Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایران، اسرائیل اور امریکہ کا تنازع دراصل فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کا ایک تسلسل ہے، اگر ایران میں انہیں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو پورے خطے پر اسرائیلی اور صیہونی بالادستی ناگزیر ہو جائے گی، اس لیے اس وقت پوری اسلامی دنیا کو اکھٹے ہوکر ایک اسلامی...

24,451 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 Aufrufe • vor 2 Jahren

لاہور: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو لاہور: اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان لاہور: قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے، مولانا فضل الرحمان جاری کردہ : میڈیا سیل جے یوآئی پاکستان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

224,713 Aufrufe • vor 6 Monaten

پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد 3 اکتوبر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو پاک سعودی دفاعی معاہدے کا دل وجاں سے خیر مقدم کیاہے،مولانا فضل الرحمان آرزو تھی کہ سعودیہ اور پاکستان اسلامی دنیا کی قیادت کریں،مولانا فضل الرحمان دونوں ممالک نے اسلامی دنیا اور خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ معاہدہ کیا ہے اس پر ہم سعودیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،مولانا فضل الرحمان اب ابتداء ہوگئی ہے، دیگر اسلامی ممالک بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں،مولانا فضل الرحمان ٹرمپ امن معاہدے پر حکومت پاکستان کی پالیسی سے متفق نہیں ہوں،مولانا فضل الرحمان ٹرمپ کی اپنی باتوں میں تضاد ہے ، اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، یہ معاہدہ قابل قبول نہیں ہے،مولانا فضل الرحمان جو پہلے نکات پیش کیے اور جو بعد میں پیش کے ان میں فرق ہے، اسلامی دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے ان سے ملاقات کی انہوں نے خود معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا،مولانا فضل الرحمان **ٹرمپ معاہدے میں گریٹر اسرائیل کا راستہ نہیں روکا گیا، اسرائیل کا ہاتھ کھلا چھوڑنے اور فلسطین کو محکوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس طرح معاہدے نہیں ہوتے* مولانا فضل الرحمان سینیٹر مشتاق مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کے لیے پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے،مولانا فضل الرحمان ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں اللہ ان کو محفوظ رکھے،مولانا فضل الرحمان جب تک اسرائیل گریٹر اسرائیل کی بات کرے گا ہم مکمل فلسطین کی بات کریں گے،مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,908 Aufrufe • vor 11 Monaten

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,212 Aufrufe • vor 2 Jahren

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 Aufrufe • vor 6 Monaten

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ممکنہ اہداف کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے جس میں سب سے اوپر سعودی عرب کی ’یامبو‘ (Yambo) پائپ لائن اور دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات (UAE) کی ’فجیرہ‘ (Fujairah) آئل ریفائنری شامل ہے۔ اس کے علاوہ یمنی حوثیوں کے ذریعے باب المندب کی آبنائے کو بند کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر ایران ان میں سے کسی ایک ہدف کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو پوری دنیا کا نظام الٹ پلٹ ہو سکتا ہے۔ ​معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف باب المندب سے روزانہ تقریباً 60 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔ اسی طرح فجیرہ ریفائنری دنیا کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے اور یامبو پائپ لائن سعودی عرب کو بحیرہ احمر سے ملانے والی واحد اہم شریان ہے۔ اگر تیل کی سپلائی کا یہ سلسلہ کہیں بھی متاثر ہوتا ہے تو طلب اور رسد کا توازن بگڑ جائے گا، جس سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بے قابو ہو جائیں گی اور اس نقصان کی تلافی میں مہینوں لگ سکتے ہیں

Muzamil

23,516 Aufrufe • vor 5 Monaten

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 Aufrufe • vor 6 Monaten