正在加载视频...
视频加载失败
بھارتی تاریخ دان رومیلا تھاپڑ نے اپنی کتاب سومناتھ میں لکھا ہے محمود غزنوی کو سب سے پہلے 1842 میں انگریزوں نے لٹیرا قرار دیا انہوں نے الزام لگایا اسکے مزار کے دروازے سومناتھ کے مندر سے چرائے گئے دروازے اکھاڑ کر ہندوستان لائے گئے تو پتہ چلا ان... show more
94,070 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)
10 条评论

سومناتھ کے مندر کے دروازے صندل کی لکڑی سے بنے ہوئے تھے جب یورپی ایوان میں انگریزوں نے برصغیر کے ہندوؤں کو خوش کرنا چاہا تو انھوں نے یہ ڈینگ ماری کہ محمود غزنوی کے مزار پر لگے دروازے سومناتھ کے مندر کے ہیں تو انگریزوں نے وہ دروازے وہاں سے اکھاڑ کر ہندوستان بھیجے جو وہاں پہنچنے پر ہندوؤں نے خود کہا کہ یہ وہ دروازے نہیں کیونکہ وہ دوازے جو محمود غزنوی کے مزار سے لائے گئے تھے وہ غزنی کی مقامی دیودار کی لکڑی سے بنے ہوئے تھے ۔۔۔ یوں انگریز کی چال خود ہندوؤں نے ناکام کردی اور جو انگریز اس بنیاد پر الزام لگا رہے تھے اور محمود غزنوی کو لٹیرا کہہ رہے تھے وہ بیانیہ زمین بوس ہوگیا

Live on #Solana 🌍 Buy Gift Cards, Payment Cards and Mobile Phone Top-Ups from 3000+ Brands 🛍️ Pay with #SOL and 200+ other Cryptocurrencies 🪙 No Signup. 🚫👤 Private & Secure. 🕵️ Instant Delivery ⏩

اب ذرا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیم یافتہ وزیرِ دفاع سے پوچھیں کہ وہ ہندوؤں کا خیر خواہ ہے یا انگریزوں کا، یا پھر اپنے الفاظ واپس لے ۔۔۔ کیوں کہ مسلمانوں کی کتابوں میں تو اسے فاتح لکھا گیا ہے،

انگریزوں نے تو ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے ایسی شوشہ چھوڑی اور اب خواجہ اپنے بھائیوں کو خوش کرنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑ رہے ہیں اسکو اب ریٹائرڈ ہونا چاہیے اسکا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا

انگریزی کوٹ ٹائ پہنکر محمودغزنوی کونہیں پہچانا جاسکتاکیونکہ انگریزی قانون میں مسلمان ہیروز سارےلٹیرے ہی جانے جاتے ہیں جیسے ہم انگریز قوم کو ایک مکار قوم سمجھتے ھیں جو حقیقت ھے خواجہ صاحب اگر اپنے دعوے میں خود کو سچا سمجھتے ہیں تو میزائل کا نام تبدیل کرکے لارڈ ماؤنٹ بیٹن رکھ لیں

خیرتمہیں تو احسان مند ہونا چاہیے تھا خواجہ صاحب ان بزرگوں نےجو تمہیں کلمہ پڑھایا اس کلمے کا احسان اگر وہ پانی پت نہ لڑٹے نہ جیتتے تو آپکا نام آج نتو لام رام یا رنجیش سِکھ ہوتا اور اپنے پر دادا کی طرح تم لال لُنگی پہن کر اقلیت کی لائن میں کہیں بھٹک ہورہے ہوتے۔ @KhawajaMAsif

خواجہ آصف کے باپ دادے اگر اس وقت ھندو تھے تو اس میں محمود غزنوی کی غلطی نھیں ۔ باقی جس چیز کو آپ لوٹ مار کہتے ھیں وہ مسلمان مجاھدین اور بادشاہوں کے لیے مال غنیمت تھا۔ آپ کے باپ دادا غیرت کر کے تلوار اٹھا کہ مسلمان فوج کا مقابلہ کرتے تو آج آپکو ھزار سال بعد دکھ نہ ھوتا۔

فرق یہ ہے 1842 میں انگریزوں نے لٹیرا قرار دیا اب انگریز کے پالتو کتے اور غلام اسکو لٹیرا قرار دے رہے ہیں۔

ہزار سال قبل گزرا ہوا محمود غزنوی لٹیرا, ڈھائی سو سال قبل شاہ ولی اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والا ابدالی لٹیرا, ستتر سال قبل کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑنے والے قبائلی پشتون لٹیرے, بس دنیا میں کوئی سچا ہے تو وہ احساس کمتری کی ماری پنجابی اشرافیہ یا پھر آر ایس ایس کے ہندو بنیاد پرست

اللہ تعالیٰ محمود غزنوی کی درجات بلند فرما دیں ۔ آمین ۔ آیک لمحے کے لیے مان لیا کہ محمود غزنوی لٹیرا تھا لیکن ان کے ماتحت ادارے نے مزائل کے نام ان کے نام پر کیوں رکھیں ہیں ۔ سب سے پہلے ان مزائل کے نام بدلے ۔ @KhawajaMAsif
