Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آکسفورڈ یونیورسٹی 1990 پال میرا یہ ماننا ہے کہ کھلاڑی اور الکوحل کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، میں جب 18 سال کی عمر میں یہاں آیا تو طے کیا کہ جو چیزیں میں کبھی نہیں کروں گا ان میں الکوحل بھی ہے۔ اور یہ زندگی میں لیے گئے...

94,251 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

7 Kommentare

Profilbild von Sana
Sanavor 2 Jahren

یہ بہروز سبزواری کو پلانیڈ کروایا گیا یہ جان گئے ہیں کہ مخالف کی تو عوام مانتی ہیں اب ایسے گندا کرلین

Profilbild von Irfan Affaqi
Irfan Affaqivor 2 Jahren

یہ آپ مر جائیں گے شیئر نہیں کریں گے۔شرم آنی چاہیے۔ @Wabbasi007 @UmarCheema1 @TalatHussain12

Profilbild von Sunia Khalid
Sunia Khalidvor 2 Jahren

Now wat to do with qabaacha uncle 😎

Profilbild von احمد
احمدvor 2 Jahren

اس کا مطلب یہ ہے کہ بہروز سبزواری بکواس کر رہا تھا کہ عمران خان صرف ایک پیگ پیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کو بھی فوجی مافیا نے کراہے پر لے کر اس سے جھوٹ بلوایا تھا

Profilbild von A A.wahab
A A.wahabvor 2 Jahren

مان لیا وہ اپنے فیصلوں پر ڈٹ جانے والا انسان ھے۔۔

Profilbild von BRKhanbutt
BRKhanbuttvor 2 Jahren

@karamatmughal Behroz sabzwari jhoot bol raha hy aur jhootay pe Khuda ki laanat hay

Profilbild von valorous0
valorous0vor 2 Jahren

Host sharab k sth h r Imran khan pani k sth tu paid interview krny walon ko pani ni sharab m doob marna chahey

Ähnliche Videos

شعیب اختر اور تابش ہاشمی کا بہترین مزیدار مکالمہ : شعیب اختر: "میں نے بھاگنا شروع کیا، پھر میں نے دوڑنا شروع کیا۔ جب میں نے دوڑنا شروع کیا پھر میں نے اسپرنٹ لگانا شروع کی۔ جب میں نے اسپرنٹ لگانا شروع کی، میں نے پھر اڑنا شروع کیا۔ جب میں نے اڑنا شروع کیا، پھر میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اب وہ ایک دن آئے گا کہ جب میں عمران خان کے ساتھ کھیلوں گا۔ شعیب اختر: "لیکن... لیکن ریٹائر ہو کے میں نے کہا نہیں، اگر میں ان کے ساتھ کھیل نہیں سکا، میں ان سے ملوں گا ضرور۔" میزبان: "ہاں، صحیح ہے۔" شعیب اختر: "تو پھر انہوں نے مجھ سے بڑا لاڈ کیا۔ ساری زندگی بڑا لاڈ کیا عمران خان نے مجھ سے، بہت لاڈ کیا۔" میزبان: "اب دل نہیں کرتا؟" شعیب اختر: "ہاں..، کیوں نہیں کرتا! میں ایسا نہیں ہوں، میں اوپنلی بات کرتا ہوں۔" میزبان: "میں بھی اوپن ہی بات کرتا ہوں شعیب اختر: "میں نے کرکٹ اسٹارٹ کی صرف عمران بھائی کی وجہ سے۔" تابش ہاشمی: "بہت سارے لوگوں کا یہی کہنا ہے۔" شعیب اختر: "ٹھیک ہے، اور میں نے... اس لیے اسٹارٹ کی کہ ایک میں نے سیلفش آدمی دیکھا..."..جو اپنے لیے نہیں کھیلتا تھا۔ جو ملک کے لیے کھیلتا ہے ، جو کوشش کرتا کہ یار ملک جیتے، میچ ونر ہوں گے، بیٹنگ پہلے کرنے آ جائیں گے،

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

112,535 Aufrufe • vor 1 Monat

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 Aufrufe • vor 7 Monaten