Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بہاولپور ایئرپورٹ پر ملکی پروازوں کا آغاز ہو گیا بہاولپور ایئرپورٹ پر نجی ایئرلائن کی پہلی ملکی پرواز کی آمد کے موقع پر افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی سے آنے والی پہلی پرواز کے ایئرپورٹ پر استقبالیہ تقریب میں ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا سمیت ضلعی...

23,649 просмотров • 25 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اسلام آباد: 3 اگست، 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں سرمایہ کاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ (Private Equity Fund) کے قیام کے حوالے سے لائحہ عمل جلد از جلد پیش کیا جائے. ملک میں پبلک ایکویٹی مارکیٹ اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے فروغ کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرکے جلد پیش کیا جائے، تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے فنڈز دستیاب ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار ہو۔ وزیرِ اعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے. پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ معیشت میں سرمایہ کاری، کاروباری وسعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر محرک کا کردار ادا کر سکتے ہیں. معدنیات، زراعت، لائیو اسٹاک، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور دیگر شعبے پاکستان کی معیشت کی ترقی کے بنیادی محرک بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پبلک ایکویٹی مارکیٹ ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے. بینکاری شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کا حجم ابھی بھی محدود ہے، جس کے باعث متبادل سرمایہ کاری ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے. حکومت ایسے اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے جو نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری، صنعت اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کریں. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

26,309 просмотров • 7 дней назад

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 просмотров • 19 дней назад

آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عیدالفطر کے موقع پر کرم کا دورہ کیا اور جوانوں و افسران کے ساتھ عید منائی۔ انہوں نے نمازِ عید ادا کی اور پاکستان کے استحکام و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ فیلڈ مارشل نے جوانوں کے بلند حوصلے، غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں عید کی مبارکباد دی۔ آپریشن "غضبُ الحق" میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے ان کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے سرگرم دہشتگردوں کو پاکستان کی سلامتی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس بات پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ فیلڈ مارشل نے کامیابیوں کو شہداء کی عظیم قربانیوں اور افسران و جوانوں کے عزم کا نتیجہ قرار دیا، اور مسلح افواج کے پاکستان کی خودمختاری و سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ آمد پر کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔

Hassan Ayub Khan

27,567 просмотров • 4 месяцев назад

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 просмотров • 20 дней назад

لاہور: 4 اپریل 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ریلیف کی رقم پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے حامل افراد کو ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے. ایک موثر اور شفاف نظام کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں اور ویگنوں، اور گڈز ٹرانسپورٹ کے ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کو سبسڈی کی ڈیجیٹل منتقلی شروع کر دی گئی ہے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کوشاں ہیں کہ معاشی طور پر کمزور طبقے پر ریلیف کی فراہمی جلد سے جلد ممکن ہو. مشکل وقت میں اپنی عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے. مشکل حالات میں عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے. حکومتی کفایت شعاری و سادگی کے اقدامات سے بچائی گئی رقم کو عوام پر خرچ کریں گے. اجلاس میں وزیرِ اعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر حکومت کے عوام کو ریلیف کے اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں. اجلاس کو عوامی ریلیف کے اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طلحہ برکی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

21,342 просмотров • 4 месяцев назад

گوادر سیمیناراورایگزیبیشن “گوادر جدید ساحلی شہر” 2026 کا انعقاد، وفاقی وزیر پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال سمینار کےمہمان خصوصی وفاقی وزیر احسن اقبال کا گوادر سیمینار 2026 سے خصوصی خطاب، گوادر بندرگاہ کی صنعتی اور تجارتی ترقی کو قومی ترجیح قرار دیا احسن اقبال نے اپنے خِطاب میں کہا کہ گوادر پاکستان کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے والا اسٹریٹجک راستہ بن رہا ہے پالیسی سازی، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور پائیدار ترقی کے باہمی ربط پر تفصیلی مباحثے گوادر سیمینار 2026 میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری شخصیات کی شرکت مشاہد حسین سید نے بتایا کہ گوادر پاکستان کی علاقائی تجارت، بندرگاہ معیشت اور عالمی رابطہ کاری کا اسٹریٹجک مرکز بن رہا ہے، جہاں طویل المدتی پالیسی تسلسل ناگزیر ہے ایم ڈی پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آفتاب الرحمٰن رانا کا خطاب، گوادر کے سیاحتی امکانات اور پائیدار ٹورازم پر زور چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد جمیل احمد نے بندرگاہ کے ذریعے گوادر کی برآمدی صلاحیت اجاگر کی ڈاکٹر محمد جمیل احمد کا کہنا ہے گوادر پورٹ علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے سینئر پروفیسر بحریہ یونیورسٹی ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے گوادر کے صنعتی امکانات اور اسپیشل اکنامک زونز پر اظہارِ خیال کیا ڈاکٹر حسن داؤد بٹ کے مطابق گوادر میں صنعت کاری بلوچستان کی معاشی ترقی کا محرک بن سکتی ہے نسٹ کے پرنسپل و ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا خطاب، گوادر میں سماجی جدت اور معاشی ترقی کے نئے ماڈلز پیش ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے گوادر میں مقامی کمیونٹی کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے پر زور دیا بلیو اکانومی، ماہی گیری، بندرگاہ کی ترقی اور شہری منصوبہ بندی پر خصوصی سیشنز دوران سرمایہ کاری، فشریز، شہری ترقی، بندرگاہ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق نمائش کا انعقاد نمائش میں گوادر بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے سٹالز نمایاں ماہی گیری سٹال میں پائیدار فشنگ، مقامی روزگار اور میرین وسائل کے تحفظ پر بریفنگ سیاحت اور ثقافت کے سٹالز میں گوادر کی تاریخی وراثت، ثقافتی شناخت اور معاشی امکانات اجاگر حکومت، سرمایہ کاروں، جامعات اور مقامی آبادی کو یکجا کرنے والا قومی پلیٹ فارم قرار دیا گیا گوادر سیمینار 2026، بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا

Architect Jalal Sherazi

15,729 просмотров • 6 месяцев назад

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان اورچین کی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چینی کمپنیوں کے مابین فارما سیوٹیکلز کے شعبے میں 44کروڑ ڈالرسے زائد مالیت کے 9معاہدوں کا خیرمقد م کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے مابین اشتراک سے پاکستان میں فارما سیوٹیکلز کے شعبوں کو ترقی ملے گی، چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست اور اس کی معاشی و تزویراتی ترقی دنیا کےلئے ایک مثال ہے،چینی شہریوں کی سلامتی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ پاکستان میں چین کے سفیر اور ملکی و چینی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے کانفرنس کے انعقاد اور اس میں چینی و پاکستانی سرمایہ کاروں کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فارماسیوٹیکلز کمپنیوں کے مابین 44کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے علاوہ وفاقی وزیر صحت ، معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار، پاکستان میں چین کے سفیر اور چین میں پاکستان کے سفیر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے عملی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرمشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، چین نے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی حمایت کی ، سی پیک ون کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ۔ وزیراعظم نے چین کی غیرمتزلزل حمایت پر چینی قیادت کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ وژنری لیڈر ہیں جنہوں نے چینی معاشرے اورمعیشت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ انہوں نے چینی ترقی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی ترقی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ وزیراعظم نے چینی عوام کی تعلیم ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ سمیت ہر شعبے میں بے مثال محنت اور کارکردگی کو بھی سراہا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز کی ترقی اور سرمایہ کاری کےلئے آج بڑا موقع ہے ، دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین مینوفیکچرنگ ، ویکسین کی تیاری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک سے فارماسیوٹیکلز کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی ۔ وزیراعظم نے خطے میں حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا بھرکےلئے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں ، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا جس کےلئے چین سمیت دوست و برادر ممالک نے بھرپور تعاون کیا ، صدر شی جن پنگ نے بہت خلوص سے ان کوششوں کی بھرپورحمایت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے ہونے ہونے والی’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ میں پاکستان ثالث ہے ۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی رہنمائوں سے رابطے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے 300وفود کی فارماسیوٹیکلز کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی ہمارے لئے سب سے اہم ہے، اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا، چینی شہری ہمارے مہمان ہیں، ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔ کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچائو سے متعلق معاہدے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔

Prime Minister's Office

16,363 просмотров • 24 дней назад