Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بہترین پیغام۔۔۔۔۔ برف باری میں گاڑی کے شیشے کو تھوڑا سا نیچے رکھیں نیکی سمجھ کر اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کیا پتہ آپ کی وجہ سے کسی کی زندگی بچ جائے برف باری میں شیشہ اوپر کرنے سے carbon monoxide جمع ہو جاتی ہے جس...

62,305 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟ بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:- اگر آپ خود کو گاڑی میں پانی کے اندر پاتے ہیں تو گھبرائیں نہیں۔ 1۔ دروازے کو دھکیلنے کی کوشش میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔ 2۔ کھڑکی مت کھولیں، گاڑی میں داخل ہونے والا پانی آپ کو باہر نہیں نکلنے دے گا۔ اور اگر اندر داخل ہو گیا تو گاڑی مکمل پانی میں ڈوب جائے گی۔ شیشے اور دروازے بند رہنے دیں۔ 3۔ سر کے پیچھے والے ہیڈ ریسٹ کو کھینچ کر اوپر کی سمت نکالیں۔ 4۔ اس کی اسٹیل کی تیز نوک کا استعمال کریں اور پچھلی کھڑکی کے شیشے کو توڑ دیں جو ڈگی کے اوپر لگا ہوتا ہے۔ ▶️ انجنیئرنگ اور ڈیزائن کے لحاظ سے کار پانی میں تیرتی ہے اور پچھلی کھڑکی ہمیشہ باہر نکلنے کی سمت ہو گی۔ جیسا کہ تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہ آپ کی جان بچا سکتا ہے۔ انجن بھاری ہوتا ہے اس لئے وہ حصہ پانی میں ڈوب جائے گا مگر ٹائروں کی ہوا کے باعث تیہہ تک نہیں جائے گا۔ پچھلے ٹائروں کی وجہ سے پچھلا حصہ تیرتا رہے گا اور پانی سے باہر رہے گا۔ گاڑی ڈوبے گی تب جب پانی اس کے اندر جا کر اسے بھاری کر دے گا۔ اپنے حواس ٹھیک رکھیں۔ پینک مت ہوں۔ دماغ اور سائنس کا استعمال کریں۔ تیرنا نہیں آتا تو بھی کوئی بات نہیں۔ پچھلی سیٹ میں سالڈ فوم ہوتا ہے وہ فلوٹ کر سکتی ہے۔ اسے آرام سے نکالیں اور پچھلے شیشے سے باہر نکال کر کچھ سواریوں کو اسے پکڑ کر پانی پر تیرنے دیں اس کے اوپر نہ چڑھیں بلکہ سائیڈوں پکڑ کر تیریں۔ کوئی چھوٹا بچہ البتہ بٹھا دیں اور اسے پکڑ کر رکھیں۔ کشتی کی طرح ہاتھوں سے پانی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کنارے کی سمت بڑھیں۔ دوسرا سپیئر وہیل یا سٹپنی نکال کر اس کی مدد سے بھی تیرا جا سکتا ہے۔ پچھلی سیٹ کی بیک بھی آرام سے اتر سکتی ہے اسے بھی تیرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زندگی بچانے کے لئے اعصاب اور ڈر پر قابو پانے سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ اپنی گاڑی میں لگی اور پڑی ہر چیز پر ریسرچ کیا کریں۔ یہ ریسرچ آپ کی جان بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انجن کی جانب سے اگر پانی اندر آنا شروع ہو تو فوری طور پر نکلنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں گاڑی بنانے والے نے ہر سوراخ سیل کیا ہوتا ہے۔ ہمارے مکینک ان کو کھول دیتے ہیں لاپرواہی سے۔ جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔ احتیاط کریں۔ چیک کرتے رہا کریں اپنی گاڑی کو۔ اللہ پاک آپ اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں۔

Pakistan Tourism

83,244 Aufrufe • vor 1 Jahr

بگلیہار اور سلال کا پانی روک دیا گیا ہے، اس کے جواب میں ہمیں ابدالی مزائل چلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ بگلیہار ڈیم سے 475 ملین کیوبک میٹر پانی آتا ہے، اس کو جمع کرنے کے لیے عام دنوں میں 11 سے 12 گھنٹوں سے زیادہ پانی نہیں روک سکتے کیونکہ پانی رواں ہوگا تو بجلی آئے گی، انہوں نے یہ ڈرامہ کیا کہ ریزروائر کی گہرائی زیادہ سے زیادہ کرو، اور انہوں نے بگلیہار کے ذخیرے کی ڈی سیلٹنگ شروع کر دی، یہ جو پانی روک رہے ہیں اگر یہ ذخیرہ پورا بھر جائے تو آپ اس کو زیادہ سے زیادہ 4 سے 5 روز تک رکھ سکتے ہیں، سلال ڈیم کی بھی ڈی سیلٹنگ کر کے آپ اسے بھی زیادہ سے زیادہ 2 دن تک روک سکتے ہیں، اس کے بعد یہ پانی ابلنا شروع ہو جائے گا پھر اس کی وجہ سے ارد گرد سیلاب آ جائے گا، وہاں حکومت ذمہ داری لے رہی ہے کہ یہ صورتحال سیلاب کی طرف لے جائے گی، سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو #PublicNews #NewsUpdates #PublicProgram #KhabbarNashar Adnan Haider (عدنان حیدر) अदनान हैदर Nusrat Javeed

Public News

63,067 Aufrufe • vor 1 Jahr

جب کوئی سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر سکے اور چال میں لچک بھی ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے پہلی ڈسپریکسیا (Dyspraxia) ہے ​یہ اعصابی مسئلہ ہے جو عضلاتی کوآرڈینیشن کو متاثر کرتا ہے۔ ڈسپریکسیا کا شکار افراد کے چلنے کا انداز دیکھنے والوں کو عجیب، غیر متوازن، یا بہت زیادہ لچکدار لگ سکتا ہے کیونکہ ان کا دماغ جسم کے توازن کو صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا۔ سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر پانا اور ہاتھ پیر کا بروقت نہ ہلنا ڈسپریکسیا کی سب سے کلاسک علامت ہے۔ ​اس کی دوسری وجہ Klinefelter Syndrome - XXY ہو سکتی ہے مردوں میں عام طور پر XY کروموسوم ہوتے ہیں، اس جینیاتی کیفیت میں ایک اضافی X کروموسوم (XXY) آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے مسلز کی طاقت کم ہوتی ہے جس سے جسم کی بناوٹ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ تھوڑا نزاکت مائل ہو سکتا ہے، اور موٹر سکلز (چیزوں کو پکڑنا، توازن برقرار رکھنا) کمزور ہو جاتی ہیں۔ ​اس کی تیسری وجہ (Visual Processing Disorder) ہو سکتی ہے ​اس میں بال تو نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن دماغ کا وہ حصہ جو اس منظر کو دیکھ کر جسم کو حرکت دینے کا حکم دیتا ہے وہ سست ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ فاصلے کا درست حساب نہیں لگا پاتا۔ چوتھی وجہ ہائپوٹونیا یعنی "مسلز کا ڈھیلا پن" ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی کے پٹھے پیدائشی یا اعصابی طور پر زیادہ لچکدار اور نرم ہوں، تو اس کے جوڑ مستحکم نہیں ہوتے۔ ایسے افراد جب چلتے ہیں تو ان کی چال میں ایک خاص قسم کا لچکدار پن یا لہر ہوتی ہے اور ان کے reflexes بھی بہت سست ہوتے ہیں۔

Shafqat Ch

124,969 Aufrufe • vor 3 Monaten