Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایک ادارے کا سیاست میں بہت گھٹیا کردار ہے،سارے کام کرنے ہیں اپنا کام نہیں کرنا،پتلونیں اتار کر آ گئے اور اب اپنی بھڑاس لوگوں پر نکال رہے ہیں،کتنے کم ظرف لوگ ہیں،کتنے بذدل لوگ ہیں کہ اپنے شہریوں کے خلاف اپنی سب طاقت استعمال کر رہے ہیں،آپکے پاس...

211,819 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Ahmad Jamal 🇨🇦|| 🇵🇰
Ahmad Jamal 🇨🇦|| 🇵🇰vor 2 Jahren

@amber_rj لبرلز کی رانی کو سب کہنے کی اجازت ہے کیونکہاگر کچھ کہا تو آقا ڈنڈا دے دیں گے اور رونے بھی نہی دیں گے۔

Profilbild von HUMANITY 🌻IK🌻
HUMANITY 🌻IK🌻vor 2 Jahren

@amber_rj

Profilbild von Rai Muhammad Munir
Rai Muhammad Munirvor 2 Jahren

@amber_rj @soldierspeaks قلم کی طاقت ہی ہے کہ 75 سالہ اقتدار خطرے میں ہے ورنہ تو وہ کہتے دن اور ہم مان لیتے اگر وہ کہتے رات تو ہم مان لیتے مگر اب ہمارے Concept کلیر ہو گئے ہے

Profilbild von Tafi@X
Tafi@Xvor 2 Jahren

@amber_rj اڑوھے بھیا یہ تو پتلون اتار رہی ہیں 🤣🤣

Profilbild von ෴❤️෴ B҉A҉I҉T҉U҉L҉L҉A҉H҉ ෴❤️෴
෴❤️෴ B҉A҉I҉T҉U҉L҉L҉A҉H҉ ෴❤️෴vor 2 Jahren

@amber_rj کیا خیال ہے کہ اگر ایسی باتیں تحریک انصاف کے کوئ رہنما کرتا تو نجانے ابتک کتنے Fir کٹ چکے ہوتے اور دجالی میڈیا ناچ ناچ کے گنگروں توڑ رہا ہوتا خیر اچھی بات ہے آئینہ دیکھانا چاہئے ایسے ڈالرز فروشوں کو کہ اب عوام کے نظروں میں ننگے ہو

Profilbild von Mubashir Sharif
Mubashir Sharifvor 2 Jahren

@amber_rj خدا کیلئے سوچیں کہ عوام آپکو کیسے یاد کرتی ہو گی؟ کیونکہ عوام کی آواز ہی نقارہء خدا ہے، عوام ہی ریاست ہے، عوام ہی پاکستان ہے۔ #انصاف_کا_جنازہ #برگر_سے_اتنک_وادی_تک #قوم_کی_آکسیجن_عمران_خان

Profilbild von ســـــــــــــــــــــــردار محـــــــــــــــــمد
ســـــــــــــــــــــــردار محـــــــــــــــــمدvor 2 Jahren

@amber_rj ابھی بدنامی نہیں ہو رہی جرنیلوں کی

Profilbild von قیدی نمبر 804
قیدی نمبر 804vor 2 Jahren

@amber_rj ان جرنیلوں کے گندے کپڑے پولیس بیوروکریسی دھوتی ہے اور عدلیہ اوپر خوشبوؤں لگاتی ہے اگر عدلیہ ہی کھڑی ہو جائے تو جرنیل کچھ نہیں کر سکتے لیکن سب کانے ہیں ایک دوسرے کے #عمران_خان_تو_آئے_گا #چاچو_وسکی #کرپٹ_عڈلیہ

Profilbild von Amina
Aminavor 2 Jahren

@amber_rj I don't trust her at all. Right now we need a leader who can unite us as a NATION. On the other hand NEUTRALS want us divided. Not whole army is bad rather their top generals are sellouts.

Profilbild von Fareed Ahmed
Fareed Ahmedvor 2 Jahren

@amber_rj اسلام اور مسلمانو سے محبت کرنے والے کہاں ہیں آج, کیا اسرائیل جو فلسطینی مسلمانو کے ساتھ کر رہا ہے اور قبلہ اول جہاں کل نمازِ ادہ نہیں کرنے دی کیا اُن کو نظر نہیں آیا, یا سارے اس وقت جہاد میں گے ہوے ہیں اور ہم اسلام دشمنوں کو نظر نہیں آ رہے

Ähnliche Videos

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,121 Aufrufe • vor 8 Tagen

"ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ بہت کم ہے۔" ​"افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں (وہ سب جانتے ہیں)۔ پشتون وطن میں تو ہر جگہ بارود (جنگ و جدل) کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔" ​"یہ تو پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب تک لوگوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ خدانخواستہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔ اگر ایسا ہوا، تو پھر کیا ہوگا؟" ​"دریائے سندھ کا بالائی علاقہ، جہاں پشتون اور بلوچ دونوں آباد ہیں، تاریخی طور پر یہ وسطی ایشیا (Central Asia) کے لوگ ہیں۔" ​"یہ دونوں وسطی ایشیا کے لوگ ہیں— پشتون اور بلوچ دونوں۔" ​"دریائے سندھ کی اس طرف پنجاب اور سندھ ہیں، اور یہ برصغیر کے لوگ ہیں۔" ​"دریائے سندھ کے اس پار، اوپر سے نیچے تک بارود کا ڈھیر ہے۔ کوئی بھی طاقت اس صورتحال کو کسی بھی وقت اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔" ​"اور وہ کیوں نہ کریں؟ اگر ہندوستان یا کوئی اور ایسا کر رہا ہے، تو کیوں نہ کرے؟ آپ کیوں اپنے بچوں کو اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ جا کر دوسروں سے امداد مانگیں؟" ​"اور اگر خدانخواستہ وہ وقت آ گیا، تو 'نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری'۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

14,201 Aufrufe • vor 2 Monaten

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 Aufrufe • vor 2 Monaten

تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں، بلوچستان کے علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے، کشمیر میں، راولاکوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں، لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں، جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں، کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں، آپ بڑے طاقتور ہیں، لیکن ہم، مجھے یاد ہے اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو، جب دسمبر 1971ء میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا: ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے اور لڑیں گے، اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے، اگلے دن ہتھیار پھینک دیئے یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے ہیں۔ ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو؟ کیوں مزے لے رہے ہو، جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے۔ اور آج 2026ء ہے۔ 1979ء میں جب افغانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی، اب آپ بتائیں کہ پینتالیس، چھیالیس سال ہو رہے ہیں، ایک ہی خطے کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے۔ اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں اپنے ارادوں سے آگاہ تو کر دیجیے۔ ہم تو سہ رہے ہیں اور سہتے رہیں گے۔ چلتا رہے گا معاملہ، چند روز اور میری جان، فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں ان حالات سے ہم نے لڑنا ہے، لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔ ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔ عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,384 Aufrufe • vor 8 Tagen