Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اہم ترین گفتگو اب اسلام آباد ہائیکورٹ کو سماعت فکس کرنی پڑے گی، القادر کیس ایک ہیرنگ اور صرف 15 منٹ کی مار ہے، بیرسٹر سلمان صفدر #VictoryForImranKhan Team Insafians 𝗣𝗼𝘄𝗲𝗿

11,858 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

18,209 просмотров • 1 год назад

گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد سعد عباسی نے صرف ایک کال کی... پھر فوراً اپنا موبائل بند کر دیا۔ وہ سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا، موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی، بائیکیا لی اور دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔ بیگ وہیں رکھوایا، پستول دوسری جگہ چھپا دی، پھر کپڑوں کی دکان سے شرٹ بدل کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اگلا پڑاؤ فیض آباد بس اڈہ تھا، جہاں اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور روانہ ہو گیا۔ ادھر پولیس اس کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔ سعد نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے بھیرہ کے قریب بس سے اتر کر دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا۔ اسے لگا پولیس لاہور میں اسے تلاش کرتی رہے گی، مگر اس کا یہی منصوبہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے کسی اور کے فون سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا: "میں اپنا سامان لینے آ رہا ہوں۔" بدقسمتی سے پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔ سعد خود سامنے آنے کے بجائے ایک بچے کو بیگ لینے بھیجتا ہے۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر اس کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیر لیا اور ملزم گرفتار ہو گیا۔ اب اس کے فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے پوری فرار کی کہانی کو بے نقاب کر دیا۔

Shehroz Azhar

148,614 просмотров • 1 месяц назад