Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🚨 ایک ویڈیو... اور زندگی کا آخری لمحہ! یہ نوجوان آصف، ساکن سنگینی کی آخری ویڈیو ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ زیڑی ڈیم کے پشتے پر ہنڈا موٹر سائیکل کھڑی کر کے ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنا رہے تھے۔ اچانک موٹر سائیکل کا توازن بگڑا، وہ گہرے...

49,067 Aufrufe • vor 29 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جب حد ہی ختم ہو جائے دنیا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ کبھی کبھی ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ماں اور بیٹا ہیں، دونوں ٹک ٹاکر ہیں، لیکن ذرا اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے گانے کے بول اور ان کے انداز پر غور کریں۔ کہیں سے بھی یہ ماں بیٹا لگ رہے ہیں؟ رشتوں کی اپنی ایک حرمت، ایک حد اور ایک خوبصورتی ہوتی ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ تو ویسے ہی عزت، محبت اور تقدس کا رشتہ ہے۔ صرف چند ویوز، لائکس اور پیسوں کے لیے اس رشتے کو ایسے انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا کہ دیکھنے والا خود شرمندہ ہو جائے، آخر یہ کہاں کی سمجھ داری ہے؟ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن شہرت کے لیے ہر حد پار کر دینا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ویوز کی دوڑ میں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہم جو کچھ کیمرے کے سامنے کر رہے ہیں، اسے دیکھنے والے ہمارے رشتے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اور چند ہزار ویوز کے لیے رشتوں کی حدود، شرم و حیا اور خاندانی وقار سب کچھ بھول جاؤ؟

its me میٹھو

19,898 Aufrufe • vor 10 Tagen

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 Aufrufe • vor 8 Monaten

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 Aufrufe • vor 7 Monaten

“جب کوئی نوجوان ریاست سے سوال کرتا ہے تو وہ لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔" اسلام آباد کے نوجوان اور انسانی حقوق کے کارکن سلیمان سہیل چند روز سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک اور باضمیر نوجوان کی آواز خاموش کروانے کی یہ گھٹیا حرکت انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ سلیمان سہیل کی پراسرار گمشدگی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے آئین، آزادیِ اظہارِ رائے اور ہر باضمیر شہری کے بنیادی حقوق پر راست حملہ ہے۔ جو نوجوان کل تک ہزاروں مستحقین کو کھانا کھلانے اور معاشرے کی خدمت میں پیش پیش تھا، آج اسے ریاست سے سوال کرنے کی پاداش میں خاموش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا قائم کرنے سے نہ تو سوالات دم توڑتے ہیں اور نہ ہی عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا جا سکتا ہے۔ سلیمان سہیل کو فوری اور بلا تاخیر بازیاب کیا جائے، کیونکہ یہ خاموشی آئندہ کسی بھی سچ بولنے والے کا مقدر بن سکتی ہے۔

PTI

22,658 Aufrufe • vor 2 Tagen

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 Aufrufe • vor 9 Monaten

یہ ہے وہ سڑک… جس پر پاکستان کو سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی ہے…! جی ہاں! یہ ہے وہ قیمتی سڑک…! یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک جاتا ہے — ہر سال ہزاروں سیاح، ٹریکرز اور مہم جو اسی راستے سے گزرتے ہیں، اور پاکستان کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی سیاحت کی آمدنی ہوتی ہے یہی وہ خستہ حال، ٹوٹی پھوٹی، گرد و غبار میں لپٹی سڑک ہے… جو ہمیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک لے جاتی ہے یہ ہے پاکستان کی ایک قیمتی سڑک کی حالیہ حالت- یہ وہ سڑک ہے جس کے ذریعے پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالرز کی آمدن حاصل کرتا ہے۔ یہی راستہ دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ایڈونچر لورز کو کے ٹو اور دیگر خوبصورت مقامات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ پاکستان کا ایک نہایت اہم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ روٹ ہے، جس پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ گزشتہ چند مہینوں میں حکومت نے ٹورازم رائلٹی فیس میں اضافہ کر مقامی ٹور آپریٹرز، سروس پرووائیڈرز اور ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات میں ڈالا ہوّا تھا۔ بطور سوشل ورکرز ہم نے یہ امید کی کہ شاید اس آمدنی کو انفراسٹرکچر کی بہتری، خاص طور پر سڑکوں کی مرمت یا سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے استعمال کیا گیا ہو گا۔ تاہم، حال ہی میں پاکستان کے معروف کوہ پیما سرباز خان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا۔ اُن کی ویڈیو سے معلوم ہوا کہ کے ٹو تک جانے والا راستہ پہلے سے بھی زیادہ خراب، خطرناک اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ یہ سڑک برالدو ویلی کے درمیان سے گزرتی ہے، جو قدرتی خوبصورتی اور گلیشیئرز سے بھرپور ایک وادی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگ ہر سال گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔ سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو خاص طور پر بیماری یا ہنگامی صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں (climate change) بھی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مقامی حکومت بلکہ UNDP اور GLOF جیسے بین الاقوامی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ راستہ نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی کسی موت کے کنویں سے کم نہیں۔ اگر، خدانخواستہ، اس سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو اس کی ذمہ داری ٹورازم ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوگی، جو اجازت نامے جاری کرکے لوگوں کو اس راستے پر روانہ کرتا ہے۔ ہم برالدو ویلی کے باسیوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ صرف گھوڑوں اور خچروں کے کرائے بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے کے بجائے، اپنی جان، زمین اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں، سوال کریں، اور اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر بات کریں۔ یہ وقت صرف شکایت کرنے کا نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر عملی اقدامات اُٹھانے کا ہے تاکہ پاکستان کا یہ انمول اور عالمی شہرت یافتہ ایڈونچر روٹ محفوظ، پائیدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بین الاقوامی سیاح کس طرح ایک خطرناک پل عبور کر رہا ہے، اور اپنے تاثرات بھی بیان کر رہا ہے۔ نیپال سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیما مینگما جی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر بال بال بچے۔ ان کے تاثرات دنیا بھر میں ہزاروں ایڈونچررز سنتے ہیں اور اُن پر عمل عمل بھی کرتے ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

38,119 Aufrufe • vor 1 Jahr

گزشتہ روز مظفرآباد میں پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور انہی میں ہمارے ایک عزیز رشتے دار میجر سید عثمان شاہ بھی شامل تھے۔ میجر عثمان شاہ کا تعلق مانسہرہ سے تھا۔ آج ان کی نمازِ جنازہ پہلے کشمیر میں، پھر جی ایچ کیو میں، اور بعد ازاں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں ادا کی گئی۔ جنازے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر دل غم سے بوجھل۔ ان کے تین ننھے منے بچے ہیں، جن کی عمریں ابھی تین سال اور ایک سال کے قریب ہیں۔ اتنی کم عمری میں انہوں نے اپنے والد کا سایہ کھو دیا۔ ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ انہیں اسلام آباد میں ہی سپردِ خاک کیا جائے تاکہ بچے اپنے والد کی قبر کے قریب رہ سکیں۔ عثمان شاہ کی والدہ نے بہو اور بچوں کے درد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی فیصلہ کیا۔ عثمان شاہ کے والد کا انتقال بھی کچھ عرصہ قبل ہوا تھا۔ ایک ماں، جس نے پہلے اپنے شریکِ حیات کو کھویا اور پھر اپنے جوان بیٹے کو، آج ایک اور امتحان سے گزر رہی تھی۔ وہ تابوت سے لپٹ کر رو رہی تھی، اسے بیٹا کہہ کر پکار رہی تھی۔ ماؤں جوان بیٹے دیتی ہیں لیکن اکثر اوقات یہ تابوت ہی ان کے پاس لوٹتا ہے، جس پر پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے۔ اندر کیا ہے، کس حال میں ہے، اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن ماں کے لیے وہی لکڑی کا تابوت اس کے جگر کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ دکھ کی بات صرف یہ نہیں کہ ہمارے جوان وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے بعض لوگ ان شہادتوں کو بھی بدتہذیبی، گالم گلوچ اور سیاسی یا نظریاتی نفرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، ریاستی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن مرنے والوں کی بے حرمتی، ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنا اور ایک ماں، بیوہ اور یتیم بچوں کے دکھ کو نظر انداز کر دینا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ ہمیں کم از کم اتنی انسانیت ضرور بچا کر رکھنی چاہیے کہ کسی کے غم کو تماشا نہ بنائیں۔ شہداء کے بارے میں آپ کی رائے جو بھی ہو، ان کے پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کا درد حقیقی ہوتا ہے۔ ان کی مائیں واقعی روتی ہیں، ان کی بیویاں واقعی ٹوٹتی ہیں، اور ان کے بچے واقعی عمر بھر ایک خالی جگہ کے ساتھ جیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میجر سید عثمان شاہ اور تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ :::

Sabookh Syed | Journalist

23,739 Aufrufe • vor 2 Monaten

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Harmeet Singh

184,753 Aufrufe • vor 6 Monaten

آج پاکستان ایئر فورس کے تربیتی طیارے کے حادثے کی ویڈیو بار بار دیکھی… سلو کر کے، ریورس کر کے، پھر دوبارہ سلو کر کے۔ نہ جانے کیوں دل پر ایک عجیب سی ضرب لگی۔ شاید اس لیے کہ ایسے لمحے انسان کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یاد دلاتے ہیں: زندگی بے حد رینڈم ہے، غیر متوقع ہے، اور ہماری تمام منصوبہ بندیاں ایک نادیدہ لمحے کے سامنے کتنی بے بس ہیں۔ سوچتا ہوں وہ دونوں نوجوان پائلٹس جب صبح گھر سے نکلے ہوں گے تو ان کے ذہن میں کیا کیا ہوگا؟ کتنے خواب، کتنے ارادے، کتنی پلاننگز… شاید شام کو واپس جا کر گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا خیال، آنے والے کل کے منصوبے، مستقبل کی امیدیں۔ اور پھر ایک لمحہ… صرف ایک لمحہ… اور سب کچھ ختم۔ مزید حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو سڑک پر اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھے۔ کوئی موٹر سائیکل پر، کوئی رکشے میں، کوئی پیدل… کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اگلے چند نینو سیکنڈز میں آسمان سے ایک جلتا ہوا طیارہ ان کے سامنے آ گرے گا اور زندگی ہمیشہ کے لیے ایک خوفناک یاد میں بدل جائے گی۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ارفع کریم ٹیکنالوجی پارک کے سامنے سے گزر رہا تھا اور اچانک خودکش دھماکہ ہوا۔ وہ کالا دھواں، وہ چیختے لوگ، وہ اڑتے جسم… وہ منظر آج بھی ذہن کی قید سے آزاد نہیں ہوا۔ ملکوال میں ایک ٹرین کو بس چیرتے دیکھا تھا… بکھرے جسم، کٹا ہوا سر سگنل کے اوپر پڑا ہوا… بعض مناظر آنکھوں سے نہیں، روح پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ کبھی فلپائن کے زلزلے کی ویڈیو دیکھتا ہوں جہاں ایک ماں اپنی بوڑھی ماں کو چھوڑ کر پہلے اپنے بچے کو اٹھا کر بھاگتی ہے، پھر زلزلہ رکنے پر واپس آ کر اپنی ماں کو سنبھالتی ہے… اور سوچتا ہوں زندگی کیسے ہماری ترجیحات، ہمارے معنی، ہماری محبتوں کے مرکز بدل دیتی ہے۔ انسان کل کے منصوبے بناتا ہے، جیسے کل اس کی ملکیت ہو۔ حالانکہ حقیقت شاید صرف اتنی ہے کہ زندگی اور موت کے درمیان کبھی کبھی ایک سیکنڈ بھی حائل نہیں ہوتا۔ ہم سب اپنے اپنے خوابوں، منصوبوں اور مصروفیات میں گم ہیں… مگر کائنات شاید ہر لمحہ ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ تم مسافر ہو مالک نہیں۔

khurram Mushtaq

31,413 Aufrufe • vor 2 Monaten