正在加载视频...

视频加载失败

اگر کسی کو گھر میں ہارٹ اٹیک آجائے تو پہلے دس منٹ میں کیا کرنا چاہیے ۔ یہ ڈاکٹر بتارہے ہیں کہ اگر آپ کی عمر 30 سال سے زیادہ ہے تو اپنے پاس ڈسپرین اور اینجی سیڈ کی ٹیبلٹس ضرور رکھیں یہ جان بچاسکتی ہیں ۔ آج کل...

71,736 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

4 条评论

Saleem khan 的头像
Saleem khan1 个月前

مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھائیں تنگ کپڑے ڈھیلے کریں اسے اکیلا نہ چھوڑیں اور طبی امداد آنے تک اس کی حالت پر نظر رکھیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحت و عافیت عطا فرمائے آمین🤲

Abdurrahman Bhatti 的头像
Abdurrahman Bhatti1 个月前

abi thori der pehle masjid men mere samne 1 shaks ko heart attack aya aur death ho gae 😥

Zeb khan 的头像
Zeb khan1 个月前

Pta ni

Muhammad UMAiR 的头像
Muhammad UMAiR1 个月前

خود ہی بچاؤ کرنا ہے۔ یہاں ہسپتالوں میں کوئی پرواہ نہیں کرتا

相关视频

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 次观看 • 10 个月前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

”وکالت ایک ایسا پیشہ ہے جسے "جیلس مسٹریس" کہا جاتا ہے یعنی اگر آپ نے اس سے ذرا بھی توجہ ہٹائی تو یہ آپ کو چھوڑ دیتی ہے۔ اس پیشے میں کامیابی کے تین اصول ہیں" کام، کام اور کام"۔ ایک وکیل کے پاس جب کوئی کلائنٹ آتا ہے تو سب سے پہلے اسے کیس کو مکمل طور پر سمجھنا پڑتا ہے۔ اگر کیس جائز ہو تو پھر اس کے ہر فیکٹ پر گہری تحقیق اور محنت کی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات وکیل کو خود اپنے کلائنٹ سے بھی زیادہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد انہی حقائق کو قانون کی روشنی میں ہر زاویے سے پرکھا جاتا ہے تاکہ کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔ پھر عدالت میں جا کر جج کو دلائل کے ذریعے قائل کرنا ہوتا ہے، جس کے لیے پہلے سے یہ تیاری بھی ضروری ہوتی ہے کہ جج کیا سوال پوچھ سکتے ہیں اور مخالف وکیل کیا دلائل دے سکتا ہے۔ اسی لیے ہر کیس کے لیے ایک وکیل کو اتنی محنت اور تیاری کرنا پڑتی ہے جیسے وہ کسی بڑے امتحان کی تیاری کر رہا ہو“ سینیٹر علی ظفر #TeamAliZafar

Barrister Syed Ali Zafar

14,737 次观看 • 4 个月前

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 次观看 • 9 个月前

آن لائن ارننگ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سکل بہت ضروری ہے۔ سکل سے مراد یہ بھی نہیں ہے کہ آپ پروفیشنل ویڈیو ایڈیٹنگ جانتے ہوں یا آپ کے پاس اس کے متعلق ڈپلومے ہوں ۔ ایسا نہیں ہے آپ کو اگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آتا ہے تو بھی آپ کام کر سکتے ہیں ۔ اس ویب سائٹ پہ ایک پرفائل ہے جس پہ لکھا ہے کہ " میں آپ کو چیٹ جی پی ٹی 3 سے 200 بلاگ پوسٹ لکھ کر دوں گا " اور اس کام کے لیے وہ 300$ چارج کررہا ہے۔ آج کی ڈیٹ میں ٹوٹل 26 آرڈر اس نے لگائے ہیں اور 2 پراگریس میں ہیں۔ (ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں ) آپ کو ایسی ویب سائٹ بتاؤ گا جہاں آپ یہ والی سروسز بھی بھیچ سکتے ہیں ۔ اور لوگ پہلے ہی اس سے ارننگ بھی کر رہے ہیں۔ فرض کریں آپ کو کچھ بھی نہیں آتا اردو تو آتی ہوگی ۔ وہی پروفائل بنائیں اور سیل کریں۔ کوئی بھی زبان آتی ہے آپ اس کو دوسروں کو سکھائیں ۔ اگر امیج ایڈیٹنگ آتی ہے آپ کو عام سی مثلاً فوٹو کا بیک راونڈ چینج کرنا ( یہ ایک ویب سائٹ پہ آپ بس اپنی فوٹو ڈالیں اور وہ آپ کو بیک راونڈ ختم کرکے دے دے گی) فوٹو کو ری سائز کر دیں ۔ کچھ تصاویر تھوڑی دھندلی سی ہوتی ہیں ان کو صیح کرکے۔ آپ کی آواز خوبصورت ہے تو اپ اپنی آواز وائس اوور کرکے دیں اور ارننگ کریں ۔ اگر آپ ٹیچر ہیں آپ اپنے سبجیکٹ سے متعلق سروسز سیل کر سکتے ہیں۔ نہیں تو Ai یوز کرنا تو آتا ہوگا۔ اے ائی سے بلاگ لکھیں ۔ تصویر بنائیں وائس ایڈیٹ کر دیں کو بھی کام آتا ہے کر دیں ۔ گوگل ٹرانسلیٹر تو سب کے پاس ہے ٹرانسلیٹ کردیں لوگوں کو اس سے بھی ارننگ کر سکتے ہیں ۔ اس پلیٹ فارم کا نام Comeup ہے۔ اکاؤنٹ بنائیں اور جو بھی آتا ہے سیل کریں۔ پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں سے شیئر کریں ۔کمنٹ میں اپنی راۓ کا اظہار کریں۔

𝐓𝐞𝐜𝐤 𝐖𝐢𝐬𝐞𝐫

47,216 次观看 • 2 年前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,449 次观看 • 1 年前

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے

Agha Sheikh Sarwar

41,790 次观看 • 1 个月前

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan

Dr Waqas Nawaz

20,233 次观看 • 4 个月前

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 次观看 • 2 个月前