Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلی نتش کمار نے مسلمان لڑکی کا نقاب کھینچ کر ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ محمد علی جناح حق پر تھا اور اس کا دو قومی نظریہ ٹھیک تھا۔ مولانا عبدالکلام آزاد غلط تھا اور اس نے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی۔

12,711 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 Aufrufe • vor 29 Tagen

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج کی سب سے بڑی عالمی خبر! پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا ثبوت پورے یورپ کو مل گیا ثابت ہو گیا کہ سکھ خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا امریکی ایف بی آئی نے بھارتی دہشت گرد بشونی گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے "آپریشن ہارڈ بال" کے نام سے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں بیک وقت 50 سے زائد چھاپے مارے اور بشونی گینگ کے 24 بھارتی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا جن میں سے 11 کی گرفتاری امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہوئی یہ گروہ بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، اور بھارت و شمالی امریکہ میں سیاسی شخصیات، صنعت کاروں، اداکاروں اور موسیقاروں کے قتل میں ملوث ہے بشنوئی گینگ بھارتی حکومت کے لیے ایک "جرائم پیشہ نمائندہ" (criminal surrogate) کے طور پر کام کرتا ہے اور بھارتی حکومت کی خفیہ کارروائیاں، جیسے کہ ٹارگٹ کلنگ، معاوضے اور دیگر فوائد کے بدلے انجام دیتا ہے اس دہشت گرد گروپ میں میں ایک سینئیر بھارتی پولیس افسر کا نام بھی سامنے آیا ہے امریکی حکام نے کارروائی کے دوران اسلحہ، منشیات اور بڑی مقدار میں نقد رقم بھی برآمد کی اور اسے اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا یاد رہے پچھلے سال کینیڈا نے الزام عائد کیا تھا کہ کینیڈا میں سکھ کارکنوں کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اس گینگ کے بھارتی حکومت کے بعض اہلکاروں سے روابط تھے امریکی حکام کی جانب سے ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے مقدمے میں لارنس بشنوئی پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اس جرم میں بھارتی حکومت ملوث ہے بھارتی حکام اس میں کیسے ملوث ہیں؟ اس فردِ جرم کے مطابق قید میں موجود گینگسٹر جگگو بھگوانپوریا کی سربراہی میں کام کرنے والا تقریباً ایک ہزار ارکان پر مشتمل یہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک قتل برائے معاوضہ، اسلحہ کی اسمگلنگ اور پیچیدہ بھتہ خوری کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ یہ گروہ بھارت میں بدعنوان قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کیلیفورنیا اور اوہائیو میں مقیم افراد کے اہلِ خانہ کو نشانہ بناتا تھا اور اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروانے کے لیے مبینہ تعاون حاصل کرتا تھا اپریل 2026 میں بھگوانپوریا گروہ کے رکن گرلال سنگھ نے کیلیفورنیا میں مقیم ایک شخص کو دھمکیاں دیں اور بھارت میں ایک بدعنوان سرکاری اہلکار کو معلومات فراہم کیں تاکہ اس شخص کے خاندان کے خلاف جھوٹا قتل کا مقدمہ قائم کروایا جا سکے

Sadia Khalid

48,077 Aufrufe • vor 2 Monaten