Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے شاخ گلشن عمرؓ سہراب گوٹھ گیٹ کے سامنے فائرنگ مفتی قیصر فاروق شہید cctv یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے؟ یااللہ ہمیں معاف کردیں, ہماری غلطیاں اور کوتاہیاں معاف کردیں اللھم امین

13,076 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Naveed Shahⁱᴾⁱᵃⁿ
Naveed Shahⁱᴾⁱᵃⁿvor 2 Jahren

میرا سوال آج بھی وہی ہے کہ عمران خان کے 3۔1/2 سالہ دور میں یہ ٹارگٹ کلر یہ دہشتگرد سب کہاں تھے؟؟؟ ان سب کے پیچھے کون ہے؟🤔🤔 #عمران_خان_پر_ظلم_نامنظور #انصاف_کا_منتظر_عمران_خان @InsafPK

Profilbild von Areeba
Areebavor 2 Jahren

@Umair2023_ الله أكبر یااللہ ہم پر رحم فرما، شہید کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرما۔ آمین یارب

Profilbild von 𝐌𝐮𝐡𝐚𝐦𝐦𝐚𝐝 𝐃𝐚𝐧𝐢𝐚𝐥
𝐌𝐮𝐡𝐚𝐦𝐦𝐚𝐝 𝐃𝐚𝐧𝐢𝐚𝐥vor 2 Jahren

Toba

Profilbild von ‏نـــواز بنگــــشں
‏نـــواز بنگــــشںvor 2 Jahren

اللّہ معافی دے کہاں پہنچ گئے ہم 😭

Profilbild von Crypto Fatguy Cr.🌐
Crypto Fatguy Cr.🌐vor 2 Jahren

سارے بےحس لوگ بھاگ گئے افسوس

Profilbild von مسٹر پاکستانی
مسٹر پاکستانیvor 2 Jahren

یہ بلوچستان کے دہشتگردوں کا اکاونٹ ہے۔ نیچھے انڈین کمنٹ دے رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے فرقہ ورانہ فسادات کے لیئے یہ کیا گیا ہے

Profilbild von MALIK
MALIKvor 2 Jahren

انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے اور جس ظالم ملعون مردود خبیث خنزیر نے انہیں شہید کیا اللہ اس کو جہنم واصل کرے اور دنیا میں عبرت کا نشان بنا دے امین

Profilbild von Khalid Mehmood Khan
Khalid Mehmood Khanvor 2 Jahren

اللّٰہ مغفرت فرمائے آمین

Profilbild von AAriz ARslan
AAriz ARslanvor 2 Jahren

انا اللہ وانا الیہ راجعون افسوسناک

Profilbild von Stoic
Stoicvor 2 Jahren

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

Ähnliche Videos

“آج میں خیبر سے کراچی صرف تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ یہی ہمارا نظریاتی رشتہ ہے جو ہمیں خیبر سے کراچی تک جوڑتا ہے۔ تحریکِ انصاف واحد قومی جماعت ہے، جس کا ہر ورکر عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے ایک ہے۔ خیبر کا درد کراچی محسوس کرتا ہے اور کراچی کا دکھ خیبر۔ پی ٹی آئی کا ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ اور عمران خان کی امانت ہے۔ ہمیں اپنے کارکنوں کو گلے لگانا ہے، بچوں اور بھائیوں کی طرح ان کی حفاظت کرنی ہے۔ آج عمران خان جیل میں ہیں، اگر ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تو یہ قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ نظریاتی کارکنوں کی بدولت اللّہ نے ہمیں یہ مقام دیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ جب تک یہ کارکن ہمارے ساتھ ہیں، یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہوتی جائے گی، اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ضرور کامیاب ہو گی انشاءاللّہ۔ میں بلال محسود شہید اور پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں۔ بلال محسود کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کی ذمہ داری پی ٹی آئی سندھ نے لے لی ہے، اور ہم اس خاندان کے ساتھ ہر حال میں کھڑے رہیں گے۔” - سہراب گوٹھ میں شہید ہونے والے کارکن بلال محسود کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور اس انتہائی افسوسناک واقع پر دلی ہمدردی کے اظہار کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا Sohail Afridi کا کراچی کا ایک روزہ مختصر دورہ اور کارکنان سے خطاب

PTI

34,372 Aufrufe • vor 7 Monaten

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کراچی میں بلال محسود شہید کے رہائشگاہ پہنچ گئے ہیں۔ بلال محسود کراچی اسٹریٹ موومنٹ کے دوران لیاری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے حادثے میں شہید ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، ان سے تعزیت کا اظہار کیا اور بلال محسود کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے وہاں موجود لواحقین اور پارٹی کارکنان سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں خیبر سے کراچی صرف تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ یہی ہمارا نظریاتی رشتہ ہے جو ہمیں خیبر سے کراچی تک جوڑتا ہے۔ تحریکِ انصاف واحد قومی جماعت ہے، جس کا ہر ورکر عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے ایک ہے۔ خیبر کا درد کراچی محسوس کرتا ہے اور کراچی کا دکھ خیبر۔ پی ٹی آئی کا ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ اور عمران خان کی امانت ہے۔ ہمیں اپنے کارکنوں کو گلے لگانا ہے، بچوں اور بھائیوں کی طرح ان کی حفاظت کرنی ہے۔ اگر آج عمران خان جیل میں ہے ، ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تو نہ قوم ہمیں معاف کرے گی اور نہ ہی عمران خان۔ نظریاتی کارکنوں کی بدولت اللہ نے ہمیں یہ مقام دیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ جب تک یہ کارکن ہمارے ساتھ ہیں، یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہوتی جائے گی، اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی۔ میں بلال محسود شہید اور پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں۔ بلال محسود کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کی ذمہ داری پی ٹی آئی سندھ نے لے لی ہے، اور ہم اس خاندان کے ساتھ ہر حال میں کھڑے رہیں گے۔

Shafi Jan

17,102 Aufrufe • vor 7 Monaten

افغان طالبان کے مابین پالیسیوں پر پیدا اختلافات سنگین ہمیں مذہب پر اجارہ داری نہیں کرنی چاہیے، سراج الدین حقانی کی ملا ہیبت اللہ پر تنقید ایک جلسہ عام میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس گروپ کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ میں حکمران ہوں، اس لیے سب کو میری بات مان لینی چاہیئے، "آپ خدا کے سامنے ذمہ دار ہیں اور خدا آپ سے پوچھے گا۔" کسی مخصوص شخص یا گروہ کا ذکر کئے بغیر انہوں نےکہا: "ملا اور طالب کے اس لقب کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ علماء پر اس حد تک بہتان تراشی کی جاتی ہے کہ لوگ ان کے دین کو نقصان پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے بعض اندرونی رویوں پر بھی تنقید کی: "مذہب کی نمائندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم صرف اپنے لیے حق محفوظ رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیں اور ان کو قریب کریں، جس طرح نبیﷺ نے عفو و درگزر سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ طالبان کے ماضی اور حال کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے حقانی نے کہا: ’’ہماری قوم نے مشکل آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اور یہ مذہب لوگوں کی قربانیوں اور قربانیوں سے اس مقام تک پہنچا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر لوگ ہماری پیروی نہ کریں تو آسمان زمین پر آجائے گا۔ حقانی نے مزید کہا: "ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگ کرپٹ ہیں اور ہمیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھیں ارتداد سے بچانا چاہیے، کیونکہ ہم حکمران ہیں۔" طالبان کے وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ اگر لوگ کفر اور بدعنوانی کے قریب آتے ہیں تو یہ حکمرانوں کی کمزوری اور کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

The Khyber Chronicles

11,453 Aufrufe • vor 1 Jahr

نوجوان محمد بن مرسل سعودی عرب کے شہر نجران کے رہنے والے تھے معمولی سی تلخی کے باعث ان کے ہاتھ سے ان کے ایک کزن کا قتل ہوا ،ان کو جیل ہوگئی ،جیل میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد عدالت نے قصاص میں انکی گردن اڑانے کا حکم سنا دیا،البتہ شرعی طور پر مقتول کے ورثاء کے پاس دیت لینے یا فی سبیل اللہ معاف کرنے کا اختیار بھی تھا۔ محمد مرسل کے قبیلے آل رزق کے بچوں ،بزرگوں اور نوجوانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ مقتول کے قبیلہ آل صنیج کے سامنے معافی کی درخواست رکھی جائے وہ چاہیں تو دیت لیں وہ چاہیں تو معاف کریں یہ درخواست رکھنے کا جو انداز تھا یہ اتنا منفرد تھا،یہ اتنی عاجزی اور فریاد لیے تھا کہ پورے عرب میڈیا کا یہ موضوع بن گیا،محمد بن مرسل کے قبیلے کے چھوٹے بڑے بزرگ بچے سب مقتول کے دروازے پر پہنچ گیے،مقتول کے ورثاء کو بلایا گیا،ان کے سامنے قبیلے کے سرداروں اور شیخوں نے جوانوں اور بچوں نے اپنی عقالیں،چادریں،لمبے جبے اتار کر مقتول کے ورثاء کے قدموں میں رکھے،عزت اور فخر سمجھی جانے والی چیزیں اور اشیاء اتار کر مقتول کی چوکھٹ میں رکھ دیے ،اپنی چادروں سے گھٹنوں کو باندھ کر زمین پر لیٹ گئے،اپنے سروں پر مٹی ڈالا،شاعروں نے معافی پر قصیدے پڑھے،مقتول کے ننھے بچے نے یوں معافی کی استدعا کی کہ جگر کٹ جاۓ،جو اور جتنی چاہیے دیت کی پیش کش کی گئی،پورا سعودی عرب بول پڑا کہ معاف کیا جانا چاہئے،شریعت نے دیت اور معافی کا آپشن بھی تو رکھا ہے،لیکن مقتول کے ورثاء نے نہ تو معاف کیا اور نہ دیت پر راضی ہوئے۔ چنانچہ تین دن پہلے بیس ستمبر کو نوجوان محمد بن مرسل کی گردن قصاص میں اڑا دی گئی،یہ پہلا قاتل تھا جس کیلئے پورے ملک میں مغفرت کی دعائیں ہو رہی ہیں،لوگ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں،لیکن دوسری طرف قانون اپنی جگہ کتنا مضبوط ہے کہ سب کچھ کے باوجود نافذ ہوا - بقلم فردوس جمال!!!

Ammar Khan Yasir

126,202 Aufrufe • vor 2 Jahren

آپ سے عوام کیوں نفرت کرتی ہے اب ؟ دیکھ لیں اس ویڈیو کو اور دوبارہ کسی آہنی محفل میں اپنے پسند کے بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے یہ جھوٹ مت بولنا کہ آپ کے اور عوام کے درمیان لازوال رشتہ ہے آپ 80% عوام کے دلوں کی محبت کھو چکے ہیں 10% نوکری کرتے ہیں 10% کو آپ نے اشرافیہ بنایا ہوا ہے باقی 80% عوام سچ دل سے اللہ کو گواہ بنا کر کہتی ہے اس وقت آپ عوام کی نظروں میں بہت حد تک گرچکے ہیں یہ سچائی ہے کوئی جھوٹ یا بغض نہیں۔ یقین نہیں تو بھیس بدل کر عوام میں نکلو گلیوں بازاروں سڑکوں میں عوام آپ کو بددعائیں اور شدید نفرت کرتے ہوئے نظر آئے گی ۔ گھاٹے کا سودا کیا آپ نے چوروں اور امریکہ کو تحفظ دے کر آپ ہار چکے ہو بس ماننے کی دیر ہے تاریخ ظالم ہے معاف نہیں کرتی سر نہیں معاف کرتی آپ بے شک ہم سب محب وطن لوگوں کو غدار کہ دیں مگر آپ پار چکے ہیں عوام آپ کے پیچھے نہیں ہے آپ کو اس وقت پتہ چلے گا جب کوئی طاقتور آپ کے مقابلے آئے گا وہ طالبان کی صورت ہو یا ہندوستان کی صورت تب آپ کو نظر آئے گا عوام اور آپ میں کتنی دوری ہے

Rashid Mehmood Bangash

101,467 Aufrufe • vor 3 Jahren

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,029 Aufrufe • vor 5 Monaten

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 Aufrufe • vor 2 Jahren

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ظالم اپنا ظلم بلوچستان کے ہر کونے میں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلوچستان کے ہر گھر میں آگ برسائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ زہری کا علاقہ ہو جہاں پچھلے 25 دنوں سے کرفیو نافذ ہے - اس دوران کتنے لوگ بھوک اور بیماری سے جان بحق ہوئے ہیں، اور کتنی خواتین اور بچے فائرنگ اور ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔ آواران میں ہر ہفتے کسی بلوچ کو فوجی کیمپ میں طلب کر کے اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے۔ مکران میں بھی ایک ہفتے کے اندر ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں پانچ بلوچ نوجوان اغوا کر کے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے یا فائرنگ کر کے شہید کر دیے گئے۔ یہ کسی گھر یا طبقے کی کہانی نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کی کہانی ہے - ظالم یہاں بلوچ کی نسل کشی بلوچ کے اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بلوچ قوم کے لیے بولنا چاہتا ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کیا گیا ہے، دیگر تنظیموں کے رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف بات نہ کریں۔ ہمارے عام عوام کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رات کے وقت گھروں کی دیواریں پھلانگ کر گھس آتے ہیں۔ کبھی جعلی غم خوار بن کر لوگ بھیجے جاتے ہیں تاکہ تمھیں ڈرا دھمکا کر جھوٹی تسلیاں دے کر تمہاری آواز دبائی جائے اور یہ کہہ کر کہ تمہارے مسئلے حل کر دیے جائیں۔ ان تمام حربوں سے ایک بات واضح ہے، ریاست خاموشی سے ہماری نسل کشی جاری رکھنا چاہتی ہے، اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ ایک فرزند، جو بے بسی اور غریبی میں بھی زندگی گزارنے کے ہزاروں خواب رکھتا تھا، اس کی لاش اس کے خوابوں کے ساتھ دفن نہ ہو۔ اس لاش کو زندہ رکھیں - کم از کم جو لوگ اغوا ہو رہے ہیں ان کے کیسز سامنے لائیں، جو لوگ قتل ہو رہے ہیں ان کی لاشیں اپنے خوابوں کے ساتھ سڑکوں پر لا کر دھرنا دیں تاکہ دنیا دیکھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کم از کم ہم اپنے دشمن کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جو چاہے ہمارے ساتھ کرے - بچوں اور عورتوں کو لاپتہ کرے یا قتل کرے، اور اپنے دلالوں کو شہروں میں آزاد چھوڑ دے۔ لازم ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں، ہماری خاموشی ہماری نسل کشی کو مزید تقویت دے گی۔ ہمیں اس طاقت اور خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ جس بلوچ کے گھر میں کوئی ظلم ہوا ہے اسے سامنے لائیں - ظلم کا خاتمہ یہی سے ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔

BAAM

14,884 Aufrufe • vor 9 Monaten

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 Aufrufe • vor 5 Monaten

ایک سادہ سوال ہے جو ہمیں دنیا کے سامنے، ہم سب کے درمیان، نرم مگر واضح الفاظ میں رکھنا ہوگا: کیا پاکستان فوج کے لیے ہے یا فوج پاکستان کے لیے؟ اگر پاکستان فوج کے لیے ہے، تو پھر فیصلہ ہو چکا—آپ جانیں اور آپ کا ملک جانے۔ لیکن اگر فوج پاکستان کے لیے ہے تو پھر مہربانی کیجیے۔ ہم اتنے جاہل نہیں کہ فوج کی اہمیت نہ سمجھتے ہوں۔ پچیس کروڑ انسانوں کے اس بڑے ملک کی فوج نہ ہو، یہ پاگل پن ہوگا۔ فوج ہونی چاہیے، بہترین فوج ہونی چاہیے۔ خفیہ ادارے بھی ہوں—آئی ایس آئی، ایم آئی اور دیگر سویلین ایجنسیاں۔ کوئی بھی ملک افواج اور اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ایجنسیاں آئین اور قانون کے مطابق کام کریں۔ ہم دعا گو ہیں کہ ہماری سویلین اور ملٹری ایجنسیاں سی آئی اے، موساد اور دنیا کے بہترین اداروں سے بھی زیادہ قابل ہوں۔ لیکن ہماری افواج جتنا جلد ممکن ہو، اپنے لیے بھی، ہم سب کے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی احسان کریں۔ مہربانی کر کے وہی راستہ اختیار کریں جو امریکہ، چین اور روس کی افواج اختیار کرتی ہیں—آئینی دائرے میں رہ کر۔ آپ نے حلف اٹھایا ہے، اور حلف وعدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وعدے کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ جب آپ حلف لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ سپاہی سے لے کر جنرل تک، سب نے یہ وعدہ کیا ہے۔ اس وعدے کو نہ توڑیں۔ ہم آپ کو سلام کریں گے، عزت دیں گے، بہترین تعلقات رکھیں گے۔ کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس ادارے کی عزت نہ کرے جو ملک کے لیے لڑتا ہے، جان دیتا ہے اور قربانیاں دیتا ہے۔ لیکن جب حلف توڑا جاتا ہے اور آئینی راستے کے بجائے کوئی اور راستہ اختیار کیا جاتا ہے، تو پھر ہمارے اور آپ کے درمیان رشتے خراب ہو جاتے ہیں۔

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

41,741 Aufrufe • vor 7 Monaten

میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے کہ ہر تقریر میں سینیٹ کی آفیشل فیج سے کٹنگ کی جاتی ہے؟ جملے کاٹے جاتے ہیں، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ پنجاب بڑا بھائی ہے، اور یہ بات رانا ثناء اللہ نے بالکل صحیح کہی۔ لیکن بڑے بھائی کا جابرانہ کردار 14 اگست 1947 سے شروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ بدقسمتی سے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اور چاہے پنجاب ہی کیوں نہ ہو، اس کا رویہ پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا ظالمانہ اور استحصالی رہا ہے۔اگر میں پنجاب کے کردار اور بھائی چارے کی بات کروں، تو یہ زبردستی کا معاملہ لگتا ہے۔ اور پتہ نہیں یہ کب تک جاری رہے گا۔ اللہ خیر کرے۔ لیکن جب ہم گلہ کرتے ہیں، تو فوراً یہ جواب آتا ہے کہ پنجاب یا پنجابی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ وہ ہمارا بھائی ہے، لیکن خدا کی قسم! اگر اپنا بھائی بھی اپنے بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالے تو ہم اس کے خلاف بھی بولیں گے۔ تاریخ کے حوالے سے اگر کھل کر بات کی جائے تو بڑے مسائل سامنے آئیں گے۔ پانی کے معاملے میں اے این پی ہمیشہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے ساتھ کھڑی رہی، بالکل اسی طرح جیسے ہم 18ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے۔ پی ڈی ایم میں بھی ہم ایک تھے، لیکن بعد میں ہمیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نکال دیا گیا۔ اس دور میں ہم نے بہت سے نعرے سنے، جیسے “ووٹ کو عزت دو”، لیکن آج وہی نعرہ بدل کر “بوٹ کو عزت دو” ہو چکا ہے۔ اتنی تابعداری کہ ایک رجسٹرڈ پارٹی آئین کی مخالفت کر رہی ہے۔ کل کو آپ کس منہ سے کہیں گے کہ آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟ آپ نے خود کتنی مخالفت کی ہے؟ کیا 18ویں آئینی ترمیم پر مسلم لیگ کے دستخط نہیں ہیں؟ آج پختونخوا کو بجلی کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ آخری این ایف سی ایوارڈ کب ہوا تھا؟ یہ سب کیوں نہیں ہو رہا؟ پھر آپ کہیں گے کہ آئین کو نظر انداز کیا گیا، تو آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب جمہوریت ہوگی، انقلاب آئے گا، لیکن جب آئینہ دیکھا تو حقیقت سامنے آئی کہ ہر طرف صرف حافظ ہی حافظ ہیں۔ آج کس حیثیت سے چیف آف آرمی اسٹاف باہر گھوم رہے ہیں اور سوٹ کیسوں میں زمینی وسائل اٹھا کر پھر رہے ہیں؟ یہ کیا مذاق ہے؟ جو تصویر سامنے آئی ہے، اس سے لگ رہا ہے جیسے ایک برین اسٹور ہے، اس کا منیجر خوشی خوشی اندر بیٹھا ہے، اور باہر دکاندار لوگوں کو بلا رہا ہے: “آؤ، ہمارے پاس اچھی چیزیں ہیں، لے لو۔” یہ کس معاہدے، آئین اور قانون کے تحت ہو رہا ہے؟ یہ تو آمریت ہے، جمہوریت نہیں۔ کیا پارلیمان کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں؟ جو سعودی عرب اور پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے، اس کی تفصیلات کہاں سے سامنے آ رہی ہیں؟ جو 20 نکاتی ایجنڈا دنیا کے سامنے رکھے گئے، اس میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے یہ سب قبول کیا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کس پاکستان نے یہ قبول کیا؟ ہمیں تو کوئی خبر ہی نہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جب وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف واپس آئیں، تو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ اتنا بڑا سودا کیا جا رہا ہے، تو پارلیمان کے سامنے بتایا جائے کہ حقیقت کیا ہے۔ ملک ایک خطرناک سمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ 20 نکات میں صرف دعوے اور ڈرامہ دکھایا گیا۔ کیا معلوم اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیا گیا ہو؟ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ SIFC ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اس کی موجودگی قانونی ہے یا غیر قانونی؟ کیا پاکستان دوبارہ ون یونٹ کی طرف جا رہا ہے کہ نہیں؟ آج سارے فیصلے ایک ہی جگہ ہو رہے ہیں، اور وہ ہے SIFC۔ باجوڑ میں ہمارا دوسرا رہنما شہید کر دیا گیا، اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ میں نے مطالبہ کیا تھا کہ مولانا خانزیب شہید کے واقعے پر ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن بنایا جائے، لیکن یہ کیوں نہیں ہو رہا؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود ملوث ہے۔ آخر میں سانحۂ تیراہ پر بات شروع کرتے ہی ایمل ولی خان کا مائیک بند کر دیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس میں خطاب

Awami National Party

20,561 Aufrufe • vor 11 Monaten