Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

“بجلی کا بل ٹھیک کروانا ہے تو میرے ساتھ سونا پڑے گا”۔ لاہور میں 18 ہزار کا بِل ٹھیک کروانے کے لیے غریب عورت کو لیسکو افسر سے دو بار گیسٹ ہاؤس میں ملنا پڑا۔ غربت، بجلی کے ہوشرُبا بلوں اور معاشرے کی بدکرداری کی عجیب و غریب کہانی۔۔۔...

168,786 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

میٹرو ٹرین لاہور میں کام کرنے والے غریب ملازمین کی تنخواہیں کئی ماہ تک ادا نہیں کی جاتیں، 25 ہزار ماہانہ پر ملازم رکھے جاتے ہیں اور تنخواہیں 18 ہزار دی جارہی ہیں کہ ٹرین خسارے میں جا رہی ہے ۔ کچھ غریب ملازمین کو تو یہ 18 ہزار بھی تین ماہ سے نہیں ملے ۔ ایک چھٹی کرنے پر 5 ہزار کی کٹوتی ہوتی ہے ۔۔ صرف میٹرو لاہور کا ماہانہ خسارہ ایک میٹرو ملازم کے بقول تقریباً سات کروڑ روپے ہے جو آپکی اور میری جیب سے پورا ہوتا ہے۔ کوئی ان کے سپروائزر یا ٹھیکیدار کو پوچھنے والا ہے ؟ مریم بی بی سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ حکومتی اراکین کی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافے کا درد تو جاگا تھا ، اور ان کی چھٹیوں کی بھی پوری تنخواہ دینے کا بھی ۔۔ کیونکہ ان بیچاروں کی گزر اوقات مشکل سے ہورہی تھی ۔۔ مگران غریبوں کی آواز کانوں تک کیوں نہیں پہنچ رہی ؟؟ ان کی کون سنے گا ؟ اپنے آواز حق کے لیے بولنے والے کو تو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے ۔ شاید اس غریب کا بھی یہ آخری دن ہو ۔۔۔ یہ سب کچھ چیف منسٹر صاحبہ کے اپنے شہر لاہور میں ہو رہا ہے ۔۔۔ کوئی ان کو جگائے اور بتائے !!

Ch Asif Hamaiyon

75,010 просмотров • 1 год назад

اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے صاحبانِ اختیار، ذرا غور کیجیے گا۔ 💔 ایک ویڈیو میں ایک غریب مگر خوش مزاج نوجوان نظر آیا، جو اپنے خواب پورے کرنے، والدین کو خوش رکھنے اور رزقِ حلال کمانے کے لیے پردیس میں محنت مزدوری کر رہا ہے۔ بائیک رائیڈنگ کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے، مشکلات بھی بتاتا ہے مگر صبر، شکر اور امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لاکھوں کروڑوں محنت کشوں سے مزید 100 ارب روپے کا بوجھ نکالنا ہی آسان راستہ کیوں ہے؟ ایک لیٹر پٹرول پر غریب مزدور اور کروڑوں کی گاڑی میں گھومنے والا امیر و بااختیار شخص تقریباً ایک ہی نوعیت کا ٹیکس دیتا ہے۔ بجلی کے معاملے میں غریب کو 200 یونٹ کی حد میں رکھنے کے لیے سلیب سسٹم اور پابندیاں ہیں، مگر امیر طبقے کے لیے رعایتوں اور سہولتوں کے راستے نکال لیے جاتے ہیں۔ اگر قانون سازی کا مقصد غریب کی مشکلات بڑھانا اور طاقتور کو تحفظ دینا بن جائے، تو پھر مسئلہ صرف ٹیکس کا نہیں، پورے نظام کے انصاف کا ہے۔ صاحبانِ اختیار، کبھی قانون بناتے وقت اس محنت کش نوجوان کے چہرے کو بھی سامنے رکھ لیا کریں۔

Expose Propaganda

16,280 просмотров • 12 дней назад