Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بے اختیار پمز ہسپتال اسلام آباد پہنچا۔ ۱۵ نومولود معصوم پھولوں کی شہادت پر اللہ تعالیٰ سے اجتماعی معافی و مغفرت کا طالب ہوں۔ الفاط ادا نہیں ہوتے۔ وہ نظام جو عام انسانوں کو بھیڑ بکری بھی نہیں سمجھتا، جہاں عوام ناانصافی اور غربت تلے پسے ہیں، نہ آواز...

114,078 просмотров • 25 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 28

Фото профиля RazgulkhanPTI
RazgulkhanPTI25 дней назад

*یہ فارم 47 سے آئے لوگ ہیں، یہ ناجائز طریقے سے آئے، نااہل لوگ ہیں، ہمارے 14 بچے مر گئے* *ایک شہری کا مصطفٰی کمال کے سامنے احتجاج وہ کانفرنس چھوڑ کر بھاگ گیا*

Фото профиля Sumaira Atif
Sumaira Atif25 дней назад

یہ عمران خان کی حکومت میں ہوا ہوتا تو ابھی تک سارا میڈیا اور اینکرز سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے جب اپنی موجودہ کرپشن والی حکومت میں ہوا ہے تو والدین کو میڈیا سے بات کرنے سے ہی روک دیا ہے

Фото профиля Khan ⁱᴾⁱᵃⁿ
Khan ⁱᴾⁱᵃⁿ25 дней назад

جرنل کرنل اور اسکے حواریوں کی خیر ہو ۔ باقی قوم پوری غرق ہو جائے کوئی پرواہ نہیں ۔ بھیڑ بکری قوم کی اصلیت یہی ہے

Фото профиля Kippsam Malik
Kippsam Malik25 дней назад

کتے دا پُتر اس سانحہ پر بھی سیاست کر رہا ہے چوتیا

Фото профиля Ali
Ali25 дней назад

پاکستان میں فائر سیفٹی کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ورنہ اگر ٹرینڈ سٹاف ہو دو 5 منٹ کے اندر اس طرح کی آگ پہ قابو پایا جا سکتا یے۔ پٹرول پمپ پہ آگ لگ جائے بجھا دی جاتی ہے کیونکہ fire extinguishers قریب پڑا ہوتا ہے۔ پمز میں مجھے نہیں لگتا کوئی فائر وارڈن بھی اس دن ڈیوٹی کہ موجود ہو

Фото профиля Iram Zahra
Iram Zahra25 дней назад

اور یہ جعلی حکومت اسی ہسپتال میں سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کا علاج کرا رہی ہے۔

Фото профиля @WaqasInFocus
@WaqasInFocus25 дней назад

پاکستانیو! بچے پیدا نہ کرو۔ یہ اسپتالوں میں مر جائیں گے، یا گٹروں میں بہہ جائیں گے، یا اندھی ہوس کا نشانہ بن جائیں گے، یا کسی امیر زادے کی گاڑی تلے کچلے جائیں گے۔ یا بے روزگاری سے تنگ خود کشی کر لیں گے۔یا کسی احتجاج میں گولیوں سے بھون دئے جائیں گے۔ اس جہنم میں بچے پیدا نہ کرو

Фото профиля Dr. Daniyal Mushtaq💙
Dr. Daniyal Mushtaq💙25 дней назад

اکتوبر 2023 سے پمز اور پولی کلینک کا انتظام تین سال کے لیے پاک فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ ڈیپوٹیشن پر حاضر سروس فوجی افسران تعینات کئے گئے تھے

Фото профиля Alif🍉
Alif🍉25 дней назад

اجتماعی توبہ اور مغفرت کے لیے کوئی قدم کوئی عمل؟ گھروں کی چھتوں پر،گھروں کے باہر محلے کے چوکوں پر مسجدوں کے باہر کہیں بھی کہہ دیں کہ فلاں وقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت و توبہ کریں اور اس نیشنل سانحہ پر افسوس اور سوال اٹھائیں سلمان صاحب پہلا قدم اٹھائیں اس سے قبل کے بہت دیر ھو جائے عوام کو بے حسی سے بھی نکالنا ھے اور " ھم" میں ڈھالنا ھے

Фото профиля Hamid Sarfraz
Hamid Sarfraz25 дней назад

شکریہ! آپ کا سیاسی بیان ہو گیا۔

Фото профиля mirza🌐
mirza🌐25 дней назад

آپ لوگوں کو عمران خان کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔۔عوامی مسائل کا آپکو کچھ ادراک نہیں۔۔عوام کی تکالیف کے لئے لڑتے تو عوام بھی آپکے ساتھ چلتے۔۔ جرآت کریں۔۔15 بچونکے قتل کا مقدمہ درج کرائیں متعلقہ لوگوں کے خلاف۔درخواست دیں عدالت میں انکوائری کی۔۔

Фото профиля Adv Sarmad Munib
Adv Sarmad Munib25 дней назад

Enough is enough Wake up Pakistan تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو! ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے؟ حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے۔ تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

Фото профиля جمہوریت پسند
جمہوریت پسند25 дней назад

تم کوئ حادثہ ہو جائے بہن پیش کرنے آجاتے ہو لعنت تم بیغیرتوں کی سیاست پر

Фото профиля Sumiya Naeem
Sumiya Naeem25 дней назад

اس سانحہ کے تمام زمہ داران کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے مگر آپ جیسے گھٹیا انسان کو بھی شرم سے ڈوب مرنا چاہئے جو اس سانحہ پہ بھی سیاست کر رہا ہے

Фото профиля Survivor
Survivor25 дней назад

کتے ذلیل آدمی، تم ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی پارٹی کے سیکرٹری ہو۔ تمہیں یہاں پر دعا اور استغفار نہیں کرنا، احتجاج کی کال دینی چاہیے لیکن نہیں چونکہ تم پنڈی کے کتے ہو، اوپر سے ہو بھی وکیل تو تم یہ الفاظ سے مزمت کرو گے۔ بے شرم بکاؤ ٹاؤٹ

Фото профиля arshad munir khan
arshad munir khan25 дней назад

آپ نے ہمز ہسپتال وزٹ کر کے خان صاحب کی احسن طریقے سے نمائندگی کی ہے

Фото профиля Saeed Lodhi
Saeed Lodhi25 дней назад

15 بچوں کا زندہ جل جانا حادثہ نہیں ملک پر عذاب ہے موجودہ حکمران بھی فرعون ہیں ماضی کا فرعون جو بچوں کو زندہ قتل کردیتا تھا۔ ھمیں اب عوامی ایشوز پر بھی کھل کربات کرنی چاہئے۔اس سے عوامی ہمدردیاں میسر ھونگی۔

Фото профиля Sher Ali J Khan
Sher Ali J Khan25 дней назад

You are quite disgusting.

Фото профиля Ainy
Ainy25 дней назад

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Фото профиля Hakeem
Hakeem25 дней назад

بچوں کی لاشوں پہ سیاست کرنے کا موقع ہاتھ سے نا جائے

Фото профиля Hakeem
Hakeem25 дней назад

بے اختیار تو والدین بھی پہنچے ہوئے ہیں آپ کے پہنچنے سے صرف بے اختیاروں کے رش میں اضافہ ہوا ہے

Фото профиля الطاف بلوچ
الطاف بلوچ25 дней назад

یہ اپنے نمبر بڑھانے پہنچ گیا

Фото профиля Malik
Malik25 дней назад

Another reason Khan deserves better hospital

Фото профиля AaimaMalik
AaimaMalik25 дней назад

لعنت ہو تم پر

Фото профиля Candid 🇵🇰
Candid 🇵🇰25 дней назад

Opportunist GIDH shikar nochnay pohanch gaye

Фото профиля Rizwan Rasheed
Rizwan Rasheed25 дней назад

ظلم کے خلاف آواز آواز اٹھاتے رہیں

Фото профиля The Tech Talker
The Tech Talker24 дней назад

ریاست اور نظام مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ محسن نقوی بجا کہتے ہیں؛ اب اس کی اصلاح ممکن نہیں۔ جب تک فوجی جرنیل حکومتی انتظام، سیاست اور عدلیہ کو تباہ کرتے رہیں گے، تب تک کوئی امید باقی نہیں۔ کیونکہ 'فارم 47' والے رہنما جانتے ہیں کہ عوام نہیں بلکہ 'بوٹ چاٹنا' ہی اہم ہے۔

Фото профиля Zahid khan kakar
Zahid khan kakar25 дней назад

اس طرح کا واقعہ تو پاکستان کی تاریخ کیا دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی سامنے اتا نہیں دیکھا گیا یہ بہت شرمندگی والا واقعہ ہے جس میں نومولود بچے جھلس گئے کون ان ماؤں کو حوصلہ دے گا جن کی گود اجڑ گئی کون ان لوگوں کو تسلی دے گا اور کون ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گا

Похожие видео

✨محترم میاں محمد نواز شریف - ایک نظریہ، ایک روشنی، حب الوطنی اور استقامت کا استعارہ✨ پاکستان کی خدمت کی جو مثال محترم میاں محمد نواز شریف Nawaz Sharif نے قائم کی، وہ محض سیاست نہیں، ایک سبق ہے۔ ان کا وقار اور بردباری ایک مثال ہے۔ بشر کامل نہیں ہوتا، لیکن محترم نواز شریف اُن شخصیات میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ عزت دی، سراہا، اور سراپا خلوص پایا۔ جب بھی محترم نواز شریف کی آواز کانوں سے نہیں، دل سے گزرتی ہے … تو دل بھر آتا ہے۔ ہمارے اور اُن کے زخم ایک جیسے تو نہیں، لیکن اُن کے درد میں کچھ ایسا ہے، جو ہمیں ہمارے اپنے دکھ یاد دلا دیتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں، ہم وہ محسوس کرتے ہیں۔ گویا اُن کے الفاظ اور ہماری آپ بیتی … کسی آئینے کی دو جھلکیاں ہوں - الگ الگ، پھر بھی ایک جیسی۔ جس بے انصافی، تعصب اور سیاسی انتقام کا وہ اور ان کا خاندان نشانہ بنے، وہ ایک ایسی تاریخ ہے جو معافی کی نہیں، شرمندگی کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ بیگم شمیم اختر اور بیگم کلثوم نواز کی لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین 🤲 لیکن سن لو ہر وہ آواز جو ان کے خلاف بولی: اگر فیصلے انسانوں کے اختیار میں ہوتے، تو نہ وہ ہوتے، نہ ہم✌️ فیصلہ صرف اللہ رب العزت کا ہے، جو أَحْكَمُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ہیں - سب سے بڑا منصف 🕋❤️ محترم میاں محمد نواز شریف ان چند گنے چنے رہنماؤں میں سے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہمارے مادر وطن پاکستان کو تعمیر کیا، بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن بھی رکھا۔ اُن کی قیادت اور اُن کی خدمت کی مثال تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہے۔ محترم نواز شریف ایک نام نہیں، ایک مثال ہے - ایسا نظریہ جو ہر دور کی دھول میں بھی چمکتا رہا۔ قوموں کو صرف خواب دکھانے والے نہیں، بلکہ اُن خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے والے رہنما یاد رہتے ہیں … اور محترم نواز شریف انہی میں سے ہیں۔ سچ یہ ہے، اور رہے گا: محترم نواز شریف صرف ایک ہیں، اور اُن جیسا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا … چاہے وہ کوئی بھی ہو! حالات کچھ بھی ہوں، وقت جیسا بھی ہو … یہ وہ حقیقت ہے جو انکار سے نہیں مٹتی، بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اور نمایاں ہوتی ہے۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے۔ اور جو حق ہوتا ہے، وہ عارضی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر فنا نہیں ہوتا! #NawazSharif #PMLN 💫👸🏻✨

Ayyan

13,468 просмотров • 1 год назад

آج دنیا میں جو معرکہ برپا ہے، وہ صرف زمینوں کا، وسائل کا یا سیاست کا معرکہ نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے دو نظاموں کا ٹکراؤ ہے۔ مغرب اور استعماری طاقتیں اُس نظام سے خوفزدہ ہیں جو ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے، جو مظلوم کی حمایت کرے، اور جو سامراجی بالادستی کو چیلنج کرے۔ درحقیقت مغرب کو مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام سے نہیں، بلکہ اس نظامِ ولایت فقیہ سے ہے، جو پوری امتِ مسلمہ کو ایک محور پر جوڑنے اور ظلم کے خلاف قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں جو صبر، استقلال اور شہادت کا کلچر پیش کیا، وہ تاریخ میں ایک بے مثال باب ہے۔ وہ عظیم جنرلز، جو عام گھروں میں رہتے تھے، عام سواریوں پر سفر کرتے تھے، اور شہادت کو اپنی معراج سمجھتے تھے، وہ صرف ایران کے نہیں، امتِ مسلمہ کے فخر تھے۔ آج بھی یہ جنگ ایک عظیم رہبر، مردِ مجاہد اور فقیہِ زمان کی قیادت میں لڑی جا رہی ہے۔ یہ محض سیاسی کشمکش نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی معرکہ ہے۔ پاور پالیٹکس ہمیشہ طبقاتی نظام اور استحصالی ڈھانچے کو جنم دیتی ہے، مگر وہ نظام جو مساوات، عدل اور مظلوم کی حمایت کا علَم بلند کرے، وہ ہمیشہ طاغوت کی آنکھ میں کانٹا بنتا ہے۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس کیمپ میں ہیں؟ کیا ہم ظلم اور باطل کی صف میں کھڑے ہیں یا حق، مظلوم اور مزاحمت کے ساتھ؟ شہادت ہمارے لیے شکست نہیں، بلکہ عزت اور بقا کی علامت ہے۔ مایوسی ہمارے لغت میں نہیں۔ ہم اپنے مظلوم فلسطینی، لبنانی، یمنی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ اور اس الٰہی نظام کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ (اسلام آباد جامع امام صادق میں ولایت کانفرنس سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

41,517 просмотров • 1 год назад

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 просмотров • 7 месяцев назад