正在加载视频...

视频加载失败

ایک سوال کیا گیا تھا کہ ”تم ہو کون؟“ جسے 3 سال سے اس عوام نے دیکھا نہ سُنا، آج بھی اُسکے نام پر لاکھوں کے تعداد میں گھروں سے نکل آتے ہیں، وہ ہے عمران خان۔ اس سوال کے جواب میں پشاور جلسہ گاہ کے یہ مناظر ہی...

26,872 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 次观看 • 8 个月前

ایران کےفیصلے کون کرتا ہے؟ عباس عراقچی کے انٹرویو پڑھیں اور سنیں۔ جواب: ’’جب آپ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق یہ ذمہ داری کس کے سپرد کی گئی ہے؟ سپریم قومی سلامتی کونسل۔ سپریم قومی سلامتی کونسل۔ آئین میں اس کونسل کی تشکیل دیکھیے؛ اس میں فوجی بھی ہیں، سیاسی بھی، داخلی سیاست کے ذمہ دار بھی، خارجہ پالیسی کے ذمہ دار بھی، اقتصادی ماہرین بھی، ملک کے مالی وسائل کے ذمہ دار بھی اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ آئین نے ایسی جامع ترکیب مقرر کی ہے کہ مختلف شعبوں کے اعلیٰ ترین عہدیدار مل کر امن، جنگ اور ان سے متعلق معاملات پر فیصلہ کریں۔ البتہ آئین کے مطابق جنگ اور امن کا حتمی فیصلہ رہبر کے اختیار میں ہے۔ یعنی یہ سب پہلے سے طے شدہ ہے۔ فیصلہ سازی اس طرح نہیں ہوتی کہ میں یا آپ اندازے لگائیں کہ شاید ایسا ہو یا ویسا۔ ہر معاملے کا انتہائی دقیق حساب لگایا جاتا ہے۔ سپریم قومی سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں ہر شخص اپنے اپنے زاویۂ نظر سے تفصیلی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ عوام کی معیشت کو سہارا دینے کی ہماری صلاحیت کتنی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ عسکری اعتبار سے ہم کب تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں، اور میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ ہماری سفارتی صورت حال کیا ہے، کیا ہم تنہا ہیں یا نہیں، کیا ہمارے خلاف قراردادیں آ رہی ہیں، ہماری طاقت کہاں ہے اور کمزوری کہاں ہے۔ ان اجلاسوں میں ہر پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ وہ آخری اہم اجلاس، جس میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی، رات 9 بجے شروع ہوا اور صبح 3 بجے تک جاری رہا۔ سوال: کون سے دن؟ جواب: وہی دن جس میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی۔ سوال: یعنی آخری اجلاس، جس کے بارے میں کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بہت باتیں ہو رہی ہیں؟ جواب: جی ہاں۔ سوال: کیا ان 13 ارکان میں سے 12 نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا؟ کیا جنگ بندی کے معاملے میں بھی یہی تناسب تھا؟ جواب: جنگ بندی کا فیصلہ کہیں زیادہ سخت سیکیورٹی حالات میں کیا گیا۔ اس وقت سپریم قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ اگر اجلاس منعقد ہوتا اور اسی لمحے بمباری ہو جاتی تو واقعی پورا ملک خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ سوال: پھر جنگ بندی قبول کرنے کا فیصلہ کس طریقۂ کار سے کیا گیا؟ جواب: اس وقت چھوٹے چھوٹے اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا، یعنی تین تین اور چار چار افراد کی نشستیں ہوئیں، پھر ان سب کی آراء کو جمع کیا گیا۔ سوال: کیا سب متفق تھے؟ جواب: اس وقت بھی موافق اور مخالف دونوں طرح کی آراء موجود تھیں، لیکن اس وقت کے حالات کا بعد کے حالات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت جنگ ایسی شدت پر تھی کہ دو افراد کا ایک دوسرے سے ملنا بھی مشکل تھا، لیکن اس کے باوجود ملاقاتیں ہوئیں۔ سوال: سب متفق تھے؟ جواب: جیسا کہ میں نے کہا، وہاں بھی موافق اور مخالف دونوں قسم کی آراء تھیں، لیکن آخرکار اس شرط پر اتفاق ہوا کہ اگر امریکہ یہ قبول کرے کہ مذاکرات ہمارے پیش کردہ دس نکات کی بنیاد پر ہوں گے، تو ہم جنگ بندی قبول کر سکتے ہیں۔ سوال: کیا اس پر فوجی قیادت بھی متفق تھی؟ جواب: اصل معاملہ تو فوجی قیادت ہی کا ہے، کیونکہ جنگ انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر وہ قائل نہ ہوں تو پھر ایسا فیصلہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔

Nadir Baloch

35,252 次观看 • 24 天前