正在加载视频...

视频加载失败

"نقل مکانی کا فیصلہ ہمارا نہیں تھا، مجبور کیا گیا ،ریاست سے معاہدے کے بعد ہم نے نقل مکانی کی، سربراہ تیرہ 24 رکنی جرگہ کمال الدین" مطیع اللہ جان: آپ 24 رکنی جرگے کے سربراہ ہیں، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے آپ نے اپنے لوگوں کو...

28,004 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

تیراہ آپریشن اور نقل مکانی سے متعلق صوبائی حکومت کو کتنا پتا تھا، کتنی تیاری تھی۔۔ عاصمہ شیرازی اور مشیر اطلاعات شفیع جان کے درمیان دلچسپ سوال جواب: 👇👇👇 شفیع جان👈یہ ہم پر آپریشن لاگو کر کے سہیل آفریدی کو بدنام کرنا چاہتے تھے، مگر ہم نے مینیج کر لیا اور نومبر میں 4 ارب روپے منظور کر لیے۔ عاصمہ شیرازی 👈آپ نے تو تسلیم کر لیا کہ آپ کو پتہ تھا اور آپ نے نومبر میں چار ارب کیسے منظور کر لیے؟ شفیع جان:👈ہم نے نومبر میں 4 ارب رکھے کیونکہ ہمیں ان کی نیتوں کا پتہ تھا عاصمہ شیرازی:👈 تو 14 نومبر کو صوبائی حکومت نے 4 ارب رکھ لیے کہ آپریشن ہونا ہے؟ شفیع جان:👈ہمیں پتہ تھا کہ وفاقی حکومت نے یہ کرنا ہے لوگوں کا انخلا ہو گا تو ہمیں لوگوں کو مینیج کرنا ہے۔ عاصمہ شیرازی:👈 یعنی آپ تسلیم کر رہے ہیں صوبائی حکومت کی تیاری مکمل تھی؟ شفیع جان:👈 ہم نے لوگوں کی نقل مکانی کی صورت تیاری مکمل کی تھی ان کو یہی دکھ ہے۔ عاصمہ شیرازی:👈 یعنی آپریشن آپ کے علم میں تھا؟ شفیع جان:👈 ہمیں لگ رہا تھا یہ یہی کریں گے۔ عاصمہ شیرازی:👈یعنی آپ کو لگ رہا تھا اور آپ نے یہ ہونے دیا کہ لوگ نقل مکانی کریں؟ شفیع جان:👈آپریشن کس نے ہم پر مسلط کیا۔ عاصمہ شیرازی:👈 جرگے کون کر رہا تھا؟ شفیع جان: 👈یہ سب ہو رہا تھا تو ہمیں علم تو تھا۔ ہمیں پتہ تھا یہ ہم پر آپریشن مسلط کریں گے عاصمہ شیرازی:👈 تو اب کیا آپریشن ہو رہا ہے؟ شفیع جان: آپریشن کی تیاری تو ان کی پوری ہے۔ #FaislaAapKa TEAM | Hum News Shafi Jan

Asma Shirazi

41,035 次观看 • 8 个月前

افغان طالبان کے مابین پالیسیوں پر پیدا اختلافات سنگین ہمیں مذہب پر اجارہ داری نہیں کرنی چاہیے، سراج الدین حقانی کی ملا ہیبت اللہ پر تنقید ایک جلسہ عام میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس گروپ کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ میں حکمران ہوں، اس لیے سب کو میری بات مان لینی چاہیئے، "آپ خدا کے سامنے ذمہ دار ہیں اور خدا آپ سے پوچھے گا۔" کسی مخصوص شخص یا گروہ کا ذکر کئے بغیر انہوں نےکہا: "ملا اور طالب کے اس لقب کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ علماء پر اس حد تک بہتان تراشی کی جاتی ہے کہ لوگ ان کے دین کو نقصان پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے بعض اندرونی رویوں پر بھی تنقید کی: "مذہب کی نمائندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم صرف اپنے لیے حق محفوظ رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیں اور ان کو قریب کریں، جس طرح نبیﷺ نے عفو و درگزر سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ طالبان کے ماضی اور حال کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے حقانی نے کہا: ’’ہماری قوم نے مشکل آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اور یہ مذہب لوگوں کی قربانیوں اور قربانیوں سے اس مقام تک پہنچا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر لوگ ہماری پیروی نہ کریں تو آسمان زمین پر آجائے گا۔ حقانی نے مزید کہا: "ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگ کرپٹ ہیں اور ہمیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھیں ارتداد سے بچانا چاہیے، کیونکہ ہم حکمران ہیں۔" طالبان کے وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ اگر لوگ کفر اور بدعنوانی کے قریب آتے ہیں تو یہ حکمرانوں کی کمزوری اور کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

The Khyber Chronicles

11,453 次观看 • 1 年前

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 次观看 • 3 个月前

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,040 次观看 • 2 个月前

*وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل خان آفریدی کا وادی تیراہ آپریشن پر اہم ویڈیو پیغام!* وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے، ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، 24 رکنی کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ہم آپریشن نہیں کر سکتے، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا، لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھے، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے؟ یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں، میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں، پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف چار لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا، اگر اس بار ہم کھڑے نہ ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے. وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

Shafi Jan

45,651 次观看 • 8 个月前

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل خان آفریدی کا وادی تیراہ آپریشن پر اہم ویڈیو پیغام! وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے، ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، 24 رکنی کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ہم آپریشن نہیں کر سکتے، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا، لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھے، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے؟ یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں، میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں، پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف چار لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا، اگر اس بار ہم کھڑے نہ ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے. وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

Siddique Jan

48,216 次观看 • 8 个月前