正在加载视频...

视频加载失败

اڈیالہ جیل سے 41 لوگ گرفتار ہوئے تھے جن میں سے ایک کو چھوڑ دیا گیا، باقی 40 رہ گئے۔ ان میں سے 10 کی ضمانتیں ہو چکی ہیں۔ ان پر دہشت گردی کا پرچہ درج کیا گیا ہے جن میں کچھ بائیک چلانے والے اور مقامی رہائشی بھی...

11,064 次观看 • 4 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

"علمی کتابوں" سے لے کر "در باری بیانیوں" تک کا سفر! What a downfall! انجینئر محمد علی مرزا صاحب کا علم اب صرف خان کے جیل کے مینو اور دیسی گھی کی خوشبو سونگھنے تک رہ گیا ہے. جس قیدی کی آنکھ کی بینائی پچھلے 4 ماہ سے متاثر ہے، ان کو وہ نظر نہیں آئی لیکن کھانے کی خوشبو ضرور پہنچ گئی۔ بسنت پر منافقت، پھر خان صاحب کی تکلیف کا مذاق، اور اب جب دنیا اسے منڈیلا سے تشبیہ دینا شروع ہوئی تو یہ اپنی لچ تلنے آ گئے۔ یہ مذہبی تشنج نہیں تو اور کیا ہے؟ جسے لوگ عالمِ دین سمجھتے تھے، وہ اب صرف ایک 'پلانٹڈ بیانیے' کا ترجمان بن کر رہ گیا ہے۔ عمران خان کی مخالفت میں اتنا نیچے گر چکے ہیں کہ حق اور سچ کی تمیز ہی بھول گئے۔ سارے زندگی بنو امیہ کے قصے سناتے رہے لیکن جب یزید کے سامنے ڈٹنے کا وقت آیا تو پلٹا ہی مار دیا۔ اور جو یزید وقت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ان کو ڈیجیٹل دہشت گرد قرار دے دیا۔ جہاں تک ڈیجیٹل دہشت گردی کی بات ہے تو حق کی خاطر ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے ایک جابر حکمران کے خلاف ڈٹ جانے کو اپ ڈیجیٹل دہشتگردی کا نام دیتے ہیں تو ایسے ہزاروں تمغے ان دہشت گردوں کو قبول ہیں۔ جس طرح آپ نے یزید وقت کے سامنے ڈٹنے کو ڈیجیٹل دہشت گردی قرار دیا اسی طرح ہم بغض عمران میں حق کی پہچان کھو دینے کو ہم منافقت بلکہ مذہبی دہشت گردی کہیں گے!

Arslan Baloch

22,977 次观看 • 7 个月前