Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جب آپکو پتا ہو کہ آپکا پاوا تگڑا ہے پھر جو مرضی کریں۔ ڈاکٹر میرے علاج کا تو خرچہ دے رہا ہے اور دیگا بھی ۔ باقی لوگوں کو بھی میں شامل کر رہی ہوں ۔ میں اس کا کلینک بند کرواں گی یہ ڈاکٹر بھوکا مرے گا۔ مریضہ...

53,068 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

316,225 просмотров • 8 дней назад

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 просмотров • 1 месяц назад

ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کئی دفعہ خواتین کے لئے بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے خاص طور پر جو دوسرے خاندان سے بیاہ کر جوائنٹ فیملی والے خاندان میں آتی ہیں انکو اپنے سسر ،ساس، جیٹھانی اور دیور کی وہ کڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں شوہر خود مجبور ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو منع کرے گا تو اسکو کہا جاتا ہے کہ رن مرید ہو گیا اور والدین تو خاص طور پر جذباتی بلیک میلنگ بھی کر جاتے ہیں کہ کیسے تم کو پالا پوسا جوان کیا پڑھایا اور اب تم اپنی بیوی کو ہم پر ترجیح دے رہے ہو آج صبح سے ایک سسر کی ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنی بہو کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے گو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے مگر اب بہو خود یہ ویڈیو بیان دے رہی ہے کہ میں بد تمیزی کی تھی اس لئے سسر نے مارا ہے اور کوئی کاروائی بھی نہیں کروانا چاہتی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس گھر میں رہنا ہے اگر سسر کو اندر کرواے گی تو سسر سب سے پہلے باہر آ کر اس کو گھر سے نکالے گا اور بچے بھی چھین لے گا بس ایسا خاندانی نظام ہے ہمارا

KHURRAM

279,836 просмотров • 2 лет назад

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,131 просмотров • 4 месяцев назад

" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا " (اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے ) احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا - پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟ جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے ) پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں - جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے " وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )- یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا - یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے- اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں " یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے - بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو - سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟ کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟ الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟ پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟ جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟ جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟ جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟ جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟ سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟ میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں - قلم کی جسارت وقاص نواز ------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Javeria Siddique Maryam Riaz Wattoo

Dr Waqas Nawaz

15,839 просмотров • 20 дней назад

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 просмотров • 2 лет назад