Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بلوچستان میں جو sentiment ہے وہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ اس کیلئے بہت ضروری تھا کہ لوگوں کی منشا کے مطابق جس کو انہوں نے ووٹ دیئے تھے، انکی رائے کو ترجمانی دی جاتی تاکہ لوگ own کرتے۔ ابھی لوگوں اور ریاست کے منتخب کردہ نمائندوں کا اۤپس میں...

34,248 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

سابق وزیر اعظم عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے ان کے وکلاء جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان کو وکالت ناموں پر عمران خان کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود وکلاء کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے اور عمران خان کے دستخط نہیں لینے دیئے جاتے، اسی لیے 7 اپریل کو منگل کے دن علیمہ خان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران کو کال دی ہوئی ہے کہ آپ سب نے اظہارِ یک جہتی کے لیے اڈیالہ کے باہر آنا ہے اور تقریباً دس ہزار کی تعداد ہونی چاہیے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا علیمہ خان کی اس کال کو پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور عہدیداران سیریس لے رہے ہیں یا نہیں، میری تمام لوگوں سے اپیل بھی ہوگی کہ آپ نے 7 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچنا ہے اور پر امن رہتے ہوئے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، جو بھی الیکشن میں جیتے ہیں وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر عمران خان کے نام سے جیتے ہیں اور خاص طور پر جو 8 فروری کا الیکشن ہوا ہے اس میں تو لوگوں نے لائنوں میں لگ کر کھمبے، گاجر، مولی جیسے انتخابی نشانات کو ووٹ دیا ہے، لوگوں کا الیکشن کمپین میں ایک روپیہ بھی نہیں لگا اور عمران خان کے نام پر ووٹ لیے ہیں تو ان سب کو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، اسی طرح نو اپریل کو ہماری حکومت کو گرائے ہوئے چار سال ہو جائیں گے اور نو اپریل کے دن تحریکِ انصاف نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا ہے، میری تحریکِ انصاف کے تمام لوگوں سے یہ گزارش ہوگی کہ آپ نے اس جلسے میں بھرپور شرکت کرنی ہے۔ #علیمہ_خان_کی_کال_اڈیالہ_احتجاج

Qasim Khan Suri

10,723 Aufrufe • vor 6 Monaten

آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔ ​آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔ ​ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔ ​کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی Mehmood Khan Achakzai

PTI

33,123 Aufrufe • vor 3 Monaten

کبھی کشمیر کبھی گلگت بلتستان کے لوگوں سے الجھتے ہیں۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔ ان کو آئینی شناخت نہیں دیتے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ حیات کہا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ جس طرح پاکستان کے علاقوں میں لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹھڈے مار کر پرے پھینکا جاتا ہے اور اپنی مرضی کے حکمران ٹھونسے جاتے ہیں۔جی بی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ عوام کی منتخب حکومت کو گرایا گیا اور لوٹوں کو مسلط کیا گیا۔ کشمیر کے لوگوں کو وہ حقوق نہیں مل رہے جو متنازع علاقے کے حقوق ہوتے ہیں۔ کشمیری بھائی کہتے ہیں کہ بجلی یہاں بنتی ہے ہم سستی دو آئی ایم ایف سے قرضے لے کے بجلی مہنگے کرتے ہو۔ بجلی، پٹرول، ڈیزل، گندم سب کچھ مہنگا کر دیا گیا۔ اگر تم یہاں پر گندم کے حوالے سے کام کرتے تو پاکستان میں گندم کی مطلوبہ مقدار پیدا ہو جاتی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ اب ان کو مارو مت ان کی بات سنو۔ لوگوں کے اندر کئی سالوں کا غصہ موجود ہے۔ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ تم نے ناراض کیا انہیں، تم نے انہیں چھوٹا، حقیر اور پست سمجھا۔ اج کشمیر کے لوگوں پر گولیاں جلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ملو بات کرو ۔یہ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں مایوس نہ کرو جو بھی ان کے ان کو مایوس کر رہا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔ وہاں پر اس وقت حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے جیسے پورے پاکستان میں لیک آف ریٹ ہے۔ آپ بلوچستان کو دیکھ لو کیا حالت ہے۔ سندھ کو دیکھ لو۔ کراچی کو دیکھ لو وہاں دن دھاڑے ڈاکے پڑتے ہیں۔ لوگ قتل ہو رہے ہیں کچے کے ڈاکو لوگوں کے بچوں کو اٹھا کے لے جا کر قتل کر رہے ہیں۔ بھتہ لے رہے ہیں۔ کوئی پوچھ نہیں رہا اب لوگ تنگ آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد ہوتا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے میں انہیں کہتا ہوں خدا کے لیے مزید آگے نہ بڑھو اس وطن کا خیال رکھو۔ ہر وہ کام جس سے انڈیا طاقتور اور پاکستان کمزور ہو اس سے انڈیا علاقے کا اسرائیل بنے۔ 25 26 کروڑ عوام کا ایٹمی ملک پاکستان سرجیکلی اپ جگہ پر واقع ہے اور ساؤتھ ایشیا کے اندر، اس خطے کے اندر طاقت کا توازن بحال رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کمزور ہونے سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا ابھی انڈیا نے ہماری علاقائی حدود میں داخل ہو کر بیس بائیس افراد مارے ہیں۔ گارڈین نے خبر نشر کی ہے انڈین وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے۔ یہاں کوئی کیوں بولتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنوں سے نہیں انڈیا سے لڑنا چاہیے۔ ہمیں کشمیر آزاد کروانا چاہیے تھا۔ ہمیں کشمیری مظلوموں کے ساتھ دینا چاہیے تھا۔ کشمیر کے مظلوموں کے ساتھ بات چیت کرو دشمن کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دو۔ اسے طولانی نہ ہونے دو۔ان سے بات چیت کرو۔ کشمیری اس وطن کے باوفا بیٹے اور سرحدوں کے محافظ ہیں۔ جیسے چمن کے لوگ ہیں وہ بھی پاک افغان بارڈر پر مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر بھی ظلم ہو رہا ہے ان کے ساتھ بھی گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لہذا کشمیر کے لوگوں کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے وہ ہمارے بھائی ہیں ہماری جانیں ان پر فدا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم کبھی بھی ان پر ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے انشاءاللہ۔ مجھے امید ہے وہاں کی حکومت بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گی۔ یہ لوگ بڑے سخی ہیں بڑے دل والے ہیں یہ ٹھیک کر لیں گے جیسے جی بی کے لوگ ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن پاکستان سے محبت کی وجہ سے صبر کرتے ہیں برداشت کرتے ہیں لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہم میدان میں حاضر ہیں ہم نے پاکستان کو کمزور نہیں ہونے دیتا

Senator Allama Raja Nasir

50,869 Aufrufe • vor 2 Jahren

ہماری وہ تمام اضلاع جو عمران خان پر جان دیتے تھے ، آج وہاں پر عمران خان پر ظلم ہو رہا ہے، یعنی بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے لوگ آئے۔ آج یہ کچھ ہو رہا ہے، ہمارا وزیراعلی میک اپ کے لئے گیا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاو گے تو لوگ بیٹھ جائیں عمران خان کو غرق کر کیا۔ وزیر اعلی خود چھپ گیا لوگوں کو چھوڑ کر شفیع جان نہ لوگوں کو کھانا دے سکتا ہے نہ ناشتہ دے سکتا ہے لیکن پانچ لوگ بھی موجود نہیں ہیں۔ مجھے عمران خان عزیز ہے، وہ ہمارے وزیراعظم ہیں، یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن جب حالات ایسے ہوں گے تو لوگ بھی اسی حساب سے ردِعمل دیں گے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کو جو ووٹ ملے تھے، عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر لوگ ہی احتجاج میں شریک نہ ہوں اور لوگ ساتھ نہ دیں تو پھر احتجاج کا کیا فائدہ؟ وزیراعلٰی سے بھی مطالبہ ہے کہ عوام کی بات سنی جائے۔ لوگوں نے اپنی جیب سے چندہ دیا ہے۔ تقریباً ایک ارب تیس کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں۔ یہ رقم ہم نے عوام سے چندہ کرکے جمع کی ہے۔ ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا، کسی نے ایک ہزار دیا، کسی نے زیادہ دیا، کسی نے بیس ہزار تک بھی دیے۔ اب آپ نہ کارکنوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، نہ کوہاٹ کے لوگوں کو، نہ بنوں کے لوگوں کو۔ جو لوگ موجود ہیں، وہ صرف چند مخصوص لوگ ہیں۔ شفیع جان لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی بات کی جاتی ہے، لیکن علاقے میں کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ نہ لوگ اس طرح نکل رہے ہیں اور نہ ہی کوئی مؤثر احتجاج نظر آ رہا ہے۔ - ایک ارب تیس کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، ہم نے بھی اپنا چندہ دیا، دوسروں نے بھی دیا۔ اب اس چندے کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ - اب یہ سب کچھ بند ہونا چاہیے۔ عمران خان کی جنگ اپنی جگہ، لیکن احتجاج کا ایک طریقہ ہونا چاہیے۔ آخر میں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ احتجاج ناکام ہوا ہے۔ اور اگر اسی طرح مزید احتجاج کیے گئے تو وہ بھی ناکام ہوں گے۔ یہ احتجاج ایک بار پھر ناکام ہو گیا ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے اپنے ورکرز کہہ رہے ہیں 👇👇👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

37,046 Aufrufe • vor 2 Tagen

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 Aufrufe • vor 6 Monaten

اگر انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گلگت بلتستان ہم نے اس پارٹی کو دینا ہے یا ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے اور کشمیر میں ہم نے دوسری کسی جماعت کو الیکشن جتوانا ہے اور ان لوگوں کو فارم 47 دینا ہے جو ان کی مرضی کے ہیں تو یہ الیکشن والا تماشا اس ملک سے بند کر دینا چاہیے، انہیں لوگوں کو ویسے ہی ایک نوٹس ایک آرڈر ایشو کردینا چاہیے کہ یہ لوگ یہ ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں اور عوام کے ووٹ اور عوام صرف اور صرف یہاں پہ پسنے کے لیے اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارے کے لیے ہیں، یہاں پہ عوام تابعداری کرے نوکری کرے غلامی کرے ان جاگیر داروں، سیاستدانوں اور اشرافیہ کی، عوام کا پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا حق اگر آپ وہی ان سے چھین لیتے ہیں تو پھر عوام نے یہاں پہ کیا کرنا ہے؟ اگر آپ انہیں اس ووٹ ڈالنے والے سسٹم کا حصہ ہی نہیں بننے دیتے اور ان کی مرضی کے لوگوں کو چننے ہی نہیں دیتے تو وہ کیسے عوام سمجھے گی کہ یہ نظام ہماری وجہ سے کھڑا ہے؟ یہ بہت ضروری ہے اور یہ ملک کے لئے بڑا ضروری ہے کہ عوام کو واقعی اپنے آپ کو شیئر ہولڈر سمجھنا چاہیے کہ یہ جو لوگ چنے گئے ہیں یہ ہماری وجہ سے ہیں اور یہ جو نظام ہے یہ ہماری وجہ سے کھڑا ہے، آج ان کے وزیر وہاں (جی بی) جا کے کہتے ہیں میں یہاں پہ دو سو میگا واٹ بجلی دے دوں گا یہاں پہ اتنے ڈیم بنا دوں گا اور جو ملک کے اندر پہلے ہی چھالیس ہزار میگا واٹ آپ نے بجلی لگا دی ہے اس کا کیا کرنا ہے؟ ایم این اے چوہدری مبین عارف جٹ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

39,148 Aufrufe • vor 4 Monaten

جیسے کہ ہم سب کو بولا گیا تھا کہ بدھ کو بہت بڑا پلان دیا جائے گا۔۔ اور وہ پلان آپ سب کے سامنے آگیا ہے کہ پانچ اگست کو پشاور میں جلسہ کیا جائے گا اور اس میں لائحہ عمل دیا جائے گا تم کفار سے بڑے منافق ہو تم لوگوں نے بہت بات جھوٹ بولا۔۔۔۔ پہلے بھی تم لوگوں نے بہت جھوٹ بولے اور اب ایک اور چورن تم لوگ بیچ رہے ہو خان صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ تم لوگ خان صاحب کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہو۔۔۔۔ خان صاحب کی ایک آنکھ تقریباً ضائع ہوچکی ہے۔۔۔ خان صاحب کی صحت خراب ہے۔۔۔۔ خان صاحب نے ایک ایک لائحہ عمل تم لوگوں کو دیا ہوا تھا۔۔۔ تم لوگوں نے خان صاحب کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔ جب میں راجہ صاحب سے سوال کروں تو بولتے ہیں فکر نہ کریں۔۔۔۔ ہم کیوں نہ فکر کریں؟ تم لوگ چاہتے ہو خان صاحب کو کچھ ہو جائے اور تم لوگ ان کو بھٹو بنا کر ان کے نام پر ووٹ لو۔۔۔۔ خان صاحب نے تم لوگوں کو ملک گیر تحریک چلانے کا کہا تھا لیکن تم لوگ جلسہ جلسہ کر کے خان صاحب کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر سائن کر رہے ہو۔۔۔۔ بہت مشکل ہے چکیوں میں مکمل آئسولیشن میں رہنا۔۔۔ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنا سب سے ضروری ہے۔۔۔ شفیع جان نے جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا کہ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔۔۔۔ ہم نے اپ لوگوں کو خان صاحب کی رہائی کے لیے ووٹ دیا تھا۔۔۔۔ نا ہی خان صاحب آپ کو معاف کریں گے۔۔۔ نا ہی عوام آپ کو معاف کرے گی۔۔ نا ہی میرا ﷲ آپ کو معاف کرے گا۔۔۔۔ 9 مہینے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔ اخری ملاقات عظمیٰ آپا کی ہوئی تھی اس میں ان کی انکھیں بتا رہی تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو کس حالت میں دیکھا ہے۔۔۔۔ خان صاحب بہت کمزور ہوچکے ہیں۔۔۔۔ لیکن ابھی بھی وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کر رہے۔۔۔۔ وہ ڈیل نہیں کر رہے صرف اور صرف اس عوام کی خاطر۔۔۔۔ اب یہ سوچنا ہوگا کہ آپ لوگ پانچ اگست کے جلسے کے چورن کے ٹرک کے پیچھے لگتے ہیں یا اس غدار قیادت کے سامنے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔۔۔۔ شکریہ

Haider Saeed

16,049 Aufrufe • vor 2 Monaten

باجوڑ کے آپریشن کی بات ہے تو پاکستان میں خوارج نہیں ہیں عاصم لا اور خوارج ایک سکے کے دو رخ ہیں ان کو دوبارہ سے ڈالرز چاہئے ان کو پشتونوں کے خون کی ضرورت ہے ان کو منرلز کی ضرورت ہے عمران خان کی حکومت میں تیل برآمد ہوئے 15 سودے ہوئے لیکن پاکستان میں جتنا تیل نکلے گا وہ ہمارا نہیں ہوگا کیونکہ ہم غلام ہیں کیونکہ ہمارے آباواجداد ان کے غلام ہیں ہمارے چیف آف آرمی سٹاف کو یہ (امریکہ) منتخب کرتے ہیں میں تو بدقسمتی سے پاکستان میں پیدا ہوگیا اور یہ باقی ممبران بھی ایسے ہیں آپ (اپوزیشن) چاہتے ہیں کہ امن آئے تو آئیں ساتھ متفقہ قرارداد پیش کرتے ہیں اس سڑک پر نکلتے ہیں باجوڑ میں اسمبلی اجلاس کرتے ہیں جہاں وہ کرفیو لگائے ہم وہاں اجلاس کریں گے آج باجوڑ کے لوگوں کی تذلیل ہورہی ہے بچے عورتیں بزرگ سب گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں پھر پیسوں کی ضرورت ہے خون ہمیشہ پختونخوا کے لوگوں کا بہتا ہے اور پیسہ ہمیشہ پنجاب کے لوگوں کو ملا ہے شرم کی بات ہے نہ پنجاب سے انقلاب آتا ہے اور نہ وہاں ایسے لوگ ہیں جو اپنے حق کیلئے آواز اٹھائیں ہمیں اس لئے مارتے ہیں کیونکہ ہم میں غیرت ہے ہمارے پاس زبان ہے ہم حق کی بات کرتے ہیں پی ٹی آئی رکن اسمبلی طارق آریانی

Muhammad Faheem

33,841 Aufrufe • vor 1 Jahr