Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

بابا جی کی کر رہے ہو ۔۔۔ عورت کا بابے سے سوال بابے کا جواب اولاد ہونے کیلے دم ایسے کرنا پڑتا ہے ۔۔ استغفراللہ ۔۔ جب میرارب فرماتاہے لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ ﴿٤٩﴾ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا...

113,848 görüntüleme • 11 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 görüntüleme • 8 ay önce

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 görüntüleme • 1 ay önce

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 görüntüleme • 9 ay önce

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 görüntüleme • 7 ay önce

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔
2:55

Sensitive content

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔

Saleem Speaks

217,054 görüntüleme • 5 ay önce

فوج وہ ادارہ ہے جس کی ٹریننگ ہی تشدد ہے، جن کی سوچنے کی تربیت ہی صرف اتنی ہے کہ گولی کے جواب میں گولی چلانی ہے، لیکن جب آپ ان کی قیادت کو سویلین ڈومین میں لے کر آتے ہیں جہاں سیاست، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہوتی ہے تو آپ پورے سویلین نظام کو ملیٹرائز کر دیتے ہیں، اب جب ان کو کسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو وہ بات گولی کی طرح لگتی ہے، جب معید پیر زادہ پوڈ کاسٹ کرتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ گولیاں چل گئی ہیں جیسے ڈاکٹر معید پیر زادہ کے پاس مشین گن ہو۔ ان میں تنقید سُننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اسی لیے جو انکی مرضی کی بات نہیں کرتا وہ دشمن ہے، وہ سویلین لینڈ اسکیپ میں بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ دوست ہے یہ دشمن ہے اور یہ غدار ہے، پھر جب کوئی کچھ بھی تنقید کرتا ہے تو ان کو لگتا ہے بمبار منٹ ہو گئی ہے معید پیر زادہ ایف 16 اڑا رہا ہے اور اس وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے، جنگوں میں یہ سب چلتا ہے لیکن جب آپ اس کو گورننس اور سویلین ڈومین میں لگاتے ہیں تو ملک کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسین ندیم Via Rodium-A Hussain Nadim Moeed Pirzada

Qasim Khan Suri

82,243 görüntüleme • 1 yıl önce

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 görüntüleme • 8 ay önce

جب حد ہی ختم ہو جائے دنیا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ کبھی کبھی ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ماں اور بیٹا ہیں، دونوں ٹک ٹاکر ہیں، لیکن ذرا اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے گانے کے بول اور ان کے انداز پر غور کریں۔ کہیں سے بھی یہ ماں بیٹا لگ رہے ہیں؟ رشتوں کی اپنی ایک حرمت، ایک حد اور ایک خوبصورتی ہوتی ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ تو ویسے ہی عزت، محبت اور تقدس کا رشتہ ہے۔ صرف چند ویوز، لائکس اور پیسوں کے لیے اس رشتے کو ایسے انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا کہ دیکھنے والا خود شرمندہ ہو جائے، آخر یہ کہاں کی سمجھ داری ہے؟ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن شہرت کے لیے ہر حد پار کر دینا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ویوز کی دوڑ میں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہم جو کچھ کیمرے کے سامنے کر رہے ہیں، اسے دیکھنے والے ہمارے رشتے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اور چند ہزار ویوز کے لیے رشتوں کی حدود، شرم و حیا اور خاندانی وقار سب کچھ بھول جاؤ؟

its me میٹھو

19,898 görüntüleme • 5 gün önce

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,642 görüntüleme • 17 gün önce

20 ستمبر رات 9 بجے اپنی چھتوں یا صحن میں اذانیں دیں اور اپنا مقدمہ اللہ کے حضور پیش کریں۔ تین سال سے اس ملک میں بدترین ظالمانہ نظام رائج ہے اور تمام اداروں سے عوام مایوس ہو چکے ہیں۔ ہم نے ہر راستہ آزمایا احتجاج کیے، گولیاں کھائیں، آواز اٹھائی مگر ہم بے بس ہیں جو لوگ اذان کے لیے چھت پر کھڑے نہیں ہوسکیں وہ اپنے موبائل پر اذان لگا لیں خواتین اپنے کمروں میں یا موبائل سے اذان لگا لیں۔ اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ ہر جگہ یہ ثابت ہو کہ مشنِ نور میں سب نے بھرپور شرکت کی ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں یہ بہت سنجیدہ عمل ہے۔ ہم اپنے مقدمے کو اللہ کے حضور لے جا رہے ہیں اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور جب اس نے فیصلہ کرنا ہو گا تو اس کا عذاب و سزا چھپنے کی جگہ نہیں چھوڑے گی 20 ستمبر کو مشن نور کا حصہ بنیں اپنا رول ادا کریں ویڈیوز بنائیں اور پھیلائیں یہ ہمارا مقدمہ ہے اور ہم اسے اللہ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا اللہ ہے وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ان شاءاللہ اس عمل سے اللہ کی مدد آئے گی۔

Haider Saeed

19,226 görüntüleme • 11 ay önce

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔
1:45

Sensitive content

اس کلپ کو دیکھیں دس بارہ سال کی بچیاں ٹک ٹاک پر لائیو اتی ہیں میچ لگانے میچ کس کے ساتھ ڈاکٹر ایمان جنکو نہی پتہ تو ٹک ٹاک پر اس کا نام سرچ کر لیں ۔۔ یہ لڑکا رات کو لائیو مجرے کرانے فحش گفتگو کرنا اور پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکیوں کو ٹریپ کر کے دبی بلانا اور پھر انہیں آگے سپلای کرنا یہ اس کا دھندہ ہے ۔۔ اس کلپ میں بچیاں منتیں کر رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ میچ لگاو ہم یقین نہی اتا ہم اپکے ساتھ لائیو ہیں لڑکا انہیں سمجھا رہا ہے یہ ٹک ٹاک لائیو اچھی گھر کی لڑکی کیلے نہی ہوتی ۔ وہ انہیں نصیحت کر کے بھیج دیتا ہے ۔۔ اب آپ کہیں گے اس میں قابل اعتراض بات کہاں تھی ۔۔ زرا سوچیں اک سیکنڈ کیلے آپ اس لڑکے کے کرتوتوں ے واقف ہوں آپکی بچی آپ سے کہے کہ میں نے اس لڑکے سے میچ لگانا ہے کیا ریکشن ہو گا آپکا ۔۔ اب کچھ سوال ہیں ۔۔ ان بچیوں کو ٹک ٹاک لائیو کا اکاؤنٹ کیسے ملا ۔۔ وہ تو پاکستان میں بند ہے ۔۔ یہ بچے اس بے ہودہ شخص کے فین ہیں جسکی کوی اک ویڈیو دیکھا دیں جو فحش گفتگو اور مجرے کے بغیر ہو ۔۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ ان بچیوں کے والدین نے کبھی سوشل میڈیا استعمال نہی کیا گیا ۔۔ آپ کہتے ہو کہ میں اس ٹک ٹاک کے گند کے خلاف کیوں ہوں اس وجہ سے ہوں کہ ہمارے نوجوان نسل ہمارے معصوم بچے اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جب وہ ٹک ٹاک استعمال کریں گے ان کے فین تو بنیں گے ۔۔ ٹک ٹاک کا الگورتھم ایسا ہے کہ وہ آپکو فاریو والی ویڈیو لازمی دیکھاے گا ۔۔ چاہے وہ گندی سے گندی ویڈیو کیوں نہ ہو ۔۔ یہ کلپ ہمارے لیے بھی سبق ہے جب ہم موبائل بچوں کو دے دیتے ہیں بچوں نے اپنے ٹک ٹاک اکاونٹس بناے ہوے ہیں ۔ ہمیں بھی نہی پتہ یا پتہ ہے تو اس کی سگینی کا اندازہ نہی ہے بچوں کو کیا پتہ غلط کیا ہے درست کیا ہے ۔۔ یہ لڑکا جو حاجی بن کر نصیحت کر رہا ہے اس کی مجبوری تھی نصیحت کرنا لائیو پر اک لاکھ بندہ بیٹھا تھا اس کیلے مشکل بن جاتی ۔۔ یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر ان بچیوں کے چہروں کے ساتھ موجود ہے اور میں نے فیس بلر کر دیے ۔ میری ریاست پاکستان سے جھولی پھیلا کر اپیل ہے کہ خد ا کیلے دبئی میں بیٹھے ان گفٹر اور ٹک ٹاکر کے خلاف کریک ڈون کریں ۔۔ کم سن بچے تباہ ہو رہے ہیں ریاست کو کوی پرواہ نہی ہے ۔

Saleem Speaks

276,915 görüntüleme • 7 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

یہ سب کچھ ڈی جی صاحب نے کہا ۔ صرف انکی جونسی انگریزی ہے اس کا ترجمہ کر دیا ۔ وہ یہ سب سمجھتے ہیں اسی لئے یوتھ کے خلاف ہیں ؟ انہوں نے کہا ۔ جو ہوپ والی بات ہے۔ ​آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا جو نوجوان ہے وہ باشعور نہیں ہے؟ بہت باشعور ہے مجھے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اس شاندار نوجوان طبقے سے بارہا گفتگو کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اور میں آپ کو سچ بتاؤں، جس عمر میں وہ ہیں، اس عمر میں ہمارے مقابلے ان کی سوچ کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ بے حد واضح ​وہ جو دنیا کے حالات دیکھتے ہیں نا میرے بھائی، انہیں ریاست کی اہمیت کا مجھ سے اور آپ سے زیادہ اندازہ ہے جو ہمیں اس عمر میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی، پاکستان سے ان کی محبت، اور پاکستان پر ان کا اعتماد بہت مضبوط ہے۔ اور میرے خیال میں وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے ابھی 50 سے 70 سال کی پوری زندگی پڑی ہے، کہ وہ ذاتی طور پر زندگی میں اور یہ ملک مجموعی طور پر کن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ​اور ایک بہتر تبدیلی اور سنہرے مستقبل کے لیے ان کی خواہش کہیں زیادہ شدید ہے۔ ​تو اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے، اور اب ہم کھلم کھلا اس بات پر بحث بھی کر رہے ہیں کہ جی ہاں، تبدیلی کی ضرورت ہے..." , تو آئی تھنک مایوسی نہیں، کہیں گے... وہ پرہیپس آئی تھنک کہیں گے 'دیر آئے درست آئے'۔ ٹھیک ہے نا؟ Because they also, ان کا اسٹیک ہے میرے بھائی ان کے پاس زندگی زیادہ ہے، ان کے پاس دہائیاں زیادہ ہیں۔ ​اور اسی ملک کے نیچے، انہیں پتہ ہے وہ غزة کو نہیں دیکھ رہے، انہیں پتہ ہے ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست کی جگہ... انہیں پتہ ہے پاکستان کے علاوہ نہ ان کی پہچان ہے، نہ عزت ہے، نہ اوقات ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں، مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میں جب بھی انٹریکٹ کرتا ہوں، ایک چیز.. . جب آپ ان سے ملتے ہیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ کا دل جیت لیتی ہیں، کہ ہمارے پاس کتنا شاندار نوجوان طبقہ ہے! کتنا سلجھا ہوا اور روشن دماغ نوجوان طبقہ ہے!" ​تو یہ ان کی ریکوائرمنٹ ہے میرے بھائی۔ یہ امید کم نہیں ہوئی، یہ ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تو اب ایک... ایک سوچ جنم لے رہی ہے، ایک عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔" اب اس کا طریقہ جونسا ہے وہ آئین اور قانون اور عوام... اور ​"تو پھر، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی تو وہی ہیں ​اگر پاپولیشن وائز بھی دیکھا جائے تو سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر وہی ہے نہ؟ 'ویل آف دی پیپل' کی بات کی جائے تو 'ویل آف دی پیپل' کا سب سے بڑا کمپوننٹ تو وہی ہے۔ تو ہم تو یہی کہہ رہے ہیں لوگوں کی رائے لیں' تو. یوتھ بتا دے گی آپ کو،کہ وہ کیا چاہتے ہیں"

Shafqat Ch

20,399 görüntüleme • 1 ay önce

یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہم لوگوں کو اللہ پاک کی ذات کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں ۔۔ اپ کیلے اس سے بڑھ کر کوی بڑی نعمت نہی ہو سکتی کہ اپ مسلمان ہیں اپکے والدین بہن بھای مسلمان ہیں ۔۔۔ اس ویڈیو میں دو مرد اک دوسرے سے شادی کرتے ہیں اور اک مرد جو خود کو بیوی کہتا ہے وہ اپنی تھراپیاں کرتا ہے سرجریاں کرتا ہے بقول اس کے وہ اب پریگنینٹ ہے ۔۔ اب یہاں میری ناقص عقل اس چیز کو بلکل ماننے سے انکاری ہے کہ اپ سرجریاں کرا کے مکمل عورت کبھی نہی بن سکتے ۔۔اور حمل کیلے قدرتی بچہ دانی کا ہونا لازمی ہے ۔۔ اگر یہ نیوز درست ہے تو ہو سکتا ہے یہ Transgender خاتون ہو جو پیدائشی طور پر عورت تھیں لیکن بعد میں مرد کی طرح زندگی گزار رہی تھی ۔ اس نے ہارمون تھراپی روک کر اپنی قدرتی بچہ دانی سے حمل ٹھہرایا یہ بات مانی جا سکتی ہے ۔یعنی بچہ دانی پہلے سے موجود تھی ۔ یہ ہے وہ مغرب کہ کارنامے جیسے ہمارے لبرل میڈیکل سائنس کی ترقی کا نام دیتے جیسے وہ ازادی کا نام دیتے ہیں ۔۔

Saleem Speaks

27,382 görüntüleme • 4 ay önce

یہ کلپ ہر شخص کو دیکھنا چاہیے ۔۔ جو مسلمان ہے ۔۔ اک پاکستانی لڑکی نے سوال کیا کیا سیم سیکس کے ساتھ ریلیشن میں رہ سکتے ہیں کیا اسلام میں اس کی جگہ ہے ۔۔ اگر نہی ہے تو پھر اللہ تعالی نے ہمیں ایسا کیوں بنایا ہے ۔۔ میں نے کسی کو تکلیف نہی پہنچای ۔۔ اج تک ۔۔ مگر میں اک لڑکی کے ساتھ ریلیشن میں ہوں ۔۔ سوال لڑکی کا بلکل درست ہے اس کا عمل بیشک گناہ میں ہو ۔۔۔ کیونکہ اجکل لی جی بی ٹی والوں نے اس کو میڈیکل مسئلہ قرار کر کے اپنے لیے راہ نکالی ہوی ۔۔ یا تو وہ اپریٹ کر کے جنس تبدیل کر دیتے ہیں ۔۔ یا پھر وہ ساری زندگی ہم جنسی پرستی میں رہتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی نے دو مخلوق پیدا کی انسانوں میں مرد اور عورت اور تیسرے جو میڈیکلی ان فٹ ہوتے انہیں ہم شی میل سے پہنچانتے ہیں ۔۔۔ مگر یہاں جو بات ہو رہی ہے وہ مکمل مرد اور مکمل عورت کی ہورہی ہے ۔۔ سنئے اس بارے میں غامدی صاحب نے کتنی زبردست بات کی ہے۔۔ اور بہترین جواب دیا ہے ۔۔۔ ہمارے معاشرے کااصلی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علما کرام اس ایشو پر کھل کر نہی بولتے ۔۔ یا بولتے ہیں تو کم بولتے ہیں جس سے مسیج اگے کم جاتا ہے ۔۔ اور اگر اس وبا کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے تو علما کرام کو باقاعدہ اس پر بات کرنی پڑے گی ۔۔۔ پچھلے اک ماہ میں لاہور میں دو پارٹیز ان دم چھلوں نے منعقد کرای ۔۔ جن کی ویڈیوز دیکھ کر بندہ توبہ استغفار کرے اور ریاستی پولیس نے مکمل طور پر تحفظ دیا ۔۔

Saleem Speaks

101,399 görüntüleme • 9 ay önce

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 görüntüleme • 7 ay önce