Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

تینوں ظلم تو ڈکنا نہیں بس اینی گل سمجانی اے ویلے دی اے واگ ویریا ساڈے ہتھ وی آنی اے

51,603 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں

Qaimkhani

15,327 просмотров • 3 месяцев назад

اڈیالہ کے باہر بدترین ظلم و جبر کا منظر جاری ہے جہاں علیمہ خان ڈاکٹر عظمی اور نورین آپا کو تاحال گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی بدترین تذلیل کی گئی ہے سب سے پہلے کارکنوں کو دوسری سمت سے پولیس بھیج کر منتشر کیا گیا اور بے دریغ لاٹھیاں برسائی گئیں اس کے باوجود کارکنوں نے گورکھپور ناکے کی جانب سے آنے والی پولیس کا بھرپور اور جرات مندانہ مقابلہ کیا اس کے بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا اور جب یہ ہتھکنڈہ بھی ناکام ہو گیا تو واٹر کینن کا استعمال کیا گیا حالانکہ وہاں کم سن بچے موجود تھے آپ نے خود دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی کے نواسے اور نواسیاں بھی وہیں موجود تھے مگر ان معصوم بچوں تک کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا اور ان پر بھی زہریلا پانی برسایا گیا کئی بچے اس پانی کی زد میں آ گئے اس کے بعد تینوں بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا ایم این اے شاہد خٹک کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت متعدد افراد پابند سلاسل ہیں عثمان جوڑا بھی گرفتار ہے جو چند روز قبل قید و بند کی صعوبتیں جھیل کر رہا ہوا تھا مگر ظلم و ستم کی یہ انتہا بھی ان کے لیے کافی نہ تھی جب ان کا دل نہ بھرا تو علیمہ خان نورین آپا اور ڈاکٹر عظمی پر براہ راست واٹر کینن سے حملہ کیا گیا جس پر کارکنوں نے چاروں طرف حصار بنا لیا اور عمران خان کی بہنوں کو بھیگنے سے بچایا لیکن اس تمام جبر کے باوجود بہادر علیمہ خان ان تمام ظالم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی

Agha Sheikh Sarwar

38,603 просмотров • 8 месяцев назад

🛑70 لاکھ کی کار ، کراچی کا سفر اور سائبر کرائم ونگ کراچی میں راؤ عبدالرحیم کی انویسٹی گیشن 🛑 📍7 جون سے 11 جون 2024 راؤ عبدالرحیم ، شیراز فاروقی اور ساتھ ایک خاتون کراچی میں موجود تھے ۔ گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ویڈیو میں خاتون کو گنگناتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔ اسلام آباد سے کراچی کے سفر میں شیراز فاروقی اور راؤ عبدالرحیم یعنی دو مردوں کے درمیان یہ خاتون کون تھی ؟ یہ خاتون لیہ یونیورسٹی اغوا کیس کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں شیراز فاروقی کے ساتھ سوزوکی کلٹس میں بھی پائی گئی تھی۔ 📍انہوں نے یہ سفر ٹیوٹا گرینڈی کار جس کی قیمت 60 سے 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے اس کار میں اسلام آباد سے کراچی 3 افراد (کومل اسماعیل ، راؤ عبدالرحیم اور شیراز فاروقی) نے اکٹھے طے کیا تھا ، 📍حیران کن طور پر کراچی وزٹ کے دوران راؤ عبدالرحیم صاحب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی آفس میں بلاسفیمی بزنس گروپ کی طرف سے پھنسائے گئے لڑکوں کی انویسٹی گیشن بھی کرتے رہے جو کہ بذات خود ایک غیر قانونی عمل ہے ۔ 📍اتنی مہنگی کار ، اتنا فیول جو اسلام آباد سے کراچی ڈرائیو کرکے کم از کم 1 لاکھ سے زائد کا خرچہ بن جاتا ہے اور 1400 کلومیٹرز سے بھی لمبا سفر بنتا ہے ، اس کے علاؤہ دیگر سفری اخراجات ۔۔؟ 📍اتنے دن وہاں رہائش، ساحل سمندر کی سیر ، اور دیگر ضروری اخراجات شامل کیے جائیں تو اتنے اخراجات ایک عام انسان نہیں برداشت کرسکتا ۔۔۔ ؟ آخر اتنا پیسہ آتا کہاں سے ہے ؟؟؟ (مزید تفصیلات اور انکشافات اگلی ٹویٹ میں 👇) #450LivesMatter #JusticeFor450 #Blasphemy #StopBlasphemyBusiness

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

24,556 просмотров • 5 месяцев назад