Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

جب عدلیہ بحال ہوئی تھی تو PCO ججز کو گھر بھیج دیا گیا اور کہا گیا تھا کہ اۤپ جج ہی نہیں ہیں۔۔جو رانا زاہد (انتخابی پٹیشنز کا) فیصلہ پر فیصلہ دے رہے ہیں اور پٹیشنز ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر خارج کر رہے ہیں، وہ بھی پی سی...

13,321 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہمارا (الیکشن کا) مقدمہ ایک ایسے سوکالڈ جج صاحب کو دیا جاتا ہے جو کبھی ہائیکورٹ کے جج تھے ہی نہیں۔۔پہلے قانون یہ تھا کہ الیکشن کے مقدمات حاضر سروس ہائیکورٹ کے ججز کے پاس جائیں گے۔اس فارم 47 حکومت نے جو پہلی قانون سازی کی وہ یہ تھی کہ صرف ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج نہیں بلکہ کوئی بھی ایسا شخص جسکو الیکشن کمیشن جج مقرر کر دے وہ مقدمے سن سکتا ہے۔ اسکے بعد انہوں نے چن چن کر لوگوں کو الیکشن ٹریبونل مقرر کیا۔۔۔میرا مقدمہ ایک ایسے جج کو دیا جو مشرف کی ایمرجنسی اور پی سی او کے دوران جج لگا۔۔جسکے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ یہ شخص کبھی جج نہیں تھا۔۔اسکو حق نہیں ہے اپنے نام کے ساتھ جسٹس لکھنے کا۔۔یہ اپنے نام کے ساتھ کبھی جسٹس نہیں لکھ سکتا۔۔سابق اور ریٹائرڈ بھی نہیں لکھ سکتا۔ اس شخص کو انہوں نے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کا لقب دیکر الیکشن ٹریبونل بنا دیا اور میرا مقدمہ اسکے حوالے کر دیا۔ اسکے خلاف دو سال ہوگئے ہمیں لاہور ہائیکورٹ گئے ہوئے کہ یہ شخص مقدمہ نہیں سن سکتا: سلمان اکرم راجا salman akram raja Asad Ullah Khan

Kismat Khan

10,782 Aufrufe • vor 4 Monaten