Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بریکنگ نیوز 🚨: مریم نواز نوکرانی عظمیٰ بخاری کو شاہد خٹک نے تُن کر رکھ دیا، تاریخ جواب دے ڈالا۔ عظمی بخاری نے ایک بیان دیا کہ وزیر اعلٰی کے ساتھ جنگلی آئے ہوئے ہیں، جنگلی تم ہوگی تمھاری نسل ہوگی تمھاری اولاد ہوگی 🔥 خبردار اسکو ریٹویٹ کیے...

26,783 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

☆ ڈی جی ISPR نے فخریہ انداز میں کہا کہ ان کا لیڈر ( عمران خان ) تو کہہ رہا ہے کہ آپریشن نہیں ہو رہا لیکن آپریشن تو ہو رہا ہے ☆ وزیر دفاع نے اسمبلی میں فخریہ انداز میں کہا " کہ ہم کررہے ہیں آپریشن اور ہم ہر صورت آپریشن کریں گے " ☆ تیراہ کی عوام کو 25 جنوری تک انھوں نے ڈیڈ لائن دی کہ ہر صورت علاقہ خالی چاہیے ☆ اس سے قبل تیراہ پر ڈرون حملے کرتے رہے، تیراہ میں معصوم بچی تو کو دہشتگرد کہہ کر شہید کیا گیا اور آج جب شدید سردی اور برف باری کی حالت میں تیراہ کی عوام نے اپنے آباو اجداد کی زمین کو اسٹیبلشمنٹ کی ڈیڈ لائن کے بعد چھوڑا تو اب یہ ذمہ داری نہیں لے رہے فیصلہ سازو !! اب ایسا نہیں ہو گا کہ تم ظلم کرو اور پھر اس کا ملبہ کسی اور پر ڈال دو اور قوم تمھاری باتوں میں آجائے، قوم تمھاری منافقت اور ان ہتھکنڈوں کو پہچان چکی ہے تم نے جب ڈیڈ لائن دے کر تیراہ کی عوام کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا اس وقت عمران خان کا وزیر اعلٰی Sohail Afridi اور اس کی صوبائی حکومت ہی تیراہ کی عوام کے ساتھ کھڑے تھے

Ahmad Hassan Bobak

186,729 views • 7 months ago

لڑکی نے ایک دن اپنی ماں سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہم بستر ہونے کی اجازت مانگی۔۔۔ عقلمند ماں نے کچھ سوچ کر بیٹی سے اجازت دینے کیلئے ایک شرط پر ایک ہفتہ کی مہلت مانگ لی۔۔۔ شرط یہ کہ ۔۔۔۔ وہ بادشاہ کے محل کے سامنے رُکے، اور جب بادشاہ اپنے قافلہ سمیت محل سے نکلے تو ایک بے ہوش انسان کی طرح خود کو اسکے سامنے گرا دے۔۔۔ اور جو گزرے وہ ماں کو سنائے۔۔۔ لڑکی نے ایسا ہی کیا تو بادشاہ خود گھوڑے سے اترا اور خود ہی اسکی حالت درست کی اور پھر اسے اچھی حالت میں گھر پہنچانے کا حکم دیا۔۔۔ ماں نے دوسرے دن بھی ایسا کرنے کا کہا! چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا اس دفعہ بادشاہ نے اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا۔۔ وزیر نے بھاگ کر لڑکی کو سنبھالا اسکی حالت درست کی اور آگے بڑھ گیا۔۔۔ تیسرے دن لڑکی نے خود کو وزیر کے سامنے گرایا، لیکن اس دفعہ وزیر نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ دستے کے کمانڈر نے آگے بڑھ کر جاکر اسے سنھبالا ۔۔۔ چوتھے دن ایسا کرنے پر کسی ایک سپاہی نے سنبھلا کیوں کہ کمانڈر نے آج اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔۔۔ پانچویں دن عام راہگیر نے اسے اٹھایا۔۔۔ چھٹے دن لوگوں نے پاؤں مار مار کر اسے راستے سے ہٹایا۔۔ راہ چلتے بھکاری نے اسے سنبھالا ۔۔۔ ساتویں دن انسانوں کے بجائے ایک کتا اسکے چہرے کو چاٹنے لگا۔۔۔ ماں نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا، کہ بالکل اسی طرح معاشرے میں جب کوئی گرتا ہے، تو سب سے پہلے کوئی امیر شخص یا کوئی بگڑا امیر زادہ اس کی عزت نوچتا ہے۔۔۔پھر وہ اسکو اپنے سے کمزوروں کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔۔اسی طرح ہوتے ہوتے ایک دن وہ گلی کے کتوں (لفنگوں) کیلئے ایک سستا مال بن جاتا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب بہن بیٹیوں کی عزت محفوظ رکھیں آمین ثم آمین Copy

🦋𝐁ɪsᴍᴀ 𝐁ᴀᴛᴏᴏʟ🦋

13,596 views • 9 months ago

سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپور

Gilgit Baltistan Tourism.

52,416 views • 1 year ago

مینارِ پاکستان سے صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر اور مجید غوری کی میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے پر ہم مشکور ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے آگاہ کیا ہے کہ اجازت دے دی گئی ہے، اب ہمیں انتظامات مکمل کرنے کے لیے صرف ایک دن درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے۔ ہم آج 23 جولائی سے ہی مینارِ پاکستان پہنچ گئے ہیں اور تمام رات یہیں موجود رہیں گے۔ پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اجازت مل چکی ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ گراؤنڈ سے پانی نہیں نکالتی تو پیپلز پارٹی کے کارکن خود پانی نکال کر جلسہ گاہ تیار کریں گے۔ جلسے کے لیے 100 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار انقلابی ترانے پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جولائی کو رات 8 بجے جلسہ شروع ہوگا جبکہ 26 جولائی کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کے موقع پر 24 فٹ اونچا کیک کاٹا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، جبکہ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور قمر زمان کائرہ بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ لاہور کے ہر ٹاؤن سے کارکنوں کے قافلے جلسے میں شرکت کریں گے۔ فیصل میر نے واضح کیا کہ ہم نے کوئی گیٹ نہیں توڑا، گیٹ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اسی شہر کے شہری ہیں اور انہیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے جمہوری حق کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر مجید غوری نے کہا کہ جیالے اسٹیج کا سامان لے آئے ہیں۔ بارش ہو یا شدید گرمی، پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر صورت جلسہ کامیاب بنائیں گے۔ #PPP #PakistanPeoplesParty #Lahore #MinarEPakistan #AsifAliZardari #BilawalBhuttoZardari Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

PPP LAHORE Official

16,429 views • 1 month ago

🚨بریکنگ : مافیاز کی جنگ آخری مراحل میں داخل ⚠️ اقتدار اور طاقت کے بھوکے بھیڑے جرنیل اور سیاستدان مافیاز کی بقاء کی جنگ آخری مراحل میں داخل ہو چُکی ایک بات یاد رکھیں اصل طاقت جرنیلوں کے پاس ہی ہے مگر اس طاقت کو legitimise کرنے کے لئے ان حرامیوں کو سیاسی حرامیوں کے notification کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے شہباز شریف، مریم نواز اور نواز شریف کے کہنے پر لندن فرار ہو چُکا تاکہ یہ ہیرا منڈی کا خاندان اس نوٹیفیکشن کے بدلے اپنا حرام پنتی والا کام کروا سکیں، جو کے خان صاحب کو نقصان پہنچانا ہے 🤬 کل رات موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر حرامی جرنیل ، شریف، زرداری اور فضل خاندان، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے اندر موجود چند مبینہ گھس بیٹھیے بھی، خان کو نقصان پہنچانے پر تُلے ہوئے ہیں ان میں گنڈاپور سر فہرست ہے 🤬 گزشتہ رات مریم نواز اور عاصم منیر کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو کے مطابق، مریم نواز عاصم منیر پر سخت دباؤ اور اس کی تعیناتی کے نوٹیفیکشن پر بلیک میلنگ کر رہی ہیں تاکہ وہ خان کے خلاف سخت قدم اٹھائے 🤬 عاصم منیر ایسا کرنے پر راضی ہے مگر ابھی تک ڈر رہا ہے کہ کہیں شریف خاندان عاصم ملک یاں کسی اور جرنیل کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ایک فیک قسم کی میوٹنی نا لے آئے، جیسا کہ فیض حمید کے ساتھ ہوا❗️ مستری کا شک ٹھیک ہے کیونکہ شریف خاندان سے مریم نواز ہی نہیں بلکے بلاول اور زرادی خاندان بھی یہی ڈیل آسم ملک اور دوسرے جرنیلوں کو دے رہے ہیں کہ خان کو نقصان پہنچانے والے کا ہی نوٹیفیکشن ہوگا 🤬 اب تک کی اطلاح کے مطابق یہ سارے حرامی جرنیل ڈیل کرنے کو بلکل تیار ہیں مگر ان حرازادوں کو خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں دونمبر میوٹنی کے ساتھ ساتھ حقیقی میوٹنی نا ہو جائے جس کو شائید یہ حرامزادے کافی حد تک کنٹرول بھی کر لیں مگر مگر مگر ان حرامیوں کی اپنی انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سول وار یقیناّ شروع ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کو نا صرف پاکستان میں مار دیا جائے گا بلکے ان کے تمام خاندانوں کو باہر کے ملکوں میں بھی ٹھوک دیا جائے گا - کیونکہ خان کے لئے دنیا کہے ہر ملک میں لوگ غداروں کو مارنے کے لئے تیار ہو چُکے ہیں 🔥✊ اگر نوٹیفیکیشن نا ہوا تو ماشل لاء لگا کر کچھ دن اور گزار لیں گے ۔ مگر یہ نظام اب ختم ہو چُکا ✊ ان شاء اللہ خان صاحب محفوظ رہیں گے 🤲

Mr Rumi (✊ #KRBT انقلاب)

15,936 views • 9 months ago

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں
0:10

Sensitive content

🆘 خان کی زندگی شدید خطرے میں ، پنڈی پر نظر رکھیں 🆘 پنڈی کو 26 اپریل تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور فوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے ۔ چھتوں پر فوجی سنائپر بیٹھا دیئے گئے ہیں یاد رہے آج سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے فوج کی TEAM A (Asim) اور TEAM B (Malik) کی میٹنگ میں خان کو پھر سے ختم کرنے کا پلان ڈسکس ہوا ہے یاد رہے دونوں ٹیمیں ایک ہی ہیں دونوں خان کو ختم کرنا چاہتی ہیں Team A میں آسم منیر ، زرداری، نواز ، پی ڈی ایم وغیرہ شامل ہیں Team B میں آسم ملک، پاکستان تحریک انصاف عسکری قیادت اور آصف غفور کے ففتھیے شامل ہیں 🆘۔ Team A کا پیش کردہ پلان آسم نے کہا امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مزاکرات ناکام ہوئے تو ہم کو امریکہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ اس جنگ کے لئے عمران خان کو ختم کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اگر جنگ لگی تو عوام اور شیعہ کمیونٹی کی وجہ سے سول وار لگ سکتی ہے اور اگر عمران خان زندہ ہوا تو وہ عوام کی امید ہوگا کہ اس جنگ کو خان ہی روک سکتا ہے اس لئے اس کو سول وار کر کے باہر نکالتے ہیں ۔ اس لئے جنگ میں جانے سے پہلے عمران خان کو طبعی طور پر ختم کر دیا جائے 🆘۔ Team B کا پیش کردہ پلان نہیں ہم خان کو امریکہ کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کر سکتے اس کے لئے ہمیں امریکہ کی مکمل حمائیت اور گارنٹی چاہئے اور اس میں ہمیں دس سال تک IMF سے ڈالر چاہیں ہونگے اور سعودیہ, مڈل ایسٹ سے loan ریلیف چاہئے ہوگا ۔ اس کے لئے خان کو ختم کرنے کے لئے امریکہ سے اجازت لیں پھر ہم خان کو ختم کر دیں گے اور پھر ہم سکون سے ایران کے ساتھ جنگ میں جا سکتے ہیں ℹ️ اس بات پر دونوں ٹیموں نے اکتفا کیا اور فیصلہ ہوا آسم منیر امریکہ جاکر اجازت لے گا اور عوام کو چورن دینے اور engage کرنے کے لئے 19 تاریخ کا جلسہ بھی رکھ دیا گیاہے ۱: ایران سے مزاکرات ناکام ہو چکے ۲: سعودیہ اور مڈل ایسٹ loan کو reschedule کر چُکا ۳: IMF سے بھی بات شروع ہو چُکی ۴: پنڈی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ۵: عوام کو پنڈی کی بجائے مردان جلسے کی طرف لے جایا جا چُکا ۶: سب سے خطرناک ڈیلیپلمنٹ یہ ہی کہ اسم منیر اس وقت امریکہ روانہ ہوچکا ہے اس پوسٹ کا مقصد ان حرامخور غداروں کے گندے پلان کو ایکسپوز کرنا لازم ہے ۔ تاکہ عوام کو آگاہی رہے ان کے sinister plan کی 🙏✊ Imran Khan #خان_کی_زندگی_خطرے_میں

Mr Rumi (✊ #KRBT انقلاب)

19,700 views • 4 months ago

یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔

عباس خٹک

104,545 views • 7 months ago

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 views • 8 months ago

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

کاشف چوہدری

27,471 views • 2 years ago

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

62,237 views • 1 day ago

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

Qaimkhani

23,562 views • 7 months ago

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

Khadim Ali khan Yousaf zai

16,301 views • 8 months ago

مریم نواز کو درخواست کیوں دی،ڈکیت نے سینئر نابینا صحافی کو تشدد اور زوجہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا دیا ملزم بااثرخاندان سےتعلق رکھتاہے، کاروائ نہیں کی جاسکتی، پولیس کاموقف تفصیلات - چکوال سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ نابینا سینئر صحافی راجہ محمد خالد کی زوجہ عابدہ پروین ساکن پادشہان تحصیل و ضلع چکوال کے ساتھ 14/11/2024 کو ڈکیتی کی واردات پیش آئ، سائلہ نے ملزم شہریار ولد سرفراز کو پہچان لیا،بجرم 382 ت پ کے تحت مقدمہ نمبر 357 کے تتمہ بیان میں ملزم کو نامزد کر دیا۔ لیکن ملزم طاقتور و اثرورسوخ کے حامل ہونے کے سبب گرفتار نہ ہو سکا۔ گھریلو خاتون سائلہ عابدہ پروین نے ڈی پی او چکوال کو کھلی کچہری میں مورخہ 10/12/2024 اور 19/12/2024 کو بمع درخواست پیش ہوئ لیکن پولیس کاروائ کرنے سے قاصر رہی۔ سائلہ نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو درخواست ارسال کر دی جس میں ملزم اور اسکے خاندان کے کرتوت لکھ ڈالے۔ درخواست ن لیگی ایم این اے اور بااثر شخصیت کے ہاتھ لگ گئ اور ملزمان کے خلاف کوئ کاروائ نہیں ہوئ جبکہ 49 سالہ سائلہ کا جینا دوبھر کر دیا گیا۔ جنسی ہراسانی اور بے جا تنگ کیا جانا کئ گنا بڑھ گیا۔ 25/03/2025 کو صبح 05:30 بجے ملزم شہریار ولد سرفراز ساکن دیہہ ایک مرتبہ پھر سائلہ کے سکونتی گھر واقع تھانہ ڈھڈیال ضلع چکوال میں زبردستی گھسا، سائلہ اور خاوند کو زد وکوب کیا، لاتوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، اور سائلہ کی عزت لوٹنے کی کوشش کی، شدید مزاحمت پر ملزم بھاگ گیا جبکہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم شہریار کو دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کی ایف آئ آر بمشکل ایک ماہ بعد نمبر 154/25 بتاریخ 30/04/2025 درج ہو سکی۔ اس سب کے باوجود پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے جبکہ 74 سالہ سینئر نابینا صحافی راجہ محمد خالد اور انکی 49 سالہ زوجہ عابدہ پروین انتہائ خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پولیس اس کیس میں نہ صرف ملزم کو تحفظ فراہم کر رہی ہے بلکہ من گھڑت و خود ساختہ جعلی کاغذات بنا کر ملزم کو کھلی چھوٹ دیئے ہوئے ہے۔ موقف حاصل کرنے کی کوشش میں پہلے متعلقہ تھانہ اہلکاران موقف دینے سے انکاری رہے جبکہ بار بار موقف طلب کرنے پر متعلقہ تھانے کے ایک اعلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا تعلق بااثر خاندان سے ہے، کاروائ نہیں کی جا سکتی۔ سائلہ کی آئ جی پنجاب، وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے اور ملزم گرفتار کر کے انصاف دلوانے کی استدعاہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیک گراؤنڈ اوریجنل وائس میں 74 سالہ سینئر نابینا صحافی راجہ محمد خالد اور انکی 49 سالہ زوجہ عابدہ پروین کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے۔

Masood Chaudhary

145,880 views • 1 year ago