Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ایک سرکاری بابو ایک شہر میں آتا ہے ڈیکوریشن کے نام پر فنڈ منظور ہوتا ہے اور پام یا دوسرے exotic plants لگا دیے جاتے ہیں. پام یہاں کا موسم برداشت نہیں کر پاتے اور مر جاتے. پھر اگلا سرکاری بابو آتا ہے اور پھر سے یہی کہانی ریپیٹ ہوتی.

72,457 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

#بریکنگ_نیوز 🔻غزہ مجاہدین نے اسرائیلی فوج کو جہنم بھیجنے کی ایک اور نئی دھماکے دار ویڈیو جاری کردی 🔻ویڈیو میں دیکھائی گئی پہلی کارروائی میں مجاہدین یہودی فوجی ٹینکوں گاڑیوں کے اطراف میں بارودی بم نصب کرتے ہیں اور پھر ایک مجاہد RPG میزائل مارتا ہے جس سے دھماکہ ہوجاتا ہے اور آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں 🔻جتنی گاڑیاں یا ٹینک تھے وہ جل جاتے ہیں اور 24 گھنٹے تک آگ لگی رہتی ہے اور یہودی فوجی اپنی جلی ہوئی گاڑیوں کو لینے نہیں آتے 🔻ویڈیو میں دیکھائی گئی دوسری کاروائی میں ایک مجاہد یاسین 105 میزائل سے ایک یہودی بلڈوزر اور اس کے پیچھے کھڑے مرکافا ٹینک کو نشانہ بناتا ہے جس سے وہ بلڈوزر اور ٹینک جل جاتے ہیں 🔻ویڈیو میں دیکھائی گئی تیسری کارروائی بڑی زبردست اور اہم ہے - جس میں چند یہودی مرکافا ٹینک کے اطراف میں کھڑے ہوئے ہیں - ایک مجاہد میزائل مارتا ہے پھر دوسرے مجاہدین گولیوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں اور پھر ایک اور مجاہد دوبارہ میزائل مارتا ہے - اس دوران جھڑپ ہوتی ہے اور یہودی فوجیوں کے چیتھڑے اڑا دیے جاتے ہیں جو ویڈیو میں بھی دکھائے گئے ہیں 🔻ویڈیو میں چوتھی کاروائی میں ایک مجاہد مرکافا ٹینک کے سامنے آتا ہے اور یاسین 105 میزائل سے اس ٹینک کو تباہ کردیتا ہے - اللہ کی مدد دیکھیں کہ اس ٹینک میں سوار یہودی فوجی مجاہد کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جہنم واصل ہوجاتے ہیں 🔻ویڈیو کے آخر میں مجاہدین نے یہودی فوج سے ملنے والا مال غنیمت دکھایا ہے جس میں یونیفارم ہینڈ گرنیڈ بم اور اسلحہ دکھایا گیا ہے (تحریر و رپورٹ : غلام نبی مدنی) Ghulam Nabi Madni

Ghulam Nabi Madni

45,168 просмотров • 2 лет назад

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 просмотров • 4 месяцев назад