正在加载视频...

视频加载失败

تین خوبیوں والا باغ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ : وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ . تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند...

11,414 次观看 • 17 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

سات ستمبر کا دن اس فتح کا دن ہے،جب ختمِ نبوت کے قلعے کو توڑنے کے لیے ایک سامراجی ایجنٹ نے جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھا، اور عوامی تحریک اور ہمارے اکابر کے پارلیمانی کردار نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ قادیانی ہو یا لاہوری گروپ، جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، یہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور اب پاکستان میں ان کو غیر مسلموں کی فہرست میں درج کیا جائے گا۔ یہ معمولی معرکہ نہیں تھا۔ اس معرکے میں ہمارے بزرگوں نے جس ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ان کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تمہارے مدعیِ نبوت پر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ کی نظر میں وہ کافر ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کافر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زندہ ہوتے، اور وہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لاتے تو کیا وہ بھی کافر ہوتے؟ تو اس نے کہا: ہاں، وہ بھی کافر ہوتے۔ پروپیگنڈا تو کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، اور کوئی نہیں پوچھتا ان سے کہ تم ابو بکر صدیق سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آج کے امتی تک کو بھی کافر کہتے ہو۔ پوری امتِ مسلمہ کو کافر کہنا یہ مغرب کی نظر میں جرم نہیں ہے، لیکن اس ایک چھوٹے سے طائفے اور گمراہ طائفے کو کافر قرار دینا، جیسے بہت بڑا کوئی حادثہ ہوگیا۔ جب سات ستمبر دو ہزار چوبیس کو سات ستمبر انیس سو چوہتر کے فیصلے کی گولڈن جوبلی منائی گئی اور مینارِ پاکستان پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا، پوری تاریخ کے تمام اجتماعات کے ریکارڈ توڑ دیے، اس نے ایک بار پچاس سال کے بعد ثابت کر دیا کہ آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے پشت پر کھڑی ہے۔ لہٰذا تم کچھ بھی کر لو، امریکہ کی پشت پناہی لے لو، یورپ کی پشت پناہی لے لو، اور کم بخت! تم تو خود لکھتے ہو کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔ جو انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے، اس نے ہمیں دین دینا ہے؟ اللہ پر بہتان باندھنے کی یہی چیزیں ہیں کبھی اللہ کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے، کبھی اللہ کے لیے بیوی اور بچے تجویز کرتے تھے، اور کبھی کہتے تھے کہ یہ وحی تو ہم پر بھی آسکتی ہے۔ تو اس قسم کے بہتان کو اللہ رب العزت نے بڑی شدت کے ساتھ رد کر دیا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,091 次观看 • 9 天前

خان صاحب، اب تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی کچھ ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیوں نہ آپ اب ڈیل ہی کر لیں؟ کوئی معاملہ طے کریں، ایک دفعہ رہا ہو جائیں، اس اذیت اور مصیبت سے نجات حاصل کریں، پھر جب باہر آئیں گے تو دیکھ لینا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ تو صحافی کہتے ہیں کہ جب میں نے خان صاحب سے یہ بات کہی تو خان صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا، پھر بولے کہ حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی رہائی کو چھ سال مؤخر کر دیا تھا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جو خدا حضرت یوسفؑ کا تھا، وہی خدا میرا ہے، اور جس خدا کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ ناحق قید میں تھے، اس خدا کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بھی ناحق قید میں ہے۔ اور جس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے صرف ان کا اللہ کافی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔ اس لیے میں اپنی رہائی کے لیے کسی سے کوئی بات یا کوئی ڈیل ہرگز نہیں کروں گا۔ #اللہ_پر_ایمان #اللہ_ہی_کافی

PTI Punjab

76,601 次观看 • 8 个月前

حافظ سید عاصم منیر پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔یہ اللہ کا خاص بندہ ہے۔ آپ یہ ویڈیو دیکھ کہ چند سیکنڈز میں "سید" نے اللہ کے نام کا"ورد"کتنی بار کیا ہے۔ جو شخص اس حد تک اللہ کا نام لے۔۔اللہ اس سے کیوں نا راضی ہو۔ سید کہتا ہے۔۔ ہماری فوج اللہ کی فوج ہے،ہم اللہ کے نام پر لڑتے ہیں، بھارت کے خلاف اللہ نے سربلند کیا۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اللہ نے دشمن کو دھول چٹائی ہے، مسلمان جب اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کی پھینکی ہوئی مٹی بھی میزائل بن جاتی ہے۔ اللہ پر بھروسہ ضروری ہے۔ میں اللہ کے حکم اور اس کے فرمان کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں۔ جو شخص اللہ کو اس حد تک یاد رکھتا ہو۔۔اللہ اس کو کیسے بھول سکتا ہے۔ بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس اللہ کے بندے کے خلاف بہتان باندھتے اور غلاظت بکتے ہیں وہ ایک غلیظ انسان(نیازی) کے لیے اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں اگر تم لوگوں کے دل میں زرا سا اللہ کا خوف ہے اور آخرت کی فکر ہے تو اس شخص کے راستے سے ہٹ جاو۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

13,241 次观看 • 10 个月前

اللہ نے ہماری زندگی کے ایام ہماری ارواح کو پیدا کرتے ہوئے مقرر کر دیے ہیں ۔ قبر میں جو رات آنی ہے اس کو کوئی نہ گھٹا سکتا ہے نہ بڑھا سکتا ہے۔ ہم عمر کے اس دور میں ہیں اب ہمارا اس قوم کو دینے کا وقت ہے . اس قوم کے آنے والے بچوں کے مستقبل کو بنانے کا وقت ہے ۔ کوئی یہ سمجھے کہ ڈر ، جان کا ڈر ، مال کا ڈر ، عزت کا ڈر ۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر مرنا ہی ہے تو اس قاز کے لیے مر جائیں مر رہے ہیں تو کیوں نہ پاکستان کے لیے مر جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ مار سکتے ہیں ۔کتنو کو مارا ہمیں بھی مار دیں ۔ لیکن خدا کی قسم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان میں قانون کا بول بالا نہ ہو۔ جب تک پاکستان میں عدالتوں کی حکمرانی نہ ہو ۔ جب تک پاکستان میں پاکستانی کو سماجی انصاف نہ ملے۔ پاکستانی کو معاشی انصاف نہ ملے اور پاکستانیوں کے گھر میں گھسنے والا ، پاکستانی کے اوپر ڈنڈے برسانے والا ، ٹیر گیس چھوڑنے والا ۔ ان تمام لوگوں کو ہم کیفر کردار تک نہ پہنچائے ۔

Sher Afzal Khan Marwat

121,044 次观看 • 2 年前

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 次观看 • 9 个月前

اہلِ مصر اہل البیت سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں ؟ جب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پر (کربلا کے واقعات کے بعد) مظالم ڈھائے گئے اور ان پر اپنے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ کا شہر (مدینہ) بھی تنگ کر دیا گیا، تو اس وقت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) نے، جو کہ کافی معمر ہو چکے تھے، آپؑ سے مخاطب ہو کر کہا: 'اے اللہ کے رسول ﷺ کی نواسی! آپ مصر تشریف لے جائیں، وہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ سے قرابت داری کی وجہ سے آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔' پھر جب آپؑ مصر تشریف لائیں اور اہل مصر نے 'بلبیس' کے مقام پر آپؑ کا اس طرح استقبال کیا جیسے غم زدہ لوگوں کو پرسہ دیا جاتا ہے، اور جب آپؑ نے اہل مصر کا یہ والہانہ استقبال، محبت اور عقیدت دیکھی، تو آپؑ نے اہل مصر کے لیے وہ تاریخی دعا فرمائی: "اے اہلِ مصر! اے مصر کے رہنے والو! تم نے ہمیں پناہ دی، اللہ تمہیں پناہ دے۔ تم نے ہماری مدد کی، اللہ تمہاری مدد کرے۔ تم نے ہماری اعانت کی، اللہ تمہاری اعانت فرمائے۔ اللہ تمہارے ہر غم کو خوشی میں بدل دے اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرمائے۔" پس یہ وہ شہر (ملک) ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گا، اس کی ضمانت دی گئی ہے، یہ امن والا ہے کیونکہ یہ آلِ محمد ﷺ کا قبلہ (مرکزِ محبت) ہے۔ اللہ نے اس سرزمین کو یہ شرف بخشا ہے کہ یہاں آلِ بیتِ رسول ﷺ کی تقریباً 40 ہستیاں مدفون ہیں۔"

Mufti Fazal Hamdard

32,300 次观看 • 6 个月前