہیں کیا کہنا ہے کیونکہ اوپر سے بتایا جاتا ہے فلاں بات کہنی ہے اور فلاں نہیں کہہ سکتے۔ بہت جبر ہے۔ میرے خیال میں ایجسنیوں کو اس کام پر عمران خان نے پہلے سے زیادہ لگایا جب وہ وزیراعظم بنے۔ پہلے بھی ہوتا تھا لیکن خان کے دور میں عروج پر پہنچا۔ ان کے دور میں ہی ایک کرنل پوری پارلیمنٹ چلانے لگا تو ائی ایس پی آر کا ایک کرنل صاحب پورا ٹی وی میڈیا چلانے لگا۔ وہ کرنل صاحب اینکرز /صحافیوں کو پہلے خود فون کرتے جو خان حکومت کی گڈ بکس میں نہ تھے کہ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کریں۔ اگر کوئی اکڑ جاتا تو اس کے مالک کو فون جاتا کہ وزیراعظم افس سے فلاں ٹوئٹ کا سکرین شاٹ ہے اسے ڈیلیٹ کرائیں۔ ٹی وی شوز تو بہت بڑی بات ہے وزیراعظم ہاوس تو ٹوئٹ تک کی رعایت نہیں دیتا تھا۔ خود میں ٹی وی چینل میں تھا تو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا ایجنسی کا فون ہے آپ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیں۔ میں نے کہا ٹوئٹ ایجنسی بارے تو نہیں ہے بولے ان کی وزیراعظم آفس کی ڈیوٹی ہے۔ مجھے کہا گیا عمران خان، ائی ایس پی اور ایجنسی سے معاملات ٹھیک کرو ورنہ گھر جائو۔ میں نے مٹی تے سوا معاملات ٹھیک کرنے تھے۔ میں گھر چلا گیا اور کئی ماہ بیروزگار رہا۔ جنرل فیض کا ایک بندہ مجھے خصوصی طور پر ایف سکس میں کافی بینز پر ملا کہ ان کا کہنا ہے ہمارا شو بند کرانے میں ان کا ہاتھ نہیں۔ عمران خان کا حکم تھا۔ ہم نے تو انہیں کہا یہ ہمارا کام نہیں وہ نہیں مانے اور کہا انہیں فکس کرو۔ شکر ہے ایجنسی نے فکس کرنے کا مطلب وہ نہیں سمجھا جو بھٹو صاحب بارے روایت ہے انہوں نے اپنے ایم این اے قصوری کے بارے اپنی ایجنسی کوکہا تھا ۔ اب کی دفعہ چینل سے نکلوا دیا گولی نہیں مار دی۔ یہ سب حکمران اپوزیشن میں شودے، معصوم، میڈیا فرینڈلی لگتے ہیں۔ پاور ملتے ہی فرعون کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جس جبر کی بات کاشف کر رہا ہے یہ ہر دور میں رہا ہے بس محسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس کا خود شکار ہوتے ہیں جیسے اس وقت میرے دوست کاشف عباسی کو ہورہا ہے۔ میری ساری ہمدردی اور سپورٹ کاشف عباسی کے ساتھ ہے۔ Kashif Abbasi

Rauf Klasra

320,441 görüntüleme • 9 ay önce

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,962 görüntüleme • 2 ay önce

یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا سکتے ہیں آپ ہمیں ننگا کر سکتے ہیں آپ ہمیں مار سکتے ہیں آپ جو کرنا چاہتا ہیں کر سکتے ہیں لیکن ہمارے دلوں سے عمران خان نہیں نکال سکتے نہ ہی جھکا سکتے ہیں۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان ورکر کمزور ہیں یہ ورکر اپ کے مقابلے میں نہیں لیکن جو نفرت ہمارے سینوں میں اپ کے لیے ہیں میں یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے میرے پاس اپ کی امانت ہے میرے پاس اگر میں انتہائی کمزور ہوا تو میں اپنے بچوں کو یہ اپ کی نفرت ہے یہ میں وراثت میں دے دوں گا مجھے میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں یہ اپ نے جو اس ملک کے ساتھ کیا جمہوریت کے ساتھ کیا اس کا اپ کو جواب دینا ہوگا۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان حکومت کی مجبوریاں کا مجھے نہیں پتہ لیکن میں ہر اس شخص کو جس نے 9 مئی کے بعد میرے ورکر کو رلایا میں اس کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی مجھے وہ اختیار دے ایک ایک شخص کو نہیں بھولا چاہے شانگلہ، دیر، ملاکنڈ جہاں بھی ہوں، کسی غلط فہمی میں نہ رہے اچھی بات بھول جاتا ہوں لیکن بری چیز کبھی نہیں بھولتا۔ 10 سال گزارے 20 سال گزارے میرا اپ سے وعدہ ہے کہ جو بھی جس پوزیشن پہ ہے جب بھی میرے اختیار میں کچھ ایا میں اپ کو نشان عبرت بناؤں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔ خدا کی قسم ایک ایک چیز یاد ہے تکلیف میں ہوں جب یہ دیکھتا ہوں کہ میری حکومت میں آپ آرام سے ہے میں آپ کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ انشاءاللہ مثال بناو گا آپ کو۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان

Junaid Akbar

72,971 görüntüleme • 1 yıl önce

میرے کارکن نظریاتی اور دلیر ہیں۔ انہوں نے اپنے خوف کے بت توڑ دیے ہیں۔ مجھے ان کا جنون سب سے زیادہ پسند ہے۔ جنون کا کوئی توڑ نہیں، کوئی میرے کارکنوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ لیڈر باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو پہلے اللہ کی تعریف کرتے ہیں، پھر سیدھے راستے کی دعا مانگتے ہیں۔ 622 میں نبی ﷺ نے مدینہ ہجرت کی۔ 624 میں جنگِ بدر ہوئی، 313 مسلمان۔ دو سپر پاورز کے مقابلے میں 313 مسلمان۔ 632 میں نبی ﷺ نے دنیا سے پردہ کیا۔ لیکن اس دوران سپر پاورز نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ اسی لیے اللہ نبی ﷺ کے راستے پر چلنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے عرب میں کیا تبدیلی لائی کہ مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھال لی؟ وہ تھی لا الہ الا اللہ۔ صرف آزاد انسان ہی امامت کر سکتا ہے۔ جو ہارنے سے ڈرتا ہے، اسے جیتنا نہیں آتا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسان کو اس خوف سے آزاد کیا ہے۔ دوسرا خوف نوکری کا ہے۔ اللہ پر اعتماد ہو تو انسان ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ کہ نہتے بے گناہوں پر کسی کے حکم پر حملہ کرتا ہے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پی ڈی ایم روز میری بہت باتیں کرتا ہے، مگر لوگوں میں میری عزت اور بڑھ گئی ہے۔ شیطان کا راستہ شارٹ کٹ اور آسان راستہ ہے۔ دوسرا نبی ﷺ کا راستہ ہے، وہ آسان نہیں لیکن اوپر لے جاتا ہے۔ میری اللہ سے تین دعائیں ہیں: - اللہ پاکستان کو وہ ریاست بنا جو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑی ہو - جہاں عدل اور انصاف ہو - جہاں لوگ حقیقی طور پر آزاد ہوں - کوئی بھی پاکستانی بھوکا نہ سوئے #افطار_کہتان_کےساتھ #RamadanWithKaptaan

PTI

203,682 görüntüleme • 6 ay önce

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,668 görüntüleme • 2 ay önce

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,475 görüntüleme • 6 ay önce

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 görüntüleme • 2 ay önce

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,018 görüntüleme • 1 ay önce

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 görüntüleme • 2 ay önce

دیکھیں سبیح بھائی جیل میں جانا میرے لیے بہت آسان ہے، میں آپ کو حلفاً کہہ رہا ہوں۔ میرے اپنے گھر والے مجھے اگست 2023 سے کہہ رہے ہیں کہ تم جیل میں چلے جاؤ، وہاں جا کر کم سے کم تم سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات ہو جایا کرے گی، تین وقت کا کھانا ملے گا، جگہ جگہ جہاں تم در بدر ہوتے پھر رہے ہو وہاں نہیں ہو گے، ہو سکتا ہے کوئی کمپنی بھی مل جائے اندر، پولیٹیکل کیپیٹل بھی آپ کو پتہ ہے سبیح بھائی، پاکستان کی سیاست میں جیل جا کے پولیٹیکل بھی بڑا بنتا ہے نا۔ تو یہ تنقید بھی جو ہے، جو آپ کہہ رہے ہیں 42ہزار کمنٹ ہیں میرے لئے، یہ بھی ختم ہو جائے گی جب میں جیل میں بیٹھا ہوں گا لڈو کھیلوں گا، یا مشکل وقت تو ہوتے ہی ہیں۔ لیکن یہ بھی میں اپ کو بتاتا ہوں کہ جو زندگی میں نے گزاری ہے نا پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں اکیلے، وہ اگر جیل سے بدتر نہیں تو جیل سے بہتر بھی نہیں تھی۔ ایک سال ہو گیا میں نے اپنے بچوں کی شکل نہیں دیکھی، ایک سال ہو گیا میں نے اپنے گھر والوں سے ملاقات نہیں کی۔ میرا گھر سیلڈ، میرے کاروبار کو بھی سیل کیا گیا، میرے گھر کو توڑ دیا گیا، میرے بوڑھے والدین کو دو مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ میرے لیے بہت آسان ہے کہ میں خان صاحب سے کہو کہ خان صاحب اب وقت اگیا ہے کہ میں جیل چلا جاتا ہوں، ضمانت ہونی ہوگی تو ہو جائے گی، نہیں ہونی ہوگی تو نہیں ہوگی۔ میں جیل میں وقت گزاروں گا پانچ مہینے یا چھ مہینے، باقی بھی تو لوگ گزار ہی رہے ہیں نا۔ ظاہر ہے میں بھی گزار سکتا ہوں اللہ کے فضل سے۔ پولیٹیکل کیپٹل بھی میرا بڑھ جائے گا، تنقید بھی ختم ہو جائے گی اور یہ جو پارٹی کا میرے اوپر ایک بات ہے دیکھیں بڑا کام کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حماد اظہر کا انٹرویو-4 جون،2024

Fiza Alam

31,304 görüntüleme • 12 gün önce

🚨⚠️مجھے نہیں معلوم اسد طور کو کہاں سے عمران خان کی صحت کے بارے میں معلومات ملیں لیکن میرے پاس جو معلومات پہنچیں ہیں وہ بہت credible ہے۔ وہ ساری نہیں بتاؤں گا لیکن عمران خان کا blood pressure شدید shoot کر رہا ہے ۔ کیا انکو کھانے میں کسی قسم کا نمک دیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے انکا بلڈ پریشر شوٹ کر رہا ہے۔ اگر بلڈ پریشر بہت دیر تک اسی طرح رہے تو برین ہمیرج، اسٹروک، ہارٹ اٹیک، کڈنی فلئیر ہو سکتا ہے ۔ کیا انکا بلڈ پریشر اس لیے شوٹ کر رہا ہے کہ وہ بہت ذیادہ اسٹریس میں ہیں؟کئی مہینوں سے انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ۔ عمران خان کی عمر 74 برس ہونے والی ہے اور انکو زندگی کی رمق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آنکھ کا مسئلہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں انکو بلڈ پریشر کا مسئلہ اس اسٹریس کی وجہ سے ہے سہیل آفریدی کو عمران خان نے عزت بخشی سپیل آفریدی کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ ملٹری سے negotiate کرے۔ نعرے مارنے، رہائی فورس بنانا فضول باتیں ہیں ۔ اس وقت عمران خان کو بنیادی صحت کی سہولت مل سکے جو ہر قیدی کا حق ہے۔ پاکستان میں لوگوں نے کہا تھا کہ جو محمد مرسی کے ساتھ ہوا وہ عمران خان کے ساتھ ہو گا۔ مجھے فوج پہ اعتماد تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گی۔وہ مصر کی طرح گھٹیا فوج کی طرح نہیں ہو گی۔ لیکن جو کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے وہ مصر کی طرح ہے۔ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو ملک اور فوج کا ادارہ اسکا نقصان نہیں اٹھا سکے گا۔ پاکستان میں پہلے ہی تین جگہوں میں ریاست کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے یہ وزن ریاست برداشت نہیں کر سکے گی ۔

Rodium-A

104,912 görüntüleme • 1 ay önce