Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ایک سوال کیا گیا تھا کہ ”تم ہو کون؟“ جسے 3 سال سے اس عوام نے دیکھا نہ سُنا، آج بھی اُسکے نام پر لاکھوں کے تعداد میں گھروں سے نکل آتے ہیں، وہ ہے عمران خان۔ اس سوال کے جواب میں پشاور جلسہ گاہ کے یہ مناظر ہی...

26,872 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ایران کےفیصلے کون کرتا ہے؟ عباس عراقچی کے انٹرویو پڑھیں اور سنیں۔ جواب: ’’جب آپ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق یہ ذمہ داری کس کے سپرد کی گئی ہے؟ سپریم قومی سلامتی کونسل۔ سپریم قومی سلامتی کونسل۔ آئین میں اس کونسل کی تشکیل دیکھیے؛ اس میں فوجی بھی ہیں، سیاسی بھی، داخلی سیاست کے ذمہ دار بھی، خارجہ پالیسی کے ذمہ دار بھی، اقتصادی ماہرین بھی، ملک کے مالی وسائل کے ذمہ دار بھی اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ آئین نے ایسی جامع ترکیب مقرر کی ہے کہ مختلف شعبوں کے اعلیٰ ترین عہدیدار مل کر امن، جنگ اور ان سے متعلق معاملات پر فیصلہ کریں۔ البتہ آئین کے مطابق جنگ اور امن کا حتمی فیصلہ رہبر کے اختیار میں ہے۔ یعنی یہ سب پہلے سے طے شدہ ہے۔ فیصلہ سازی اس طرح نہیں ہوتی کہ میں یا آپ اندازے لگائیں کہ شاید ایسا ہو یا ویسا۔ ہر معاملے کا انتہائی دقیق حساب لگایا جاتا ہے۔ سپریم قومی سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں ہر شخص اپنے اپنے زاویۂ نظر سے تفصیلی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ عوام کی معیشت کو سہارا دینے کی ہماری صلاحیت کتنی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ عسکری اعتبار سے ہم کب تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں، اور میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ ہماری سفارتی صورت حال کیا ہے، کیا ہم تنہا ہیں یا نہیں، کیا ہمارے خلاف قراردادیں آ رہی ہیں، ہماری طاقت کہاں ہے اور کمزوری کہاں ہے۔ ان اجلاسوں میں ہر پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ وہ آخری اہم اجلاس، جس میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی، رات 9 بجے شروع ہوا اور صبح 3 بجے تک جاری رہا۔ سوال: کون سے دن؟ جواب: وہی دن جس میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی گئی۔ سوال: یعنی آخری اجلاس، جس کے بارے میں کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بہت باتیں ہو رہی ہیں؟ جواب: جی ہاں۔ سوال: کیا ان 13 ارکان میں سے 12 نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا؟ کیا جنگ بندی کے معاملے میں بھی یہی تناسب تھا؟ جواب: جنگ بندی کا فیصلہ کہیں زیادہ سخت سیکیورٹی حالات میں کیا گیا۔ اس وقت سپریم قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ اگر اجلاس منعقد ہوتا اور اسی لمحے بمباری ہو جاتی تو واقعی پورا ملک خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ سوال: پھر جنگ بندی قبول کرنے کا فیصلہ کس طریقۂ کار سے کیا گیا؟ جواب: اس وقت چھوٹے چھوٹے اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا، یعنی تین تین اور چار چار افراد کی نشستیں ہوئیں، پھر ان سب کی آراء کو جمع کیا گیا۔ سوال: کیا سب متفق تھے؟ جواب: اس وقت بھی موافق اور مخالف دونوں طرح کی آراء موجود تھیں، لیکن اس وقت کے حالات کا بعد کے حالات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت جنگ ایسی شدت پر تھی کہ دو افراد کا ایک دوسرے سے ملنا بھی مشکل تھا، لیکن اس کے باوجود ملاقاتیں ہوئیں۔ سوال: سب متفق تھے؟ جواب: جیسا کہ میں نے کہا، وہاں بھی موافق اور مخالف دونوں قسم کی آراء تھیں، لیکن آخرکار اس شرط پر اتفاق ہوا کہ اگر امریکہ یہ قبول کرے کہ مذاکرات ہمارے پیش کردہ دس نکات کی بنیاد پر ہوں گے، تو ہم جنگ بندی قبول کر سکتے ہیں۔ سوال: کیا اس پر فوجی قیادت بھی متفق تھی؟ جواب: اصل معاملہ تو فوجی قیادت ہی کا ہے، کیونکہ جنگ انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر وہ قائل نہ ہوں تو پھر ایسا فیصلہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔

Nadir Baloch

35,487 просмотров • 2 месяцев назад