正在加载视频...

视频加载失败

بہاولپور ایئرپورٹ پر ملکی پروازوں کا آغاز ہو گیا بہاولپور ایئرپورٹ پر نجی ایئرلائن کی پہلی ملکی پرواز کی آمد کے موقع پر افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی سے آنے والی پہلی پرواز کے ایئرپورٹ پر استقبالیہ تقریب میں ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا سمیت ضلعی...

23,670 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ پنشنرز کے لیے جدید پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنشنرز کے لئے نیا بائیو میٹرک اور چہرے کا تصدیقی نظام انسانیت کی بڑی خدمت ہے،جدید ڈیجیٹل سسٹم اور ایپ سے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے، نئے نظام سے پنشنرز کے بینکوں کے چکر ختم ہو جائیں گے. وزیراعظم نے مزید کہا کہ پنشنرز کے لیے نیا نظام بہت بڑی خدمت ہے،نئے بائیو میٹرک اور چہرے کا تصدیقی نظام انسانیت کی خدمت ہے،نادرا کی جانب سے جدید پنشن ایپ اور تصدیقی نظام مفت فراہم کیا گیا ہے،اس اقدام پر وزیر خزانہ، چیئرمین نادرا اور سیکرٹری خزانہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے نظام سے بزرگوں اور معذوروں کو آسانی ہوگی، نئے نظام سے پنشنرز کے بینکوں کے چکر ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل سسٹم اور ایپ سے لاکھوں پنشنرز مستفید ہوں گے، حکومت ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں ڈیجیٹل پاکستان کا سفر جاری ہے، اس سفر میں نادرا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے،پنشنرز کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا گیا ہے،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پنشن کے نظام میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ راست نظام کے ذریعے ادائیگی میں تیزی اور شفافیت آئی ہے ،چہرے کا تصدیقی طریقہ کار پنشنرز کادیرینہ مطالبہ تھا،تصدیقی عمل کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی ۔تقریب میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے اجراء سے متعلق راہنمائی پر مبنی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

13,439 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد: 3 اگست، 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں سرمایہ کاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ (Private Equity Fund) کے قیام کے حوالے سے لائحہ عمل جلد از جلد پیش کیا جائے. ملک میں پبلک ایکویٹی مارکیٹ اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے فروغ کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرکے جلد پیش کیا جائے، تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے فنڈز دستیاب ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار ہو۔ وزیرِ اعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے. پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ معیشت میں سرمایہ کاری، کاروباری وسعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر محرک کا کردار ادا کر سکتے ہیں. معدنیات، زراعت، لائیو اسٹاک، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور دیگر شعبے پاکستان کی معیشت کی ترقی کے بنیادی محرک بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پبلک ایکویٹی مارکیٹ ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے. بینکاری شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کا حجم ابھی بھی محدود ہے، جس کے باعث متبادل سرمایہ کاری ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے. حکومت ایسے اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے جو نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری، صنعت اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کریں. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

26,309 次观看 • 1 个月前

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 次观看 • 2 个月前

اسلام آباد: 10 اگست 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مؤثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو بھی اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ قرارداد نے اس معاہدے کو امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کو مزید تقویت دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ کابینہ نے نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس پر عملدرآمد کےلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی قومی و بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ نے تیار کی، جبکہ اس کی تیاری کے دوران وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی شراکت داروں سے بھی مشاورت کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد تمام شہریوں کے لیے پائیدار، محفوظ اور معیاری رہائش کی فراہمی ہے۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں زوننگ قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور زمین کے مؤثر استعمال کے لیے عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دی جائے۔ ساتھ ہی کابینہ نے ہدایت کی کہ انرجی ایفیشنسی کوڈز کو بھی نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نئی تعمیرات توانائی کے مؤثر اور ماحول دوست تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ کابینہ کو وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اپنے گھر کے خواہشمند درخواست گزاروں کو مختلف بینکوں کی جانب سے 220 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم بھی جاری کی جا چکی ہیں۔ کابینہ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء میں طے پانے والے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے کی منظوری دے دی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کابینہ کو پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء (PISF 2026) کا مسودہ پیش کیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ فریم ورک CERT Rules 2023ء کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد انفارمیشن سکیورٹی کے بنیادی یکساں معیارات کا ایک جامع اور متحد نظام وضع کرنا اور مرکزی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے سائبر سکیورٹی کے لیے ایک اہم راہنما دستاویز قرار دیا اور ہدایت کی کہ اس پر مقررہ مدت کے اندر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وفاقی کابینہ نے 28 جولائی کو منعقدہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی (CCoE) کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی بھی توثیق کی۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان آئل ریفایننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی توثیق کی گئی جن کے مطابق آئل ریفائنریز کی اپگریڈیشن کی جائے گی تاکہ ملکی توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ کابینہ نے 27 جولائی اور 4 اگست کو منعقدہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (CCLC) کے 24 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی.

Prime Minister's Office

29,661 次观看 • 1 个月前

آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عیدالفطر کے موقع پر کرم کا دورہ کیا اور جوانوں و افسران کے ساتھ عید منائی۔ انہوں نے نمازِ عید ادا کی اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ فیلڈ مارشل نے جوانوں کے بلند حوصلے، غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں عید کی مبارکباد دی۔ آپریشن "غضبُ الحق" میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے ان کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے سرگرم دہشتگردوں کو پاکستان کی سلامتی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ فیلڈ مارشل نے کامیابیوں کو شہداء کی عظیم قربانیوں اور افسران و جوانوں کے عزم کا نتیجہ قرار دیا، اور مسلح افواج کے پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

Hassan Ayub Khan

27,597 次观看 • 6 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 次观看 • 2 个月前