Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جو مشاجرات رہے اور جنگ ھوئی، اس کی بنیاد اجتہادی اختلاف تھا جس میں حضرت علیؓ کا اجتہاد صائب تھا جبکہ حضرت امیر معاویہؓ کا اجتہاد کمزور تھا لیکن یہ اختلاف اہل ایمان اور اہل اسلام کے...

19,730 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Shar Mohammadi's profile picture
Shar Mohammadi1 year ago

تم کیسے منافق ہو، لوگوں کو پاگل سمجھا ہوا ہے-روشن حقیقتوں کے مقابل کھوکھلی تاویلیں اور تمھاری ایجاد کردہ "مشاجراتِ صحابہ" جیسی اصطلاحات بنا کر لوگوں کو مرعوب کرتے ہو۔حجر بن عدیؓ، عمار یاسرؓ اور نہ جانے کتنے صحابہ کو قتل کروایا، علیؑ کے خلاف بغاوت کی۔خلافت کو ملوکیت میں بدلا۔

Akbar haider bugti's profile picture
Akbar haider bugti1 year ago

کنجروں کا خاندان معاویہ

aftab ahmed's profile picture
aftab ahmed1 year ago

جن کو حدیث میں باغی گروہ کہا گیا ۔ جناب آپ ان کو معصوم ثابت کر رہے ہیں ؟ خلیفہ وقت کے خلاف خروج اجتہادی غلطی تھی؟ صحابہ کرام کا قتل اجتہادی غلطی تھی؟

zawaar shah's profile picture
zawaar shah1 year ago

آپ یزید کا حسین کے شہید کرنے پر یزید پر لعنت بھیجتے ہیں کہ نہیں ؟

Shar Mohammadi's profile picture
Shar Mohammadi1 year ago

علیؑ سے جنگ کرنا رسول اللہﷺسے جنگ کرنے ہے۔ علیؑ قران کی رو سے نفسِ رسول ہیں۔کچھ اور نہ مانو مگر یہ تو مانتے ہو کہ اسلام کے پہلے دن سے پورے دورِ رسالت میں قدم قدم ساتھ تھے۔اُن کے مقابل فتح مکہ کے بعد مجبورا" اسلام لانے والے طلقاء سے کر رہے ہو،یہ اہل بیت کا بغض جہنم میں لے جائے گا

Nisar Shigri's profile picture
Nisar Shigri1 year ago

دادا کی رسول ﷺ سےجنگ ، باپ کی علی سے جنگ ،بیٹے کی حسین سے جنگ اس گروہ کو صحابی کہنا ہی اصل گستاخی ہے

Malik Aoon Raza's profile picture
Malik Aoon Raza1 year ago

مولوی اہلحدیث کی صدارت کے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ اجتہاد وغیرہ اسلام میں ہے نہیں اور اگر فرض کریں ہو بھی تو مولا علی کے مقابلے میں معاویہ اجتہاد کے لائق نہیں اور تیسری بات اگر یہ مان بھی لیا جاے تو پھر معاویہ اگر خلیفہ راشد کے خلاف جنگ کر کے جنتی ہے تو پھر کسی صحابی پر تنقید کفرنہی

Nisar Shigri's profile picture
Nisar Shigri1 year ago

مولوی تم لوگوں کا اصل مسلہ ہی یہی ہے معاویہ کو زبر دستی صحابہ بنانے میں ساری زندگی گزر جانی ہے ۔

Kashif Lashari's profile picture
Kashif Lashari1 year ago

حدیث عمار یاسر بھی بیان فرما دیں ؟ رسول پاک نے جو ارشاد فرمایا اس کو بھی تو بیان کریں نا !!! حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ ہے ، آپ کے اجتہاد اجتہاد کہنے سے حقیقت نہیں بدلے گی ، بخاری اور مسلم لکھنے والے آپ سے زیادہ بڑے معلم اور محدث تھے

dextoro's profile picture
dextoro1 year ago

Discover, Buy, and Sell Trending Solana Memecoins Gas-Free

Related Videos

عمران خان کی تصویر کو خانہ کعبہ میں لہرانا مطلب اللہ کے گھر میں دوبارہ بت پرستی کا آغاز کرنا۔ یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔👇👇 حدیث نمبر: 1601 صحيح بخاری۔ ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے دن) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ جزیرۃ العرب میں شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توفیق دی اور اپنے لشکروں سے ان کی مدد کی حتیٰ کہ انہوں نے تمام بتوں کا خاتمہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم بلند کردیا۔ لیکن قیامت کے قریب لوگوں کے دین سے دور اور علم سے بے نیاز ہونے کی وجہ سے ایک گروہ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردے گا اور یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

34,827 views • 2 years ago

🛑نفرت کا بیوپار اور مذہب کارڈ کا آزادانہ استعمال 🛑 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کے نام نہاد ترجمان نے وکٹم فیملیز کے وکلا کو کافر قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے نکاح منسوخ ہوچکے ہیں۔ اور اب یہ وکیل اپنے ایمان کی گواہی علماء کی موجودگی میں دیں 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے کرنا شروع ہوگیا ہے 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ انتہائی مکار ، شاطر ، مذہب کا بیوپاری اور اخلاقیات کے ہر درجے سے گرا ہوا گروپ ہے جو تحقیقات کے خوف سے نہ صرف ہر جگہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے بلکہ اب لوگوں کو سرعام کافر کہنا شروع ہوگیا ہے 🔶اگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے اس فلسفے کو مان لیا جائے تو پھر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان رہ جائے گا ؟ 🔶بلاسفیمی بزنس نفرت ، فتنہ انگیزی اور فساد فی الارض کو ہوا دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ملکی حالات خراب ہوں ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ پورا گروپ بمع ہنی ٹریپنگ ایمان اور مخدومہ ایکسپوز ہوچکے ہیں 🟢وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" (البقرۃ: 11) مفہوم: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ 🔶 فیملیز کو جن وکیل صاحب کو بلاسفیمی بزنس گروپ نے کافر قرار دیا ہے وہ الحمد للّہ ایک سچے مسلمان اور حافظ قرآن ہیں ۔ 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کو نہ تو شرم ہے اور نہ ہی اللہ کا اور روز قیامت کا خوف ، جس کو چاہا کافر بنادیا جس کو چاہا اسلام سے خارج کردیا جس کو چاہا اس کا نکاح منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ 🔶یہی آیت جو موصوف نے استعمال کی ہے ان کے فلسفے کے حساب سے کیا وہ واپس انہی پر بھی صادق نہیں آتی؟ کہ جس پر یہ الزام لگا رہے ہیں اگر وہ ویسے نہیں ہیں تو یہ ان پر واپس لوٹ آتا ہے تو کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے انہیں اس پر بھی غور کرلینا چاہییے تھا یا مذہب کا بیوپار نہیں کرنا چاہیے تھا 🔶ایک جنگ کے دوران حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک دشمن شخص کا پیچھا کیا۔ جب اسامہؓ نے اس شخص پر قابو پایا اور تلوار اس کی گردن پر رکھی، تو اس شخص نے فوراً "لا إله إلا الله" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پڑھ لیا۔ مگر حضرت اسامہؓ نے یہ سوچ کر کہ یہ شخص جان بچانے کے لیے صرف زبان سے کلمہ پڑھ رہا ہے، دل سے نہیں، اسے قتل کر دیا۔ جب حضور اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ ﷺ بہت ناراض ہوئے۔ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ سے فرمایا: "کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟" اسامہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس نے محض جان بچانے کے لیے کہا تھا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟" (یعنی تمہیں کیسے پتہ کہ اس کے دل میں کیا تھا؟) اور آپ ﷺ بار بار فرمایا: "قیامت کے دن تم اس کلمے کا کیا جواب دو گے؟" صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4269 صحیح مسلم، حدیث نمبر: 96 🔶 لوگوں کے دلوں کے حال اللہ جانتا ہے مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کا یہ نام نہاد ترجمان اور اسائلم والے کا بیٹا لوگوں کے دلوں کے حال بھی جاننا شروع ہوگیا ہے یہ صفات تو صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھیں ۔ 🟢 "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا فِي قُلُوبِكُمْ" مفہوم: بیشک اللہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 51) 🔶 جو کام اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرنے کے ہیں وہ اس بلاسفیمی بزنس گروپ نے کرنے شروع کردیے ہیں لوگوں کے دلوں کے احوال اور ایمانوں کے فیصلے سوشل میڈیا پر بلاسفیمی بزنس گروپ کے یوٹیوبر کرنے لگے ہیں۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor400

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

32,418 views • 1 year ago

خان صاحب، اب تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی کچھ ایسی صورت اختیار کر گیا ہے کہ کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیوں نہ آپ اب ڈیل ہی کر لیں؟ کوئی معاملہ طے کریں، ایک دفعہ رہا ہو جائیں، اس اذیت اور مصیبت سے نجات حاصل کریں، پھر جب باہر آئیں گے تو دیکھ لینا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ تو صحافی کہتے ہیں کہ جب میں نے خان صاحب سے یہ بات کہی تو خان صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا، پھر بولے کہ حضرت یوسفؑ جب قید میں تھے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا تھا کہ بادشاہ کے سامنے میرا ذکر کرنا۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی رہائی کو چھ سال مؤخر کر دیا تھا۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جو خدا حضرت یوسفؑ کا تھا، وہی خدا میرا ہے، اور جس خدا کو معلوم تھا کہ حضرت یوسفؑ ناحق قید میں تھے، اس خدا کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان بھی ناحق قید میں ہے۔ اور جس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے صرف ان کا اللہ کافی تھا، اسی طرح میرے لیے بھی میرا اللہ ہی کافی ہے۔ اس لیے میں اپنی رہائی کے لیے کسی سے کوئی بات یا کوئی ڈیل ہرگز نہیں کروں گا۔ #اللہ_پر_ایمان #اللہ_ہی_کافی

PTI Punjab

76,594 views • 8 months ago

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 views • 8 months ago

دنیا کا ایسا خوش قسمت ترین خاندان جس کے لئے جبرئیل کو زمین پر آنا پڑا۔ خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتی؟ حالانکہ سعودی فرماں روا کو خادم الحرمین الشریفین کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت اگر انہیں بھی کعبہ کے اندر جانا ہو تو دروازہ کھولنے کے لیے چابیاں ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے 'شیبی خاندان' کے پاس ہیں، اور اس کے پیچھے ایک ایسی معجزاتی کہانی ہے جسے سن کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا۔ دراصل بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ بات 8 ہجری کی ہے، جب مکہ فتح ہو چکا تھا۔ چاروں طرف مسلمانوں کا غلبہ تھا، ایسے میں نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن کعبہ کے بھاری لکڑی کے دروازوں پر ایک بڑا سا تالا پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ صدیوں سے یہ خاندانی چابی عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خوف سے خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے بیٹھے تھے۔ انہوں نے کعبے کی وہ چابی اپنے سینے سے دبا کر رکھی ہوئی تھی کہ آج جان بے شک چلی جائے، پر میرے آباؤ اجداد کی یہ امانت مجھ سے نہ چھنے۔ نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی ؓ چھت پر پہنچے۔ عثمان ابن طلحہٰ نے ڈرتے ڈرتے چابی دینے سے انکار کر دیا۔ مگر فاتحین کا دن تھا، حضرت علی ؓ نے آگے بڑھ کر وہ چابی ان سے چھین لی، نیچے آکر قفل کھولا اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ عثمان چھت پر بیٹھے آنسو بہا رہے تھے کہ آج ان کی صدیوں کی خاندانی عزت خاک میں مل گئی۔ ابھی رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر نوافل ادا ہی کر رہے تھے کہ اچانک فضا کا رنگ بدلا۔ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر سیدھے کعبہ کے اندر نازل ہوئے۔ اسی وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی: "بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو..." اللہ کی طرف سے یہ واضح اشارہ تھا کہ چاہے وہ شخص غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، لیکن چابی اس کی جائز امانت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، عثمان کو چابی واپس کرو اور درشتی سے چابی چھیننے پر اس سے معافی مانگو! عثمان ابن طلحہٰ چھت پر سمٹے بیٹھے موت کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک حضرت علی ؓ ان کے سامنے آئے، اپنا سر جھکایا، چابی ان کی طرف بڑھائی اور فرمایا: "مجھے معاف کر دو عثمان، میرے رب نے آسمان سے تمہارے حق میں فیصلہ اتار دیا ہے۔" ایک عظیم الشان فاتح کی یہ عاجزی دیکھ کر عثمان ششدر رہ گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور زبان سے بے اختیار نکلا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں!" عثمان ابن طلحہٰ کے کلمہ پڑھتے ہی جبریل ؑ دوبارہ آئے اور وہ بشارت دی جس نے تاریخ بدل دی: "آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی، اور ظالم کے سوا کوئی ان سے یہ چابیاں نہیں چھینے گا۔" یہ اسی معجزاتی دن کا فیصلہ ہے کہ آج 1400 سال گزرنے کے بعد بھی دنیا کے طاقتور ترین بادشاہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن اللہ کے اس وعدے کے مطابق کعبے کی چابیاں آج بھی اسی خاندان کے پاس موجود ہیں۔ اور پوری دنیا اس خاندان کی عزت کرتی ھے....!!!

چوہدری شاہد محمود

11,348 views • 2 months ago

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 views • 5 months ago

یہ جو لوگ آپ کو لر او بر یو افغان کے نعرے لگاتے ہیں، یہ جو قوم پرستی کے نام پر آپ کو دھوکہ دیتے ہیں، آج میں آپ کو اس کی حقیقت بتاتا ہوں۔پاکستان اور بھارت کی مئی 2025 میں جنگ ہوئی تو کچھ قوم پرستوں نے کہا کہ یہ پنجاب کی جنگ ہے، پختون اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ ہمارے پنجاب کے بھائیوں نے جب یہ سنا تو سخت غصے کا اظہار کیا اور کہا یہ تو ہمارے دشمن ہیں، بھارت کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ میں نے تب بھی کہا تھا اور آج پھر کہتا ہوں کہ یہ وہی سوچ ہے جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف کھڑی رہی۔ یہ تو جب پاکستان بن رہا تھا، اُس وقت بھی یہ قوم پرست کانگریس کے ساتھ کھڑے تھے۔ اور پھر جب 1971 میں پاکستان ٹوٹا، اُس کے چند سال بعد افغانستان کا صدر داؤد خان بنا۔ اس نے کھل کر اعلان کیا کہ پاکستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے، اب میں اسے چار حصوں میں تقسیم کروں گا۔یہ داؤد ہی تھا جس نے عطااللہ مینگل، غوث بخش بزنجو اور میر بخش مری کو افغانستان میں پناہ دی۔ دھشت گرد تنظیم پختون زلمی بنایا ، وہاں انہیں ٹریننگ دی گئی تاکہ پاکستان کے خلاف بغاوت کی جائے۔ یہ تاریخ کے اوراق ہیں، نوجوانو! انہیں پڑھو اور جان لو کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بنیاد کہاں رکھی گئی تھی۔ پھر اللہ کے فضل سے ذوالفقار علی بھٹو نے برگیڈیئر نصیر اللہ بابر، کو حکم دیا کہ اس کو کاونٹر کرو ، جو اس وقت آئی جی ایف سی تھے، کیونکہ افغانستان اور کمیونسٹ طاقتیں پاکستان کو توڑنا چاہتی تھیں اور یہاں کمیونزم مسلط کرنا چاہتی تھیں، لیکن اس وقت افغانستان کے اسلام پسند کھڑے ہوئے اور افغانستان اور پاکستان کا دفاع کیا۔ آج بھی ایک کالعدم تنظیم پی ٹی ایم انہی پرانی سازشوں کا تسلسل ہے۔ وہی پرانا بیانیہ، وہی پرانی نفرت میرے نوجوان بھائیو! یاد رکھو، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تعصب اور عصبیت کیڑوں کے برابر ہیں۔ اپنے آخری خطبے میں آپ ﷺ نے اعلان فرمایا: کسی عرب کو کسی عجمی پر فوقیت نہیں، اور کسی عجمی کو کسی عرب پر فوقیت نہیں۔ تو آج ہم سب کا فرض ہے کہ ان تعصبات کو مسترد کریں، ان قوم پرست سازشوں کو رد کریں، اور پاکستان کی وحدت کو مضبوط کریں۔ کیونکہ پاکستان ہماری جان ہے، ہماری پہچان ہے، ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

15,707 views • 1 year ago

اہلِ مصر اہل البیت سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں ؟ جب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پر (کربلا کے واقعات کے بعد) مظالم ڈھائے گئے اور ان پر اپنے نانا محمد مصطفیٰ ﷺ کا شہر (مدینہ) بھی تنگ کر دیا گیا، تو اس وقت ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) نے، جو کہ کافی معمر ہو چکے تھے، آپؑ سے مخاطب ہو کر کہا: 'اے اللہ کے رسول ﷺ کی نواسی! آپ مصر تشریف لے جائیں، وہاں ایسے لوگ بستے ہیں جو اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ سے قرابت داری کی وجہ سے آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔' پھر جب آپؑ مصر تشریف لائیں اور اہل مصر نے 'بلبیس' کے مقام پر آپؑ کا اس طرح استقبال کیا جیسے غم زدہ لوگوں کو پرسہ دیا جاتا ہے، اور جب آپؑ نے اہل مصر کا یہ والہانہ استقبال، محبت اور عقیدت دیکھی، تو آپؑ نے اہل مصر کے لیے وہ تاریخی دعا فرمائی: "اے اہلِ مصر! اے مصر کے رہنے والو! تم نے ہمیں پناہ دی، اللہ تمہیں پناہ دے۔ تم نے ہماری مدد کی، اللہ تمہاری مدد کرے۔ تم نے ہماری اعانت کی، اللہ تمہاری اعانت فرمائے۔ اللہ تمہارے ہر غم کو خوشی میں بدل دے اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرمائے۔" پس یہ وہ شہر (ملک) ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گا، اس کی ضمانت دی گئی ہے، یہ امن والا ہے کیونکہ یہ آلِ محمد ﷺ کا قبلہ (مرکزِ محبت) ہے۔ اللہ نے اس سرزمین کو یہ شرف بخشا ہے کہ یہاں آلِ بیتِ رسول ﷺ کی تقریباً 40 ہستیاں مدفون ہیں۔"

Mufti Fazal Hamdard

32,300 views • 5 months ago

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

135,973 views • 15 days ago

تاریخ کرداروں کو زندہ رکھتی ہے ۔ صفین میں جنگ زوروں پر تھی اس دوران نماز کا اول وقت ہوا تو امیر المومنین علی علیہ السلام نے نماز کی تیاری کی تو ابن عباس بولے ! مولا ! اس گھمسان کی جنگ کے وقت بھی نماز ؟ فرمایا ہم اسی نماز کی خاطر ہی تو جنگ کررہے ہیں ۔ کربلا میں جنگ اپنے عروج پر ہے حملہ اولی میں اصحاب کی بڑی تعداد جنگ مغلوبہ میں شھید ہوچکی ہے۔ اس دوران زوال کا وقت قریب ہوا تو امام سید الشھداء علیہ السلام کے صحابی ابو ثمامہ صائدی نے خواہش ظاہر کی کہ زندگی کی آخری نماز مولا کی امامت میں پڑھی جائے امام علیہ السلام نے اپنے اس تھجد گزار صحابی کو دعائے خیر دی۔ اور فرمایا اللہ تمہیں اپنی یاد کرنے والوں اور نماز گزاروں میں قرار دے۔ آج پھر یہی کردار فرزند زھرا حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ائ زندہ کررہے ہیں. آپ کے قریبی ساتھی راہ خدا میں شھید کئے جاچکے ہیں مگر آپ نے نماز جمعہ کا اہتمام کیا ہے حالانکہ خطرات چاروں طرف منہ کھولے بیٹھے ہیں مگر یہ فرزند امیر المومنین ۔ع۔ ہیں جو اپنے جد کی سیرت کا احیاء کررہے ہیں ۔ تاریخ مرتی نہیں ہے مگر مختلف اشخاص اور کرداروں میں ہر دور میں اس کی تکرار ہوتی رہتی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل بنو امیہ اور ابن مرجانہ کی فوجیں سامنے تھیں آج یہود و نصاری اور کفر کی طاقتیں سامنے ہیں اور اج ان کا مقابلہ وقت کے اس عبد صالح سے ہے جس نے اللہ کی وحدانیت کا صمیم قلب سے اقرار کیا ہے اور اس عہد کو نبھا رہے ہیں جو اللہ نے صالحین کے ذمے لگائی ہے ۔ نضر بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حسین بن علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے کہا: اے ابو عبداللہ، مجھے خدا تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے جس میں اللہ فرماتا ہے ۔ هَٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ( الحج آیت 19 ) : یہ دو مخالف ہیں اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا۔ اس سے ہم اور بنو امیہ مراد ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کیا، ہم نے کہا: اللہ نے سچ کہا، اور انہوں نے کہا : معاذاللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولا ۔ بس یہی ہمارا اور ان کا جھگڑا ہے۔ لھذا ہم اور وہ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے۔ بحوالہ بحار الانوار ۔۔۔۔ ارشاد القلوب۔۔ اللھوف فی قتلی الطفوف ۔۔ 4 اکتوبر بروز جمعہ 2024 ء ۔۔۔۔

Syed M Mehdi

55,745 views • 1 year ago