正在加载视频...

视频加载失败

ایبٹ آباد:ڈاکٹروردہ مشتاق کااغواءکےبعدقتل،لاش مل گئی بچپن کی دوست اسکےشوہرنےقاتلوں کےحوالے کیا ملزمان کاانکاونٹرکرکےفوری انصاف ہوناچائیے۔

51,173 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

رات کو جب لاوارث خواجہ سرا کی وفات کا علم ہوا تو تب ہم گنتی کے چند لوگ تھے ، محمد ناصر ، رجب علی آزاد ، قدوس سید ، نوید سواتی ، ریاض یوسفزئی ، ملک سیف ، بابر خان ، ڈاکٹر عامر اور بوڑھے خواجہ سرا ، عجیب سی بے بسی تھی ، ایک شخص کی لاش رات سے صبح نو بجے تک اسپتال پڑی رہی ، سوشل میڈیا پر دہائیاں دی گئیں کہ ورثا کی تلاش ہے ، مگر کوئی سامنے نہیں آیا ، نو بجے لاش اٹھائی گئی اور ایبٹ آباد نواں شہر پہنچائی گئی ، امید ویلفیئر کے چند لوگ اور حساس روحیں ، پھر کرم ہو گیا لوگ کہتے تھے خواجہ سراؤں کا جنازہ رات کو ہوتا ہے ، کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا ، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ، جنازہ دن کو ڈھائی بجے رکھا گیا ، حجرے میں جگہ کم پڑ گئی ، عوام ہی عوام تھی ، علماء تھے ، صحافی تھے ، سیاست دان تھے ، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی کہنے والوں نے کہا یہ نواں شہر کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک جنازہ تھا ، لوگوں نے کہا یہ فرزند نواں شہر ہے ، خواجہ سرا قبر پر کھڑے تھے ، فرق مٹ گیا ، لوگوں نے محبت کی اور کمال کیا ، رات کے اندھیرے میں لاش اٹھانے والا تصور مٹا دیا ، خواجہ سرا الگ جنس ہیں انہیں خود سے دور رکھنے والی بات بھی ہوا ہوئی ، علماء سیاست دان صحافی عوام خواجہ سرا ایک صف میں تھے ، سچ ہے کہ ایبٹ آباد بازی لے گیا ، روح کو قرار آ گیا ، ایک بوڑھے خواجہ سرا نے کہا زندگی عزت کی نہیں ملی لیکن یہ یقین ہو چلا کہ موت عزت والی ہو گی ، لوگ کندھا دینگے اور اعزاز کیساتھ دفنائیں گے - ایک بار ایک دوست نے پوچھا تھا کہ آپ کی خواہش کیا ہے ؟ عرض کیا خواہشیں بہت ہیں لیکن ایک خواہش ہے جس کی پوری ہونے کی تمنا ہے کہ یہ سوسائٹی خواجہ سراؤں کا احترام کرنے والی بن جائے ، خواجہ سراؤں کے احترام کی خواہش ہے آج رب نے خواہش پوری کر دی - عامر ہزاروی

Sabookh Syed | Journalist

70,583 次观看 • 9 个月前

تھانہ صدر: غیرت کے نام پر بہن کو گولی مار دی گئی! بڑا انکشاف! پسروڑ: مرضی کی شادی کا جرم، والد اور بھائی نے دھوکے سے بلا کر بہن پر گولیاں برسا دیں! تھانہ صدر کے گاؤں سرک پور میں افسوسناک واقعہ! اریج نامی خاتون، جس نے اپنی مرضی سے خلیل احمد سے شادی کی تھی، اسے بھائی صدام اور والد خورشید نے پیار سے گھر بلایا اور پھر بھائی نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ کیس میں نیا موڑ: ملزم کا والد خود مدعی بن گیا: زخمی خاتون کے شوہر خلیل احمد کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اصل ملزمان کو بچانے کے لیے والد کو مدعی بنا دیا ہے۔ شوہر کی دہائی: خلیل احمد نے ایس ایچ او کو درخواست دے دی کہ مدعی تبدیل کیا جائے اور اسے انصاف دیا جائے۔ ویڈیو بیان منظرِ عام پر: زخمی خاتون نے ہسپتال سے اپنا ویڈیو بیان جاری کر دیا ہے جس میں سچی داستان بیان کی گئی ہے۔ عوامی مطالبہ: اہل علاقہ سراپا احتجاج ہیں کہ ایف آئی آر درست کی جائے اور شوہر کو مدعی بنا کر اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ کیا غیرت کے نام پر بہنوں کی جان لینا جائز ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں اور اس آواز کو آگے پہنچائیں!

Sajid Hussain

283,530 次观看 • 3 个月前