Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ایک عامل کا بڑا چرچہ تھا کہ وہ روحوں سے بات کروا دیتے ہیں۔ ایک بچہ جو اپنی ہوشیاری کی وجہ سے محلے میں بڑا مشہور تھا۔ اس عامل کے پاس پہنچا اور نظرانہ پیش کرنے کے بعد کہا؛ میں اپنے دادا کی روح سے بات کرنا چاہتا ہوں۔...

26,523 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,697 просмотров • 6 месяцев назад

شہید ڈاکٹر علی لاریجانی ایک واقعہ سناتے ہوئے: ’’ایک وقت تھا جب میں امریکہ گیا ہوا تھا، مسٹر کسنجر (Henry Kissinger) نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میری بھی خواہش تھی کہ ان سے ملوں۔ وہ آئے اور ایٹمی پروگرام اور دیگر مسائل پر مختلف باتیں کیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: 'کیا آپ ہمارے ساتھ تزویراتی تعلقات (Strategic Relations) رکھنا چاہتے ہیں؟' میں نے کہا: 'ہمارا تو آپ کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے، آپ تزویراتی تعلقات کی بات کر رہے ہیں؟ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟' اس پر انہوں نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود لکیریں کھینچیں، ملکوں کو نام دیئے۔ سوائے دو ملکوں کے؛ ایک ایران اور دوسرا مصر۔ آپ (تاریخی طور پر) موجود تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ہمارے پاس آپ کے ساتھ چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔' ایک صاحبِ فکر شخص جب کسی قوم کا تاریخی پس منظر جانتا ہو، تو وہ اس طرح بات کرتا ہے۔ وہ 'تسلیم ہو جانے' کی بات نہیں کرتا۔ آپ سے بڑے (طاقتور) بھی اس قوم کو تسلیم نہیں کروا سکے

Harmeet Singh

198,607 просмотров • 6 месяцев назад

رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟ وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟ اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!! صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

39,742 просмотров • 2 месяцев назад

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,105 просмотров • 5 месяцев назад

پیپلز پارٹی، جو خود کو ایک بہت بڑی جمہوری پارٹی کہتی ہے، آج کس منہ سے جمہوریت کی بات کرے گی۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک عظیم تحفہ تھا، اور آج اس کے نواسے نے اسی آئین کا جنازہ نکال دیا۔ آج وہ کس منہ سے ملک میں ڈیموکریسی، قانون اور آئین کی بات کرے گا، کس منہ سے عوام کے حقوق کی بات کرے گا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی، اور صرف ایک چھوٹی سی اپوزیشن تھی۔ اس کے باوجود بھٹو نے تمام اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کنسنسس پیدا کیا اور تمام مختلف سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر قوم کو سب سے بڑا آئینی دستاویز تحفے میں دیا۔اب میں بلاول بھٹو صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا کیا؟ آپ کی پارٹی نے تو 1973ء کے آئین کی روح کا قتل کیا ہے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے نانا کی جو عظیم کنٹریبیوشن دی، آج اس کنٹریبیوشن کو خاک میں ملا دیا۔ آج اگر ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔

Asad Qaiser

35,450 просмотров • 10 месяцев назад

شادی کو ایک ماہ سے کم دن ہوئے ہیں ، دلہن کے پیٹ میں دو ماہ کا بچہ ہے ۔ ملک کی نامور گائناکلوجسٹ جاہلوں کے ہتھے چڑھ گئی ۔۔۔۔۔ !! یہ سر پکڑے بیٹھی خاتون سیالکوٹ کی مشہور گائناکلوجسٹ ڈاکٹر ہیں ۔ ان کے پاس ایک کیس آیا نئی شادی شدہ عورت کو شادی کے تین ہفتے بعد الٹیاں شروع ہو گئی ۔۔۔ وہ اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس آئی اس نے کہا کہ اسے تو دو ماہ کا حمل ہے ۔۔۔ لڑکی کی ساس سیدھا اپنی بہو کو گھر لے گئی گھر میں رولا مچ گیا ۔ پورا خاندان جا پہنچا ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔ دولہا کہے کہ ڈاکٹر صاحبہ ہماری شادی کو ایک مہینہ بھی پورا نہیں ہوا اور آپ کہتی ہو دو ماہ کا حمل ہے مطلب کہ یہ میرا نہیں یا پھر آپ سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نے سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔ بچی سے پوچھا پیریڈ کب آئے تھے ، پورا حساب بنا کر دیا کہ یہ بچہ تمھارا ہے یہ شادی کی پہلی یا دوسری رات حمل ٹھہرا ہے ۔۔۔ یہ لوگ پھر سے غصہ کریں ۔ دولہے کی ماں نے کہا نو بچے پیدا کر چکی ہوں تم ہمیں پاگل بنا رہی ہو ۔ لڑکے کی بہنیں اور باقی خاندان والوں نے ڈاکٹر پر چڑھائی کر دی ۔۔۔ اب جب ڈاکٹر کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ پھر بھی جھگڑا کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ تمھاری لو میرج ہے ۔ لڑکے نے کہا ڈاکٹر سے کہ ہاں ۔ ڈاکٹر نے کہا تمھیں اس کے کردار پر شک ہے ۔ تو لڑکا کہتا نہیں ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا پھر تم اسے لیکر چلے جاو ۔ لڑکا کہے میں کیسے اس کو لے جاؤں شادی میری ایک ماہ پہلے ہوئی ہے بچہ دو ماہ کا ہے آپ کہتی ہو یہ بچہ تمھارا ہے ۔۔۔ خیر ڈاکٹر نے پھر اسے ایک بار سمجھایا حمل کی تاریخ پیریڈ سے طے ہوتی ہے جو Sac بنا ہوا ہے وہ دو ماہ کا ہے ۔۔ ان کو یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ ڈاکٹر نے جان چھڑانے کیلئے کہا کہ تم اسے قبول کرو یہ بچہ تمھارا ہے تم ڈی این اے ٹیسٹ کروالینا سارا سچ جھوٹ سامنے آجائے گا ۔ تم لوگ جاہل ہو ۔۔۔ شوہر مان گیا ساس بضد تھی ۔ ڈاکٹر نے کہا آنٹی آپ لوگ نو ماہ گنتے ہیں ہم دس ماہ گنتے ہیں ۔ پچھلا ماہ پیریڈ والا شامل ہوتا ہے ۔ اس کے بچے کی عمر دو ماہ ہے ۔ ساس کہے ابھی اٹھارہ دن ہوئے ہیں دو ماہ بچے کی عمر ہے یہ ہمارا نہیں ہے ۔۔۔ ڈاکٹر غصہ میں آگئی کہا اس لئے میں کہتی ہوں کہ بچی کی شادی پیریڈ کے دوران کریں ۔ جاہل معاشرہ ہے جتنا سمجھا لو یہ نہیں مانیں گے ۔۔۔ یہ لوگ ہر اس بچی کو اذیت دیتے رہیں گے جو پہلی رات پریگنینٹ ہو گی ۔۔۔ یقین جانیئے اس سب بحث میں ایک عورت خاموش تماشائی بنی رہی ۔ وہ دلہن جس نے نکاح کیا شادی کی آج اس کے کردار پر انگلی اٹھ رہی تھی ۔۔۔ یہ مسئلہ کئی زندگیاں برباد کر چکا ہے ۔ آج کے اس دور میں بھی لوگوں کو نہیں پتہ ، نہ وہ اس کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹر نے ہر طرح سے سمجھایا مگر کسی کو سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ اس دلہن کا کیا بنے گا مگر ساس کی بحث سن کر مجھے نہیں لگتا یہ قبول کرے گی ۔۔۔۔ !!!

Nazia Chaudhary🇵🇰

21,155 просмотров • 1 месяц назад

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 просмотров • 2 месяцев назад

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 просмотров • 2 месяцев назад

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

جناب مشال یوسف زئی صاحبہ اس معاملے پر میں نے بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا آپ اس معاملے سے متعلق تمام تر باتیں غلط بیانی کے ساتھ پھیلا رہی ہیں ایسا کوئی خط کوٹ لکھپت جیل سے نہیں آیا البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارے لیے جو بھی آواز اٹھائے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے چند ایسے نام نہاد صحافیوں کی وجہ سے پھیلایا اور گھڑا جا رہا ہے جنہوں نے چند ٹکوں کے عوض اپنی آبرو اور صحافتی دیانت فروخت کر دی ہے یہ لوگ جیل میں مقید اسیران کی تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کو خاک میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں سب سے پہلے آپ ایک بیان دیتی ہیں اور اس بیان میں کہتی ہیں کہ مجھے جیل کے اسیران خصوصاً خواتین کے حق میں آواز اٹھانے سے روکا جا رہا ہے پھر جب یہ بات کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد عالیہ حمزہ صنم جاوید اور فلک جاوید تک پہنچتی ہے تو وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ آپ کو کوئی کیوں روک رہا ہے آپ کھل کر ہمارے لیے آواز اٹھائیں جب یہ بات آپ تک پہنچتی ہے تو آپ اسی معاملے کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ آپ کو جیل سے کوئی خط موصول ہوا ہے اگر واقعی ایسا کوئی خط یا تحریری پیغام آپ کو موصول ہوا ہے تو اسے منظر عام پر لے آئیں تاکہ حقیقت سب کے سامنے آشکار ہو سکے صنم جاوید خان صاحبہ کے اہل خانہ نے آپ کی تمام تر باتوں اور ان صحافیوں کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے جو چند ٹکوں کے عوض جیل میں مقید اسیران کی قربانیوں کو مٹی میں ملانے پر تلے ہوئے ہیں کبھی بھی جیل کے اسیران کی جانب سے کسی سیاسی کمیٹی کی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی یہ کہا گیا کہ آپ کو کسی کمیٹی میں شامل کیا جائے یہ صنم جاوید خان صاحبہ کے والد کا بیان ہے اگر آپ کہیں تو باقی اسیران کے اہل خانہ کے بیانات بھی میں آپ کو بھیج دیتا ہوں تاکہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے

Agha Sheikh Sarwar

41,790 просмотров • 1 месяц назад

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,629 просмотров • 8 месяцев назад

آج کا میرا ولاگ… عوام کے نام ایک کھلا پیغام.... آج میں نے 804 کی ٹوپی بھی نہیں پہنی، نہ پیچھے خان صاحب کی تصاویر ہیں۔ آج میں صرف ایک عام پاکستانی بن کر آپ سب سے بات کر رہا ہوں۔ وہ ظلم جو اسلام آباد میں ہوا بری امام اور مسلم کالونی میں گھروں کا گرایا جانا، نسلوں سے آباد خاندانوں کو سڑک پر پھینک دینا یہ سب ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ لوگ 60–70 سال سے اپنے گھروں میں رہ رہے تھے رجسٹریاں سی ڈی اے نے خود دی تھیں پیسے خود لیے تھے… آج انہی گھروں کو “غیر قانونی” کہہ کر مسمار کر دیا گیا۔ لوگوں کو سامان تک نکالنے نہیں دیا گیا مزاحمت کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا۔ میڈیا خاموش ہے۔ عوام ڈری ہوئی ہے۔ اور آج ایک بات پھر سچ ثابت ہوگئی عمران خان نے کہا تھا: “اگر آج آپ نے مافیا کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو آپ ہی نہیں آپ کی آنے والی نسلیں بھی ان کی غلام رہیں گی۔” یہ ظلم سیاست نہیں ہے۔ یہ مسئلہ پارٹیوں کا نہیں، یہ ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے۔ چاہے آپ PMLN سے ہوں، PPP سے، PTI سے یا کسی سے بھی نہیں… کل کو انہی ہاتھوں سے آپ کا گھر بھی گرایا جا سکتا ہے۔ میری آج کی ویڈیو صرف ایک پیغام ہے: اٹھو اپنے لیے، اپنی ازادی کے لیے، اپنے بنیادی حقوق کے لیے۔ اگر ہم خاموش رہے تو سب کچھ ہمارا ایک ایک کر کے چھین لیا جائے گا۔ خان صاحب نے ہمیشہ یہی کہا: “زنجیریں گرتی نہیں ہیں گرانی پڑتی ہیں آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کے نہیں دیتا آزادی چھیننی پڑتی ہے۔۔۔ آواز اٹھاؤ۔ ایک مٹھی بنو۔ اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یہ لڑائی سیاست کی نہیں اپنی بقا کی ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

12,189 просмотров • 9 месяцев назад

پشاور میں جو واقعہ ہوا،آرمی پبلک اسکول پر حملے کا،طالبان نے 130 سے بھی ذیادہ ان بچوں اور انکے استاتذہ کو گولیوں سے بھون دیا،تو اسکے بعد بھی یہ ایک بحث چلی کہ جو لوگ ملوث ہوں گے انکا ملٹری کورٹس میں ٹرائل کیا جائے،تو بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ نہیں انکا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور باقاعدہ اس چیز کی مخالفت کی گئی “جمہوریت پسند “لکھنے والوں کی طرف سے ملٹری کورٹ بڑا غلط راستہ ہے! لیکن اب آپکے سامنے ملٹری کورٹس کے حق میں ہر طرح تاویل پیش کی جاتی ہے،آپ ان سب باتوں کو دیکھیں تو آپکو دلیل کی موت ہوتی ہوئی نظر آئے گی منطق آپکو تڑپتی ہوئی نظر آئے گی، باز لوگوں نے کھلے عام کہا کہ یہ جو طالبان ہیں چاہے انھوں نے ہمارے سینکڑوں بھائیوں کو،ہزاروں پاکستانیوں کو تح تیغ کیا ہے مار دیا ہے شہید کر دیا ہے،ان طالبان نے ہمارے بچوں کا شہید کر دیا ہے،ان طالبان نے ہمارے بھائیوں کو قتل کر کے انکے سر تن سے جدا کر کے انکے سروں سے فٹ بال کھیلا ہے اور فٹ بال کھیلتے ہوئے وڈیو بنائی ہے! تب بھی ان سے مذاکرات ہونے چاہیں ان سے بات ہونی چاہئے یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں،وہ طالبان جو کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلنے والے طالبان تھے، تو پھر بھی یہ دلیل تھی کے یہ اپنے لوگ ہیں ان سے بات ہونی چاہیے،ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں،اپنے لوگوں کے ساتھ چلا جاتا ہے! وہی لوگ آج بات کرتے ہیں کہ اگر آج سانحہ 9مئی کے مجرموں کو سزا نہ دی گئی تو پاکستان آگے نہیں چل سکتا! تو بنیادی طور پر آپ یہ دیکھ لیں کہ سانحہ 9 مئی میں آپ دلیل اور منطق کی موت ہوتی ہوئی دیکھیں کے نفرت انسان کو کس حد تک گرا دیتی ہے! باز صحافیوں سے یہ بار بار لکھوایا جاتا ہے کہ سانحہ مئی تو پاکستان کا 9/11 تھا! ارے بھائی GHQ کے اندر دہشت گرد گھس گئے آپکی ایسی کی تیسی کردی،آپکے بندے انھوں نے پکڑ کے مار دئیے وہ 9/11نہیں تھا؟آپکے ملٹری کے تمام انسٹالیشن پر ملک بھر میں آپ کے اپنے پیدا کئیے گئے دہشت گردوں نے،ایک ایک انسٹالیشن پر جا کر حملہ کیاوہ 9/11نہیں تھا؟آپکے کراچی میں نیول بیس کے اوپر حملہ ہو گیا وہ 9/11 نہیں تھا؟پشاور میں آرمی پبلک اسکول جو کنٹونمنٹ ایریا میں واقعہ ہے اس کے اندر گھس کے 140 بچوں کو شہید کر دیا وہ 9/11نہیں تھا؟ایک آپکی باونڈری وائر پر چند پتھر پھینکے گئے ہیں تو وہ 9/11 ہو گیا ہے! پشاور کے اندر ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ جلی سب کو پتہ ہے اس واقعے کی تفصیلات کا کبھی بھی اسکی تحقیقات نہیں ہو ں گی! صاف ظاہر ہے الزام لگانا مقصود ہے پی ٹی آئی کے اوپر ایک سیاسی جماعت کے اوپر،آپ غلط بات کر رہے ہیں آپ کسی کو ذور زبردستی سے ختم نہیں کر سکتے،آپ جھوٹ کی بنیاد کے اوپر نہیں ختم کر سکتے،آپ عمران خان پر ایک کرپشن کا کیس نہیں بنا سکے،توشہ خانہ کے اصل چور تو موجودہ حکمران ہیں،9مئی کے حوالے سے جس طریقے سے آپ جھوٹ اور ذور زبردستی کے ذریعے ایک بات کو بڑھا بڑھا کے اسکو قومی یکجہتی اور سلامتی کے ساتھ منصوب کر کے صرف جھوٹ کا سہارا لیکر آپ اس بات کو ختم کرنے پر نہیں آرہے! (سنئیر صحافی احمد نورانی )

Rodium-A

333,477 просмотров • 3 лет назад