Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ایک بائیس سالہ لڑکا جسکا یہ ورلڈکپ میں صرف دوسرا میچ تھا ناروے کی طرف سے۔ اس نے جب گول کیا تو بلکل ہی منفرد سلیبریشن کی کوئی بھاگ دوڑ یا ڈانس نہیں صرف سنجیدہ اسٹائل میں جشن ❤️ جب اس نے بال انگلینڈ کے کپتان ہیری کین سے...

68,889 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 9 ay önce

برازیل کی جس ٹیم میں رونالڈو، رونالڈینیو، کاکا، اور رابرٹو کارلوس کھیل رہے تھے اسی ٹیم میں ایک پلیئر ایسا بھی تھا جسے "سائیلنٹ اساسین" کہا جاتا تھا، اس نے اپنے پورے کیریئر کے دوران خود کو یوں رکھا کہ ہوکر بھی نہیں ہوتا تھا، اور نہ ہوکر بھی ہوتا تھا یعنی یہ کسی سنائپر جیسا تھا جس کی موجودگی کا پتہ تب چلتا تھا جب اگلا ڈھیر ہوجاتا تھا اس لیجنڈ کا نام "ریوالڈو" تھا یہ نظروں میں اس لئے نہیں ہوتا کہ انٹرویوز، فوٹو شوٹس وغیرہ سے ہی گریز نہ کرتا تھا بلکہ میدان میں آتا تو یوں پوز نہیں کرتا جیسے ایک عظیم ہستی تشریف لے آئی ہے اور اس نے اب کسی عالم پناہ کی طرح ہاتھ لہرا لہرا کر رعایا سے سلامیاں وصول کرنی ہیں وہ یوں ظاہر کرتا جیسے سٹیڈیم میں اس کا کوئی چاہنے والا ہے ہی نہیں یوں سمجھ لیجئے کہ یہ فٹبال کی دنیا کا درویش تھا، جس نے خود کو مٹا کر رکھا ہوا تھا وہ بس دونوں ٹیموں کے پلیئرز اور گیم پر توجہ دیتا، کھیل کے دوران چیختا چلا نہیں پاس مانگتا نہیں بس انتظار کرتا کہ اگر آیا تو پھر گول کو 99 فیصد یقینی بنانا ہے اس کی جو چیز اسے اپنے ساتھیوں بالکل ممتاز رکھتی تھی وہ یہ کہ جب پینلٹی ایریا میں اس کے پاس بال پہنچتا تو پھر وہ اسے ایک دو سیکنڈ ہی پاس رکھتا، جب تک ڈیفنڈرز اور گول کیپر کو ہوش آتا، گول ہوچکا ہوتا اس کی ججمنٹ انتہائی اعلی درجے کی تھی لیکن فٹبال پر اس کا احسان دیکھئے کہ اس نے اس خوبصورت کھیل کو ایک شاندار گفٹ بھی دے رکھا ہے وہ گفٹ جو اس کے بعد کے فٹبال پلیئرز میں ہی نظر آتا ہے اس کا یہ گفٹ "بائیسکل کک" کہلاتا ہے یہ اس سے قبل بھی مختلف پلیئرز ٹرائی کرکے ترک کرچکے تھے کیونکہ اس لحاظ سے لگ بھگ ناممکن کک تھی کہ اس میں گول پوسٹ تو نظر ہی نہ آتا، یوں گول کی کوشش ناکام رہتی ریوالڈو نے اسے اس پرفیکشن کے ساتھ بار بار کرکے دکھایا کہ دنیا بھر کے سٹرائیکرز نے اسے سیکھ کر فٹبال کا مستقل حصہ بنا دیا یوں تو ریوالڈو نے فٹبال پچ پر بہت کچھ کر رکھا ہے، اور اسے لیجنڈز میں شمار کیا جاتا ہے مگر اس کا ایک میچ اسے فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے گا کیونکہ اس میچ میں اس نے "فٹبال کی تاریخ کی عظیم ترین ہیٹرک" کر رکھی ہے 17 جون 2001 کو یہ میچ ہوا تھا جو سپینش لیگ، لالیگا کا آخری میچ تھا بارسلونا اگر یہ میچ برابری پر بھی ختم کرتی تو اگلے سال کی چیمپئنز لیگ سے باہر ہوجاتی حریف ٹیم ویلنسیا تھی ریوالڈو نے میچ کے ابتدائی منٹوں میں ہی 30 گز کی دوری فریک کک پر پہلا گول کیا اس نے پہلے ہی ہاف میں باکس کے باہر سے سٹریٹ مگر اتنا برق رفتار دوسرا گول داغ دیا کہ گول کیپر اپنی جگہ سے ہل تک نہ سکا دوسرے ہاف کے 89 ویں منٹ میں میچ دو دو سے برابر تھا جب وہ لمحہ آیا جس نے پوری دنیا کو مبہوت کر ڈالا فرانک ڈی بویئر نے لانگ پاس بھیجا جسے ریوالڈو نے پنلٹی باکس کی لائن کے عین اوپر اپنے سینے پر یوں لیا کہ اس کی پشت مکمل طور پر ویلنسیا کی گول پوسٹ کی طرف تھی اس نے وہیں کھڑے کھڑے سینے ہی کی مدد سے بال کو ذرا سا واپس اچھالا اور آن واحد میں اس کے دونوں پیروں نے بائیسکل کک کے لئے زمین چھوڑ دی وہ زمین پر پشت کے بل بعد میں آیا اور فٹبال گول پوسٹ کے اندر پہلے پہنچا یوں یوالڈو نے تن تنہا صرف یہ میچ نہیں جتایا بلکہ بارسلونا کو چیمپئنز لیگ میں بھی پہنچا دیا اس تاریخی بائیسکل گول کا کلپ نیچے حاضر ہے، مگر کمنٹس میں اسی گول کی دو تصاویر بھی شامل ہیں۔ ان میں سے دوسری تصویر میں ڈیفنڈر کا ری ایکشن دیکھ کر ثواب داریں حاصل فرمائیں 🙃 Copied from FB

Ather Salem®

31,264 görüntüleme • 2 ay önce

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,475 görüntüleme • 6 ay önce

بیرسٹر سیف کو نورین آپا کیساتھ عمران خان سے ملاقات کے لیے بیجھنے پر اسٹبلشمنٹ کا اصرار کیوں ؟ جب عاصم منیر پہلی دفعہ 2023 میں امریکہ آیا تو PTI USA احتجاج کرنا چاہتی تھی اور اس سلسلے میں فلائیرز بھی نکال دیے ان دنوں عمران خان کے وکلاء کی ملاقات معمول کا حصہ تھی ملاقات کے لیے جن وکلاء کو جانا تھا ان میں مینول سے ہٹ کر شیر افضل مروت کا نام بھی ڈال دیا گیا شیر افضل مروت نے عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر نکل کر میڈیا میں اعلان کیا کہ عمران خان نے PTI USA کو احتجاج سے منع کیا ہے اور عمران خان نے کہا ہے عاصم منیر کی امریکہ آمد پر کسی قسم کا احتجاج نہ کیا جاۓ PTI USA نے یہ احتجاج کینسل کر دیا کیونکہ عمر ایوب نے بھی ہمیں اس احتجاج سے منع کر دیا تھا اگلی ملاقات پر ایک نامور وکیل سے خان صاحب نے پوچھا امریکہ میں عاصم منیر کے دورے پر کمیونٹی کا رسپانس کیسا تھا تو اس وکیل نے بتایا کہ احتجاج کے لیے تو آپ نے شیر افضل مروت کے زریعے نے منع کیا تھا جس پر عمران خان نے شدید سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوۓ کہا کہ میں نے تو بالکل منع نہیں کیا تھا اس وکیل کے کہنے پر میں نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان نے PTI امریکہ کو احتجاج سے بالکل منع نہیں کیا تھا اور یہ شیر افضل مروت نے جرنیلوں کی ایماء پر ساری سازش رچائی میں نے اس وکیل سے پوچھا اگر شیر افضل مروت اصرار کرے کہ مجھے عمران خان نے ہی کہا تھا تو میرے پاس اس کا کیا جواب ہو گا اس وکیل نے مجھے یقین دلایا کہ وہ پریس کانفرس کر کے بتاۓ گا کہ شیر افضل مروت جھوٹ بول رہا ہے بہر حال اس ٹویٹ پر شیر افضل مروت نے کافی اوٹ پٹنگ باتیں کیں لیکن کبھی یہ نہ کہا کہ مجھے عمران خان نے احتجاج نہ کرنے کی ہدایات دی تھیں جب عمر ایوب صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی یہیں بتایا کہ میں نے شیر افضل مروت کی عمران خان سے ملاقات کے بعد کی گفتگو کو مدنظر رکھتے ہوے احتجاج سے منع کیا تھا شیر افضل مروت سچ بول رہا تھا یا جھوٹ اس کے لیے معید پیرزادہ کا شیر افضل مروت کیساتھ دو سال پرانا انٹرویو جس میں معید پیرزادہ اس احتجاج پر سوال کر رہے ہیں آپ خود سنیں اور اندازہ لگائیں جرنیلوں نے کیسے شیر افضل مروت کو عمران خان سے ملاقات کروا کر اپنے مقاصد حاصل کیے

Waqar khan

22,774 görüntüleme • 2 ay önce