正在加载视频...

视频加载失败

"بابا، جب آپ پر حملہ ہوا ہوگا تو سب سے پہلے مجھے یاد کیا ہوگا نا؟" بیٹی نے معصومیت سے پوچھا۔ شہید کرنل شہزاد گلفراز مسکرائے اور بولے: "نہیں بیٹا... مجھے سب سے پہلے اللہ اور کلمہ یاد آیا۔" بیٹی بتاتی ہے کہ ہمارے ابا نے کبھی نہیں کہا...

30,727 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,603 次观看 • 6 个月前

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,057 次观看 • 3 个月前

کے پی حکومت کے نئے قانون میں ہاتھ یہ ہوا ہے کہ رکن اسمبلی کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ اگر اسے عدالت نے بلایا تو اسے استثنیٰ حاصل ہوگا، کہ وہ اس دن عدالت میں پیش نہ ہو۔ اس میں لفظ کوٹ پروسیڈنگ استعمال ہوا، مطلب کہ مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ کی عدالت تک استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ وہ جماعت ہے جب ان کی حکومت میں لوگ چیختے تھے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کریں تو وہ کہتے تھے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، ایک ملک میں دو قانون نہیں ہو سکتے، ہم جیسے دیوانے اس وقت سمجھاتے تھے کہ پوری دنیا میں منتخب رکن کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ فلور پر جائے۔ لیکن ہمارے ہاں صحافیوں کی اکثریت نے عشق میں مبتلا ہو کر کہا کہ ان کی بات ٹھیک ہے کہ قانون برابر ہونا چاہیے، اگر ایک شخص کو منی لانڈرنگ کے کیس میں پکڑا ہوا ہو تو وہ بے شک قائد حزب اختلاف ہی کیوں نہ ہو تو وہ عدالت میں پیش ہو۔ رانا ثنا اللّٰہ پر منشیات کا مقدمہ تھا، کہتے رہے کہ جب تک عدالت سے ثابت نہیں ہوتا تب تک یہ جھوٹا ہے، لیکن جب تحریک انصاف کی اپنی باری آتی ہے تو نیا قانون پاس کر دیتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو Nusrat Javeed Adnan Haider (عدنان حیدر) अदनान हैदर

Public News

17,351 次观看 • 1 个月前

مجھے بھی بہت آفرز دی گئیں کہ تمہیں ایم این اے بنا دیں گے تمہیں وزیر بنا دیں گے تم کیا چاہتے ہو یہ پاکستان کا جھنڈا ہمیشہ رہے گا عمران خان ہمیشہ نہیں رہے گا اس سے پہلے بھی جو آئے وہ بھی چلے گئے تم شخصیت پرستی چھوڑ دو تم پاکستان کو دیکھو فوج ہمیشہ رہے گی، یہ (ملٹری اسٹیبلشمنٹ) اس طرح کی باتیں ہر ایک کو کرتے ہیں انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میں ان کی باتوں میں آ جاؤں لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہ لوگوں کو صرف اور صرف خریدتے ہیں، بازار میں جس کی قیمت لگ جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی یہ ہمیشہ سے عمران خان نے ہمیں سمجھایا ہے اور سکھایا ہوا تھا، میں نے ایک نظریہ کی وجہ سے سیاست شروع کی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اسی نظریہ پر کھڑا ہوں چاہے جلا وطنی میں ہوں جتنی بھی مشکلات گزری ہیں لیکن جب عمران خان کو دیکھتا ہوں کہ ایک ہزار اکتیس دن ہو گئے ہیں وہ شخص جو پاکستان کا سب سے مقبول ترین لیڈر ہے تمام مسلمان امہ انہیں چاہتی ہیں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں وہ اتنی مصیبت میں ہیں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں بجلی نہیں ہوتی ٹیلیویژن نہیں ہوتا خبروں تک رسائی نہیں ہے لوگوں سے نہیں ملنے دیا جا رہا انہیں آنکھ کی تکلیف ہے گند میں مکھیاں مچھروں میں وہ رہ رہے ہیں لیکن ٹوٹ نہیں رہے عاصم منیر کی جو یزیدیت ہے اس کے آگے وہ سر نہیں جھکا رہے تو یہ ہمیں حوصلہ دیتی ہے، میری خیبر پختونخواہ کے تمام ایم پی ایز سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے عمران خان کے نام پر تمہیں ووٹ پڑے ہیں تم ایم پی اے بن گئے ہو وزیر بن گئے ہو اور اللہ نے عزت دی ہے تو یہ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کو چھوڑ کر آپ سب کو چاہیے کہ ایک ایجنڈے پہ آئیں اور وہ ہے عمران خان کی رہائی۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

46,819 次观看 • 3 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 次观看 • 12 天前

ایرانی سیکورٹی چیف علی ریجانی کے بھائی کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کا احوال۔ صحافی: آپ کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کیا تھی؟ بھائی:ہم اخری ٹایم جب ملے آپس میں مذاق کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میری عمر میں تم سے بڑا ہوں،، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے 'تعلقات کا استعمال کر کے مجھ سے پہلے شہید ہو جاؤ۔ تم ایک مدت تک 'اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ' کے سربراہ رہے، کئی بار پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، اب دو بار صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے لو اور اس کے بعد اگر چاہو تو جا سکتے ہو۔ لیکن اس نے واقعی اپنے 'تعلقات' کا استعمال کیا اور مجھ سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گیا "وہ دوسروں کی طرح کسی زیر زمین بنکر میں جا سکتے تھے، لیکن نہیں، وہ میدانِ جنگ کے آدمی تھے۔ وہ کبھی بنکروں میں چھپنے والے نہیں تھے۔ حکومت کا کوئی بھی عہدیدار بنکر میں نہیں ہے؛ یہ وہ نااہل غنڈے ہیں جو ہم پر حملہ کر رہے ہیں، وہی بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔"

Naseem Abbas

50,707 次观看 • 5 个月前

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

147,024 次观看 • 4 个月前

لارنس انتھونی دنیا سے رخصت ہوئے، کسی نے اس بارے میں ہاتھیوں کو نہیں بتایا۔ وہ جنوبی افریقہ کے جنگلوں میں میلوں دور تھے۔ کوئی سگنل نہیں، کوئی فون کال نہیں اور جاننے کا بھی کوئی طریقہ نہیں ۔ 12 گھنٹے بعد 20 جنگلی ہاتھی ان کے گھر پر نمودار ہوئے، لارنس نے انہیں برسوں پہلے مر نے سے بچایا تھا، کیونکہ خطرناک ہونے کی وجہ سے ان کو گو لی مار دیے جانے کے آرڈرز دئیے جا چکے تھے۔ لارنس ہر رات ان کی باڑ کے پاس بیٹھے اندھیرے میں ان سے باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں نے لارنس پر پوری طرح سے بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ 2012 میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئے تو وہ سب رات بھر چلتے رہے۔ وہ 2 دن تک مکمل خاموشی سے ان کے گھر کے باہر کھڑے رہے۔ پھر وہ واپس چلے گئے۔ اور اب ہر سال ان کی برسی پر وہ لارنس کے گھر جا کر ان سے اپنی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی نے انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ وہ بس ایسا ہی کرتے ہیں۔ لیکن شاید یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی میں کسی سے ایسے پیار کرتے ہیں جیسے یہ ہاتھی اس آدمی سے پیار کرتے ہیں؟

Asad Malik

17,974 次观看 • 3 个月前

کیا عمران ریاض کو خاتون سے معافی مانگنی چاہیے؟ کیا انہیں اس بدتمیزی سے جواب دینا چاہیے تھا؟ یا پھر عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" بن چکے ہیں؟ پچھلے دنوں عمران ریاض یورپ کی یاترا پر تھے، ڈنمارک میں ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ آپ نے گواہی کیوں نہ دی؟ اس وقت عمران ریاض بیٹھے ہوئے تھے، پتہ نہیں کہاں کہاں مرچیں لگی کہ اٹھ کر اونچی اونچی اواز میں چیخنے لگے، کبھی یہاں کھڑے ہو کر تو کبھی وہاں کھڑے ہو کر۔ کیوں؟ یہی بات تو وہ بیٹھ کر بھی کر سکتے تھے۔ تو چیخنے چلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا انہوں نے سوالات کے جوابات دیے؟ عمران ریاض کا پہلا موقف تھا : مجھے کہا جاتا تو میں گواہی ضرور دیتا اور برگیڈیر کی پمبیری گھما دیتا۔ دوسرا موقف : میری گواہی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ آئی ایس آئی تو چاہتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ تیسرا موقف : یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو میں گواہی نہ دوں گا۔ عمران ریاض کا ایک موقف اور بھی ہے : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. پہلے بتاتے تھے کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز کی، ان کے پورے خاندان کی جان خطرہ میں ڈالی، میں گواہی کیوں دوں ؟ اب ان کے اپنے انٹرویو سے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی فیملی کی لوکیشن ان کی اپنی وجہ سے ایکسپوز ہوئی تھی، تو اب ایک اور موقف لے ائے : ایک فوجی نے میرے جسم کو چوٹ پہنچائی، دوسرے نے میری روح پر وار کیا۔ ساتھ میں مظلومیت کے ساز پر وہی مانترا : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. ان کے جواب کو غور سے سنیں، ڈرامہ کو الگ کریں، جذبات کو ایک سائیڈ پر کریں، نوٹنکی کو ایک طرف رکھیں، اور دیکھیں کہ عمران ریاض نے اصل میں کہا کیا؟ ان کی روح پر کون سا وار ہوا؟ عادل راجہ ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں غلط بتاتے رہے، اور وہ بے چاری یہاں وہاں ڈھونڈتی رہیں۔ جب ایک دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران ریاض کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کی زبان کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے، اپ وہ بول نہیں سکیں گے، اس وقت عادل راجہ ہی تھے جن کے الفاظ میرے سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے تسلی کا باعث تھے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس وقت میرا عادل راجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بلکہ میں عمران ریاض کا پرستار تھا۔ عمران ریاض کا رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں انہیں غصہ اس بات پر تو نہیں، کہ جب پوری قوم ان کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھی، تو عادل راجہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں؟ یا پھر انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عادل راجہ کی یہ خبر بھی سچی کیوں ہو گئی ؟ اب پچھلے کچھ ماہ میں جتنا میں نے عادل راجہ کو جانا، یہ والا الزام بہت گھٹیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہوگا کہ عادل راجہ بتاتے ہوں گے کہ کیا لکھنا ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں کہتے۔ میرا کوئی سوال ہو تو اس کا جواب دیتے ہیں، ایک دو بار پوچھا تو یہی کہا کہ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ لکھو، بے شک میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اب میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ عادل راجہ کے پاس یہ خبر تھوڑی دیر سے پہنچی ہو کہ عمران ریاض کہاں قید ہیں، اور اس وقت تک جگہ بدل چکی ہو، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بتایا ہو۔ اس موضوع پر عادل راجہ اور سبین کیانی ایک تفصیلی وی لاگ بھی کر چکے ہیں، اس میں اپ کو بہت سارے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ ضرور دیکھیے۔ خیر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران ریاض کی روح پر کون سا وار ہوا جس کی وجہ سے انہیں شانتی نہیں مل پاتی؟ اور کون سے ویوز لینے تھے عادل راجہ نے؟ ان کا تو اس وقت یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا ! جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر جذباتیت کو ایک طرف رکھیں، تو عمران ریاض کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے، کہ الفاظ بدل بدل کر عمران ریاض یہی شعر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں راجے کو کبھی میرے ڈھول سپاہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی۔ اور رہی بات حاضرین محفل کی، تو اس بات پر افسوس ہوا کہ کسی نے عمران ریاض کو روکا نہیں۔ انہیں جواب دینا تھا، لیکن وہ الٹا یہ سوال خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ عادل راجہ نے کبھی سہیل وڑائچ پر وار کیا؟ حالانکہ سب جانتے تھے کہ عادل راجہ نے سہیل وڑائچ کو بہت ایکسپوز کیا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ ان کی رومانوی گفتگو کی ریکارڈنگز ایجنسیوں کے پاس ہیں، کس کی وجہ سے؟ عادل راجہ کی وجہ سے! بہتر تو یہ ہوتا کہ اگر حاضرین محفل سے کوئی انسان روکتا، عمران ریاض کو کہتا کہ جوش جذبات میں خاتون کا احترام ملحوظ رکھیں، جواب نہیں دینا، نہ دیں، لیکن بے پر کی نہ اڑائیں، چیخیں نہیں، چلائیں مت۔ لیکن کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہنے کی جسارت کر سکتا۔ سلام ہے اس خاتون کی ہمت کو، جس نے بھری بزم میں سوال اٹھانے کی ہمت تو کی۔ کاش تھوڑی سی ہمت وہاں بیٹھے مرد بھی دکھا سکتے !! کہیں عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" تو نہیں بن چکے جو ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا؟ کاش یہی جرات عمران ریاض بریگیڈیر کے خلاف دکھا سکتے! کاش یہی جذبات وہ اس وقت دکھا پاتے جب افتاب اقبال نے انہیں سامنے بٹھا کر تیتر کی پھبتی کسی تھی, اور محترم نے دانتوں کی نمائش کر دی تھی۔ کاش یہی ہمت وہ اس وقت دکھاتے، جب ان کی وجہ سے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز ہوئی، اور یہ اپنی فیملی کو خطرے میں چھوڑ کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے ! کاش ان کا یہ لہجہ اس وقت بھی ہوتا جب انجینیئر مرزا کو ان کے اوپر چھوڑا گیا تھا، اور وہ للکار للکار کر تھک گیا کہ میری آڈیوز لیک کرو، لیکن ٹارزن بھیا پتلی گلی سے کلٹی مار گئے۔ اس سوال کے ساتھ اجازت : کیا اپنے نامناسب اور غیر مہذب طرز تکلم کی وجہ سے، عمران ریاض کو معافی مانگنی چاہیے یا نہیں؟ کھلم کھلا جھوٹ بولنے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، یا نہیں؟ 🤔

Kashif Aslam

65,128 次观看 • 9 个月前

بغیر ثبوت کے کوئی بات نہیں کروں گا۔ گزشتہ دو سال میں آپ کو معلوم ہے کہ بی ایل اے میں جتنی ریکروٹمنٹ ہوئی ہے، جن لوگوں نے ہمارے معصوم پاکستانیوں کو شہید کیا، وہ سب کہاں سے ریکروٹ ہو کر گئے؟ وہ سب BYC کے پلیٹ فارم سے ریکروٹ ہو کر گئے۔ پہلے یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ ہمارا بندہ مسنگ پرسن ہے، پھر بعد میں بی ایل اے کلیم کرتی تھی کہ وہ ہمارے ساتھ تھا۔ میں اس کی مثال بھی دوں گا۔ عامر کے بارے میں پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسے اداروں نے غائب کر دیا ہے اور وہ مسنگ پرسن ہے، لیکن بعد میں وہ ایک کارروائی میں مارا گیا تو بی ایل اے نے اسے خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وہ ہمارے پاس تھا۔ اسی طرح سفیان کرد کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ابھی ایک مہینہ پہلے کوئٹہ میں ٹرین پر حملہ ہوا۔ بلال شاہوانی نامی دہشت گرد، جس نے یہ حملہ کیا، اس کا نام بھی مسنگ پرسنز کی فہرست میں تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بی ایل اے کے کیمپوں میں موجود تھا۔ یہ جتنے مسنگ پرسنز ہیں، یہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کیمپوں میں ہیں۔ یہ ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ ماہ رنگ لنگو اج اسی لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے #ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر #BLA SM Tv Global

Shahzada Usman Tahir

33,890 次观看 • 1 个月前