Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ۲۷ ستمبر کی لانگ مارچ سے متعلق سماعت پر اپنی رائے دے دی۔ ویڈیو کلپ 👇 تفصیلی انٹرویو ⬇️ #MJtv BREAKING - Exclusive MJtv Interview with KPK Advocate General Shah... via YouTube

81,954 views • 18 days ago •via X (Twitter)

3 Comments

Abrar Sultan e Aalam's profile picture
Abrar Sultan e Aalam18 days ago

@YouTube

MysteRious's profile picture
MysteRious18 days ago

@YouTube Es k leay teez banda chaheay jo en besharmo k ankho mai aankhy daal kar baat karen. En se na ho payega.😏

أسد الشرق 🦁's profile picture
أسد الشرق 🦁18 days ago

@YouTube ہم پاکستانی ہیں۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون بعد میں۔ #پاکستان_سب_سے_پہلے

Related Videos

پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو رکوانے کے لیے عاصم منیر رجیم کا عدلیہ کا استعمال، اچانک ہی ایک محب وطن شہری وقاص احمد پیدا ہو گیا ہے جسے لانگ مارچ سے ملک کو نقصان کا خطرہ ہے جس کی درخواست بھی فوراً اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگ گئی اور عسکری چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے لارجر بینچ بنا کر 10 ستمبر کی تاریخ بھی دے دی ہے، عسکری جج سرفراز ڈوگر نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، ایڈوکیٹ جنرلز، اسلام آباد کے آئی جی، چیف کمشنر، ڈی سی اور عدالتی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی طلب کر لیا ہے، یہ آرمی اسٹیبلشمنٹ کے بہت پرانے ہتھکنڈے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے محب وطن پاکستانی عدالتوں میں لے آتے ہیں اور اس مرتبہ تو اسٹیبلشمنٹ کا ذاتی ملازم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی کرسی پر بیٹھا ہے، عاصم منیر رجیم کو پتہ ہے کہ عوام اس نظام سے تنگ آ چکی ہے اور 27 ستمبر کو بہت بڑی تعداد میں عوام نے نکلنا ہے اس لیے لانگ مارچ رکوانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

23,119 views • 19 days ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : پی ٹی آئی کا چھکا, لانگ مارچ پر پی ٹی آئی نے اپنی Strategy تبدیل کرکے حکومت کیلئے مزید پریشانی کھڑی کردی,!!!🔥🔥🔥🛑 پی ٹی آئی اپنا احتجاج شروع تو 27 ستمبر سے ہی کر رہی ہے, لیکن اسلام آباد اکتوبر کے پہلے ہفتے تک آئینگے ۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا, جس میں لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی گئی کہ, پارٹی قیادت نے پنجاب کی سرحد پر دھرنوں اور مرحلہ وار آگے بڑھنے کی تجویز دی گئی ۔ یعنی ہم مرحلہ وار اسلام آباد پہنچیں گے, ایسا نہیں ہوگا کہ یہاں سے نکلیں اور اگلے دن اسلام آباد پہنچ جائیں ۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت اٹک پل, ہزرو کے قریب موٹر وے, ہری پور, اور کوہاٹ کے خوشحال گڑھ یعنی وہ تمام راستے جہاں سے اسلام آباد انٹر ہوا جاسکتا ہے ۔ وہاں سے انٹر ہونے کی کوشش کی جائیگی ۔ اور اگر انہیں حکومت روکنے کی کوشش کرے گی تو یہ وہیں دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے ۔اور اس میں الزام حکومت پر آئیگا کہ حکومت راستے بند کر رہی ہے ۔ پی ٹی آئی نہیں کر رہی ۔ تجویز کے تحت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے ۔ تقریباً 2 گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں احتجاج کی حکمت عملی پر فیصلہ نہ ہو سکا ۔ حتمی لائحہ عمل کیلئے 5 ستمبر کو دوبارہ اجلاس بلایا گیا ہے ۔یہ جان بوجھ کر بھی پی ٹی آئی ابھی فیصلہ نہیں کر رہی, تاکہ حکومت کو اپنی حکمت عملی بنانے کا موقع نہ ملے۔ اسداللہ خان 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

73,124 views • 5 days ago

🚨🚨 بریکینگ نیوز : 27 ستمبر بالقسط لانگ مارچ کی تیاریاں زور و شور سے جاری, پورا پلان تیار کر لیا گیا ہے, !!!!🔥🔥🔥 27 ستمبر لانگ مارچ کی تیاریاں کیسے, اور کس طرح کی جارہی ہے, تو اس سلسلے میں میں نے KPK حکومت کے ترجمان شفیع جان سے رابطہ کیا۔ اور پوچھا کہ کیا تیاریاں ہورہی ہے, ظاہر ہے یہ تیاریاں حکومتی سطح پر نہیں ہورہی ، پارٹی سطح پر ہورہی ہیں ۔ تو میں نے پوچھا پارٹی سطح پر کیا پلان کیا جارہا ہے, جس پر انہوں نے مجھے بتایا کہ خیبرپختونخواہ سے 50 کروڑ کے فنڈز جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے, یعنی اس لانگ مارچ کیلئے 50 کروڑ روپے جمع کئے جائینگے, صرف خیبرپختونخواہ کی عوام سے ۔ اب یہ کیسے ہوگا, تو اس کیلئے اور ہرMPA کو 50۔لاکھ پارٹی فنڈ میں جمع کرانے کا کہا گیا ہے ۔ اب کیسے کرنے ہیں وہ اپنے کارکنوں سے جمع کریں, وہ اوورسیز پاکستانیوں سے ریکوسٹ کریں ۔ وہ اپنے ذاتی فنڈز سے دیں ۔ کیسے بھی کرکے ہر MPA کو پارٹی فنڈ میں 50 لاکھ جمع کرانا ہے, پارٹی۔ ہر صورت!! پھر اسکے علاؤہ ہر MPA کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 ستمبر کے بعد اپنے حلقے میں رہے گا, اور کارکنوں سے ملاقات کرینگے, کمیٹیاں بنائیں گے, کارنر میٹنگ کریں گے, اور لوگوں سے ملیں گے ۔ اور جتنی یہ پولیٹیکل activities کرینگے ۔ اسکی ویڈیو بنا کر جنید اکبر کو بھیجی جائینگی ۔ جنید اکبر کو ہر MPA اپنی کارکردگی کی رپورٹ جمع کروائے گا ۔ کہ وہ لانگ مارچ کے سلسلے میں کیا کر رہا ہے ۔تو یہ پارٹی کے تمام MPA's کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں ۔ اس کے علاؤہ۔ kp میں کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں, جو ٹرانسپورٹ اور کھانے کے انتظامات کو دیکھے گی ۔ اس کے علاؤہ پنجاب کی میٹنگ آج بلائی جائیگی کہ پنجاب میں کون لیڈ کرے گا ۔ تو تیاریوں سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی سنجیدہ ہے, 27 ستمبر ایک فیصلہ کن دن ہوسکتا ہے ۔ اسداللہ خان 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

15,259 views • 1 month ago

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جو مؤقف پیش کیا ہے، وہ گمراہ کن ہے،ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ مارچ 2025 سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا ایک فیصلہ اور حکم موجود ہے، جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ پاکستان کے قوانین اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے جیل قوانین، جہاں اس وقت عمران خان قید ہیں، ایسی ملاقاتوں کی اجازت دیتے ہیں۔ عدالتوں نے بھی حکم دیا تھا کہ ان قوانین پر عمل کیا جائے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ہر ہفتے کم از کم دو ملاقاتیں کروائی جائیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی ریکارڈ جھٹلا نہیں سکتا کہ 25 مارچ 2025 سے، جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا یہ فیصلہ اور حکم جاری ہوا، اس حکم پر ایک مرتبہ بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد سے ایک بھی ایسا ہفتہ نہیں گزرا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دی گئی دونوں ملاقاتیں کروائی گئی ہوں۔ اکتوبر 2025 کے بعد تینوں بہنوں میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد، یعنی 2 دسمبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک، عمران خان کی کسی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تشکیل دیے جانے والے ایک میڈیکل بورڈ کو ان کا معائنہ اور علاج کرنا تھا۔اس بورڈ میں ڈاکٹر فیصل سلطان، جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں، اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، کو شامل کیا جانا تھا۔اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ یہ عمران خان کے حقوق کی نفی ہے، بطور خاندان عمران خان کی بہنوں کے حقوق کی نفی ہے، پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور تشدد کی بین الاقوامی تعریف کے مطابق اسے تشدد کے زمرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔اس پورے عرصے کے دوران عمران خان کے وکلا کو بھی ان سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور نہ ہی بشریٰ بی بی کے وکلا کو ان سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی گئی۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

21,030 views • 28 days ago

ہائی کورٹ بار کے جوائنٹ سیکرٹری ندیم اختر جویہ کی صحافی کے خلاف 7ATA کے تحت درج ایف آئی آر پر اسلام آباد پولیس پر تنقید اسلام آباد – 2 اکتوبر 2024 – سینئر صحافی جاوید اقبال اور ان کے تین کمسن بچوں پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد اور غیر قانونی گرفتاری پر ملک بھر کی صحافتی اور قانونی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری ندیم اختر جویہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "اسلام آباد پولیس صحافیوں اور وکلاء کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔" یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب جاوید اقبال ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا کے دفتر میں ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس دوران ایس آئی عدیل شوکت، ایس ایچ او آبپارہ اور ایس آئی عظیم، ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن نے انہیں جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو بنائی ہے۔ ان کا موبائل فون چھین لیا اور ان پر بچوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔ جب فون کی تلاشی لی گئی تو اس میں کوئی ویڈیو یا تصویر نہیں ملی۔ اس کے باوجود جاوید اقبال اور ان کے تینوں بچوں، جن میں سب سے بڑا بچہ پانچ سال کا تھا، کو گرفتار کر کے تھانہ رمنا منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے اپنی غیر قانونی کارروائی کو چھپانے کے لیے جاوید اقبال کے خلاف ایک جھوٹا ایف آئی آر (نمبر 857/24) درج کرایا، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (7ATA)، دفعہ 353، 506-II، 355 اور 186 شامل کی گئیں۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ظلم اور زیادتی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے ورکرز سید بلال عزت نقوی نے اسلام آباد پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی ، جو کہ ایک تجربہ کار افسر ہیں، کو پولیس افسران کے رویے کے حوالے سے تربیتی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صرف ٹک ٹاک ویڈیوز جرائم کو روکنے میں مددگار نہیں ہو سکتیں۔" جاوید اقبال اور ان کے کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ ظالمانہ اور غیر قانونی کارروائی نے صحافتی اور قانونی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو اس واقعے کو پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ندیم اختر جویہ نے مزید کہا کہ پولیس کی یہ کارروائیاں صحافیوں اور وکلاء کو ڈرانے اور دبانے کے لیے کی جا رہی ہیں، لیکن قانونی برادری ان مشکل حالات میں اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر شہری تنظیمیں اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ جاوید اقبال کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور اس واقعے میں ملوث پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ Islamabad Police Shehbaz Sharif Saleh Mughal Farhan Hussain Matiullah Jan Siddique Jan Sabir Shakir #freejavaidiqbal #islamabadpolice #CHANELSpringSummer Hamid Mir حامد میر

Syed Bilal Izzat Naqvi

42,663 views • 2 years ago

سپریم کورٹ میں عمران خان صاحب کے قانونی حقوق کی بحالی اور 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ گزشتہ منگل کو بھی عمران خان سے فیملی کی ملاقات نہیں کروائی گئی جبکہ انہیں بچوں سے فون پر بات کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، حالانکہ سپریم کورٹ اپنے 18 اگست کے حکم میں اہلِ خانہ سے ملاقات اور بچوں سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دے چکی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ روز عمران خان صاحب کی قیدِ تنہائی ختم کرنے، فیملی سے ملاقات کروانے اور بچوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا ہے، جس کی عدالتی حکم کی مصدقہ کاپی آج موصول ہونے کا امکان ہے۔ چنانچہ دونوں عدالتوں کے واضح احکامات پر عملدرآمد اور عمران خان صاحب کے قانونی و آئینی حقوق کی بحالی کے لیے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ درخواست کو دائری نمبر Diary No. 18350/2026الاٹ کر دیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ Criminal Orginal No_______/2026 الاٹ ہونا باقی ہے جس کے بعد سماعت کے لئے مقرر ہو گی۔

Khalid Yousaf Chaudry

10,516 views • 27 days ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہتی ہے، ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا گیا اور شرکاء نے لانگ مارچ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کو مکمل تیاری، بھرپور سیاسی قوت، عوامی شمولیت اور منظم انداز میں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی و جمہوری قوتوں سے رابطوں اور مشاورت کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

PTI

51,661 views • 1 month ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44 واں اجلاس! کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت صوبے میں خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1990 میں خیبر بینک کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر رسکس کی کوریج فراہم کرے گی، جبکہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور اور دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ پشاور میں بعض اہداف پر 80 فیصد اور دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل پر ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت، کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ #CMKP #KPCabinetMeeting #SohailAfridi

Government of KP

12,386 views • 9 months ago