Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

پنجاب کے ہسپتالوں میں سپیکر لگا کر عوام کو بتایا جا رہا کہ ہسپتال میں تمام ادویات فری ہیں اگر کوئ آپکو ادویات باہر سے لانے کا بولے تو آپ نے ایم ایس کو شکایت کرنی ہے یہ ویڈیو ٹک ٹاک سے لی جس کے کمنٹ میں لکھا تھا...

54,976 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہری پور میں بھی سہیل آفریدی کی سٹریٹ موومنٹ کا جنازہ نکل گیا! سہیل آفریدی نے وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عوام کی خدمت کی بجائے زہنی مریض کی رہائی کیلئے سٹریٹ موومنٹ کا ڈرامہ شروع کیا پہلے پنجاب کا رُخ کیا تو عوام نے دھتکار دیا، پھر سندھ گیا تو وہاں کی عوام نے بھی مسترد کر دیا۔ دونوں صوبوں میں ذلالت سے بچنے کیلئے جھوٹا الزام لگایا کہ صوبائی حکومتوں نے لوگوں کو نکلنے نہیں دیا۔ اب سہیل آفریدی بتائے کہ کیا ہری پور بھی خیبرپختونخواہ سے باہر ہے؟ کیا وہاں کی عوام کو بھی پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے نہیں نکلنے دیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے انتشاری رویے کی وجہ سے دفن ہو چکی ہے، ناصرف پنجاب اور سندھ بلکہ خیبرپختونخواہ کی عوام بھی اب کارکردگی کی سیاست چاہتی ہے، انتشاری احتجاج اور فسادات کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا۔ سہیل آفریدی تم خدا کو حاضر ناضر جان کر بتاؤ کہ کیا تمہارے لیے ہری پور کی عوام نکلی ہے؟ وہاں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی مگر لوگ صرف 100 سے 150 تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خیبرپختونخواہ کی عوام نے بھی تمہیں مسترد کر دیا ہے۔ خدارا شرم کرو اور سٹریٹ موومنٹ کے نام پر نکل کر مزید ذلیل و خوار ہونے کی بجائے عوام پر رحم کرو۔ صوبے میں کارکردگی دکھاؤ، کے پی کی عوام کو سہولیات دو #HaripurRejectsPTI

Muhammad Hanzala

30,466 Aufrufe • vor 8 Monaten

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,218 Aufrufe • vor 6 Monaten

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 Aufrufe • vor 1 Monat