Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

بچے کا والد سعودیہ میں تھا اب پہنچا ہے اور اس کی گفتگو کا خلاصہ اردو میں لکھ رہا ہوں ، باقی پشتو سمجھنے والے مکمل ویڈیو دیکھیں۔ ویڈیو کا خلاصہ :- "میرے بیٹے کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ علم دین حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے...

17,069 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 görüntüleme • 5 ay önce

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 8 ay önce

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 görüntüleme • 3 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 görüntüleme • 26 gün önce

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 görüntüleme • 2 yıl önce

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,603 görüntüleme • 6 ay önce

آپ کے میسج کا شکریہ۔ ویسے تو میں اس طرح کے ٹویٹس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ معاملہ ایک بچی کا ہے اس لیے چند باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس بچی کی مکمل حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور آج بھی ہم اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اُس نے بہت خوبصورت سنایا۔ لیکن یہ ایک ایڈلٹس (Adults) سنگنگ کمپٹیشن تھا، جبکہ ہر جگہ بچوں اور بڑوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن 32 کنٹسٹنٹس کے نام فائنل ہوئے تھے 44 افراد میں سے ، اُن میں اس بچی کا نام شامل نہیں تھا، بعد میں اُسے فرمائشی موقع دیا گیا۔ اب اگر پہلے سے منتخب کنٹسٹنٹس کو سائیڈ پر رکھ کر کسی اور کو آگے لایا جاتا تو یہ باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک ان دو افراد کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں ہٹایا گیا، تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کو “ہٹایا” نہیں گیا تھا۔ بیک اینڈ پر کافی مسائل چل رہے تھے، جن میں ایک ہوسٹ کا کنیکشن مسلسل اَن اسٹیبل تھا۔ اسپیس بیچ میں ایک مرتبہ گری بھی اور دوبارہ کنیکٹ ہوئی، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو مسائل پیش آئے۔ اسی لیے صرف یہ گزارش کی گئی کہ ہوسٹنگ وہ شخص سنبھال لے جس کا نیٹ ورک زیادہ مستحکم ہو تاکہ کمپٹیشن متاثر نہ ہو۔ لیکن اس فیصلے پر بھی غیر ضروری اعتراضات کیے گئے۔ اس کے بعد جو زبان اور الفاظ استعمال کیے گئے، اگر وہ یہاں شیئر کیے جائیں تو وہ خود ایک نامناسب چیز ہوگی۔ آپ ان افراد سے حلفاً خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ بچی کو کم نمبر دے کر اگلے راؤنڈ سے باہر کر دیا جائے، جو کہ بچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، نہ اسے جان بوجھ کر کم نمبر دیے جائیں گے۔ اُسے مکمل عزت کے ساتھ ایونٹ کے آخر تک سننے کا موقع دیا گیا اور آئندہ اگر Kids Competition ہوا تو اُسے ضرور شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ابتدا سے فیصلہ یہ تھا کہ اسپیکرز پر صرف ججز اور سنگرز موجود ہوں گے اور فیصلہ بھی صرف ججز ہی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر افراد کی رائے اور فیصلے لینے کی کوشش کی گئی، جو کہ باقی سنگرز اور کنٹسٹنٹس کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی، کیونکہ جب ججز موجود تھے تو پھر باہر کے لوگوں کی رائے کو فیصلے پر اثر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ جہاں تک انعام کی بات ہے، تو پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ہم نے خصوصی طور پر اسی بچی کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا، اور ان شاء اللہ وہ اس تک پہنچایا بھی جائے گا۔ اصول صرف یہ ہے کہ ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں تک صرف وہی بات پہنچتی ہے جو کسی کے اپنے مفاد میں ہو۔ بہرحال، ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کو آئندہ اسپیسز میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ بہت شکریہ ❤️۔ اور اس بچے کی آواز بھی بہت اچھی ہے اگلے راونڈ میں اسے بھی شامل کیا جائے گا !

M.Tayyab Tarar🎖

12,700 görüntüleme • 3 ay önce

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 görüntüleme • 1 ay önce

الحمد للہ میں خیریت سے ہوں میں پاکستان آچکا ہوں میں آپ سب بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جیسے آپ سب نے مجھے سپورٹ کیا میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان سے میری ویڈیو کو لے کر سعودیہ کو رپورٹ کیا گیا کہ جیسے میں نے سعودیہ کے خلاف بات کی ہے میں انتشار پھیلا رہا ہوں، لیکن جب سعودیہ کے اداروں نے دیکھا کہ اس ویڈیو میں ایسا کچھ نہیں ہے تو انہوں نے باعزت طریقہ سے مجھے چھوڑا اور معذرت بھی کی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے سامنے بھی گواہی دونگا کہ عمران خان نے ہمیں کبھی اپنے ملک کے خلاف اپنی فوج کے خلاف کچھ کرنے کو نہیں کہا لیکن یہ میں آج بھی یہ کہوں گا کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے 9 مئی کروایا میں آپ سب کا اپنی قوم کو اپنے دوستوں کا جنہوں نے میری فیملی سے رابطہ رکھا میری ہر طرح مدد کی ان سب کا بے حد شکر گزار ہوں خاص کر ان سب کا جنہوں نے میرے لیئے دعائیں کی ۔۔۔ پاکستان زندہ باد عمران خان زندہ باد PTI PTI Karachi

MNA Faheem Khan

118,691 görüntüleme • 2 yıl önce