Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

“اگر انگریز رنجیت سنگھ کو نہ روکتا توآج سارا سندھ پنجاب ہوتا ۔تالپور پنجابی فوج سے لڑنے کے قابل نہ تھے۔”صوبہ سندھ کے قیام میں رنجیت سنگھ ،انگریز اور پاکستان کےتاریخی کردار اور حقائق کی کہانی ندیم رضوی کی زبانی۔

25,539 просмотров • 8 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔

Chaudhry Nazeer Kahut

60,153 просмотров • 21 дней назад

سندھیوں نے اس وقت پنجاب اور سندھ کا بارڈر اور پیٹرول بند کر رکھا ہے ۔پورا سندھ اس وقت پنجاب کو دی جانیوالی گالیوں سے گونج رہا ہے اور سندھی سوشل میڈیا پر پنجاب کے ساتھ کتوں والا سلوک کررہے ہیں ۔کسی بھی نااہل ،احمق پنجاب حکومت نے آج تک کبھی بھی ایمرجنسی کے لئے ایک مہینے تک کا پیٹرول ذخیرہ نہیں کیا ۔پنجاب کے پاس پیٹرول کا دو دن کا ذخیرہ تھا جو ختم ہوگیا ۔ سارے پنجاب میں پیٹرول پمپ تیزی سے بند ہو رہے ہیں ۔اگر اس وقت انڈیا پاکستان پر حملہ کردے تو پنجاب کا کیا بنے گا۔پنجابی حاکم تو سارے کے سارے پنجاب کو چھوڑ کر پہلی فلائٹ سے لندن امریکہ بھاگ جائیں گے ۔ پیچھے پنجابی مرنے کے لئے رہ جائیں گے ۔ جو کچچھ سندھی پنجاب کے ساتھ کررہے وہ تو کبھی ہندووں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ نہیں کیا۔ پنجابی کی تقسیم کی سرائیکی صوبہ سازش کی پشت پر بھی سندھی ہیں ۔پنجابی اب آگے کا سوچیں پاکستان کے بغیر کیسے ،سندھ کے بغیر کراچی کے بغیر کیسے زندہ رہنا ہے ۔ کس کے ساتھ مل کر رہنا ہے اور کس کو کچل کر رکھ دینا دینا چاہیے۔ پنجابیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر کراچی کی بندرگاہ اور سندھ اور پنجاب بارڈر کسی بھی وقت اچانک بند ہو سکتا ہے ۔سندھیوں سے میری درخواست ہے کہ کبھی نہ کھولیں ۔پنجاب ہر حال میں چولستان کی نہریں بنا کر چھوڑے ۔پاکستان اللہ کے حوالے کرو۔جو ہوگا دیکھا جائیگا۔ #NoMoreCannalsOnIndus #nomorecannalsonindusriver

Chaudhry Nazeer Kahut

22,822 просмотров • 1 год назад