Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

تہلکہ خیز !!!🚨🚨 ⛔⛔ نورین نیازی کی بھارتی میڈیا پر دی گئی دھمکیاں محض دھمکیاں ہی نہیں ایک منظم سازش کی پہلی قسط تھی ⛔⛔ ⛔ نومبر کی 28 تاریخ کو نورین نیازی نے بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی، وہ کسی جذباتی...

31,787 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

یہ موصوف کامران علی شاہ ہیں، دادو کے رہائشی ہیں اور اکثر جامشورو، میں پائے جاتے ہیں ، پیشے سے واٹر فلٹر پلانٹ چلاتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کھلے عام پاکستان مخالف نعرے،پاکستان کو مردہ باد کہتے ہیں گالیاں دیتے ہیں کھلے عام ویڈیوز بناتے ہیں ۔ یہ بات انتہائی لمحہ فکریہ اور تشویشناک ہے کہ ایسے عناصر راء ایجنٹ ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کیے ہوئے ہیں اور کھلے عام ملک دشمنی کا پرچار کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کے خلاف کوئی حتمی اور سخت کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ ادارے ایسے عناصر پر قابو پانے اور ملک میں لسانی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں سستی کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟ جو ادارے کراچی میں عام شہریوں اور معمولی خلاف ورزیوں پر فوری حرکت میں آتے ہیں، وہ ملک کی سالمیت پر حملے کرنے والے اور کھلے عام مہاجروں کو دھمکیاں دینے والے عناصر کے سامنے بے بس کیوں نظر آ رہے ہیں؟ کیا جامشورو اور دادو جیسے علاقوں میں قانون کی نہیں بلکہ ملک دشمن عناصر را ایجنٹس کی حکمرانی ہے؟ اگر سیکیورٹی ادارے ایسے افراد کو ان کے سوشل میڈیا پر بنائی گئی پاکستان مخالف ویڈیوز کی شہادتوں کے باوجود گرفتار نہیں کر سکتے تو شہریوں کی حفاظت کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟ کیا پاکستان کے خلاف نعرے بازی لسانی تعصب پھیلانا اور شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا اب قانون کی نظر میں کوئی قابلِ گرفت جرم نہیں رہا؟ یا پھر ان جیسے دہشتگرد راء ایجنٹس کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں—بالخصوص سندھ پولیس، رینجرز اور ایف آئی اے—کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

14,081 Aufrufe • vor 1 Monat

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,645 Aufrufe • vor 3 Jahren

یہ میرا پہلا پروگرام ہے پی ٹی بی پر جو 2007 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔۔ اج سے تقریبا 19 سال پہلے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں جاری تھیں اور جنرل مشرف کا دور تھا۔ اس پروگرام میں اپ کو اشارہ مل جائے گا کہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ امریکی جنرل مشرف سے ناراض ہیں اور اب جنرل مشرف کو ہٹانے کی سازش کی جائے گی۔ یہ وہ دور تھا جب کوئی خواب میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ جنرل مشرف کو ہٹایا جائے گا ‌۔ چند ہفتوں مہینوں کے بعد ہی ان کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ اس وقت بھی امریکیوں نے کوشش کی تھی کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے اور امریکی فوج کا نقصان کم ہو اور پاکستانی فوج استعمال ہو عراقی مزاحمت کے خلاف۔۔ یہی کھیل امریکیوں نے 2015 میں کھیلنے کی کوشش کی جب سعودی عرب کے ذریعے پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔‌ وہاں بھی ہم نے رکاوٹ ڈالی ‌ اور اب یہ تیسری کوشش کی گئی کہ جب پاکستانی فوج کو ٹرمپ معاہدے کے ذریعے فلسطین بھیج کر غزہ کے مجاہدین کے خلاف استعمال کیا جائے۔‌ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سازش بھی امریکیوں کی ناکام ہوئی۔. پچھلے 18 برس میں اللہ نے ہمارا کوئی تجزیہ غلط ثابت نہیں کیا الحمدللہ۔۔ لوگوں کو دیر سے سمجھ اتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

26,846 Aufrufe • vor 1 Jahr

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس پاک فوج پر الزام لگایا ہے جو پاسبانِ حرم ہے،جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی عزت و غیرت کی محافظ ہے۔یہ وہ فوج ہے جس نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا،اور ان کو دھول چٹا دی، اور دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔یہ وہ فوج ہے جس کے سینوں میں کلمہ طیبہ کی حرارت ہے، جو پانچ وقت اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتی ہے،اور جس کا مقصد اسلام کی سربلندی اور وطنِ عزیز کا دفاع ہے۔مساجد کی حفاظت کے لیے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔سوات، لوئر دیر، بونیر، باجوڑ، مہمند، اورکزئی، وزیرستان، خیبر اور کرم میں جو امن قائم ہے،وہ کسی سیاسی نعرے کا ثمر نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل ہوا ہے۔یہ وہی بہادر بیٹے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں اپنی جانیں قربان کر کے پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا۔ایسی مجاہد فوج پر الزام لگانا نہ صرف قوم کی توہین بلکہ شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

47,667 Aufrufe • vor 11 Monaten

ہمیں ان کی کسی بات پر یقین نہیں ہے ۔۔ پی ٹی آئی کو بھی اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کارکن اپنی مدد آپ کے تحت دھرنے میں بیٹھے ہیں اور ہر مرتبہ انہیں بلایا جاتا ہے پھر ایک کال پر واپس بھیج دیا جاتا ہے جماعت کو چاہیے کہ عوام کے سامنے واضح اور مؤثر لائحہ عمل پیش کرے کیونکہ عوام کو مسلسل بے خبر رکھ کر معاملات نہیں چل سکتے یہ کارکنوں کی آواز ہے اور کارکن جب چاہیں اور جیسے چاہیں بیٹھ سکتے ہیں انہیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں وہ نظریے کے لیے نکلے ہیں اور جب تک اپنے مقصد تک نہ پہنچیں وہ ڈٹے رہیں گے ان لوگوں نے حد سے تجاوز کیا ہے عمران خان کی آنکھ پر حملہ کر کے انہوں نے اپنی جسارت کا اظہار کیا اور عوام کو للکارا جس کے نتیجے میں عوام خود میدان میں آئی ہے اور اب بظاہر یہ صورتحال ان کے قابو میں نہیں رہے گی جن افراد نے ڈان اخبار میں جعلی خبر شائع کی اس کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان اس خبر کو دیکھیں کیونکہ انہیں یہی اخبار فراہم کیا جاتا ہے محض سوشل میڈیا پر معذرت کر لینا کافی نہیں کیونکہ یہ خبر دانستہ طور پر شائع کی گئی تھی۔۔ نورین خان نیازی سے آج کے انٹرویو میں گفتگو

Agha Sheikh Sarwar

19,048 Aufrufe • vor 7 Monaten

آج سے ٹھیک 44 سال پہلے، فروری 1982 میں، اسرائیل کے ایک عبرانی جریدے "کیوونیم" میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ لکھنے والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا ایک سابق سینیئر اہلکار اور سٹریٹجک تجزیہ کار تھا۔ اس کا نام تھا اووڈ نیون (Oded Yinon)۔ اس مقالے کا عنوان تھا: "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمتِ عملی"۔ دنیا آج اسے "ینون پلان" کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے کا لبِ لباب صرف ایک تھا: "اگر اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کرنی ہے، تو اسے اپنے اردگرد موجود تمام عرب ممالک کو نسلی، لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہو گا تاکہ 'گریٹر اسرائیل' کا خواب پورا ہو سکے" ۔اووڈ نیون کا استدلال بڑا سادہ لیکن ہولناک تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس نے "سائکس-پیکو معاہدے" کے تحت جو عرب دنیا بنائی، وہ ریت کی دیوار ہے۔ یہ ممالک اندر سے کھوکھلے ہیں کیونکہ ان میں مختلف مسالک، نسلیں اور قومیتیں زبردستی ایک سرحد کے اندر بند کر دی گئی ہیں۔ نیون نے لکھا کہ اسرائیل کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان اندرونی دراڑوں کو اتنی ہوا دے کہ یہ ممالک خود اپنے ہی اندرونی خلفشار سے تباہ ہو جائیں۔اس نے باقاعدہ ایک ایک ملک کا نام لے کر خاکہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ عراق اسرائیل کے لیے سب سے بڑا فوجی خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تین ٹکڑے کر دیے جائیں: شمال میں کُردوں کی الگ ریاست، وسط میں سنیوں کا علاقہ، اور جنوب میں شیعہ ریاست۔ اس نے لکھا کہ شام کو اس کی علوی، دروز اور سنی آبادی کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس نے لبنان کے بکھراؤ کی بات کی اور مصر کی معیشت کو اس حد تک توڑنے کی تجویز دی کہ وہ کبھی جزیرہ نما سینا پر اپنا حق نہ جتا سکے۔ آج 2026 میں، اگر ہم مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر نظر ڈالیں، تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اووڈ نیون نے 1982 میں جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا، وہ آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر ناچ رہا ہے۔ صدام حسین کا وہ طاقتور عراق کہاں گیا؟ آج وہ عملی طور پر تین حصوں میں بٹ چکا ہے۔ شام کا کیا حشر ہوا؟ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری خانہ جنگی نے شام کو کھنڈر بنا دیا اور وہاں مختلف نسلی گروہ اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیبیا، یمن اور لبنان کی صورتحال دیکھ لیں۔ کیا یہ سب کچھ اتفاقیہ ہے؟ جی نہیں! یہ اسی ینون پلان کی حرف بہ حرف تعمیل ہے جس پر مغربی طاقتوں اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ انہوں نے کبھی اپنے دشمن کی سوچ کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ جب اسرائیل کے معروف دانشور اسرائیل شاہاک نے اس منصوبے کا انگریزی ترجمہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا، تو عرب حکمرانوں نے اسے محض ایک "خیالی پلاؤ" کہہ کر مسترد کر دیا آج عرب دنیا کی آپسی نااتفاقی اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اپنی سٹریٹجی میں کامیاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا کر، شیعہ سنی کی خلیج کو وسیع کر کے، اور نسلی تعصبات کو ابھار کر پورا خطہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اسرائیل کی سٹریٹجی کو ناکام کرنے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے لیے کانٹا ہے

حِجاب رندھاوا H.R

36,140 Aufrufe • vor 14 Tagen