正在加载视频...

视频加载失败

"گجرات کے جس لڑکے کو فوت ہونے کے بعد باعزت بری کیا گیا جب جج نے اس کو سزا سنائی تھی وہ سٹریچر پر عدالت آیا تھا اور جج نے کہا تھا کہ سٹریچر پر لاؤ ، یہ جج نہ دنیا میں بچیں گے اور نہ اللہ کی عدالت...

74,669 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بریکنگ نیوز : انسدادِ دھشت گردی کے عدالت نے سپریمٹینڈنٹ جیل کو عدالتی حکم عدولی پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ اسلام آباد پولیس بیرئیر پر پولیس سے ہاتھا پائی کے الزام میں انسدادِ دھشت گردی عدالت کے جج طاہر محمود سپرا کے حکم کے باوجود دونوں ملزمان کو آج ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس سے پہلے اڈیالہ جیل کے حکام نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی کے وکالت نامے بھی عدالتی حکم کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انٹرنیٹ کی خرابی کے باعث ملزمان کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جج سپرا نے حکمنامے میں کہا کہ اس حوالے سے نہ تو کوئی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی اور نہ ہی اڈیالہ جیل سے کوئی اہلکار عدالت میں پیش ہوا جو عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور عدالتی حکم عدولی کے مترادف ہے، اس وجہ سے انسداد دھشت گردی کے قانون کے تحت اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ کو شو کاز نوٹس دیا جاتا ہے کہ کیوں نہ انکو چھ ماہ قید کی سزا سنائی جائے، یہ شو کاز نوٹس سپریٹینڈنٹ کو ذاتی طور پر وصول کرا کر آج ہی جواب بھی طلب کیا جاتا ہے۔

Matiullah Jan

39,585 次观看 • 4 天前

آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج راجہ انعام امین منہاس نے پیکا کالے قانون کے خلاف سماعت کی۔ جج نے گزشتہ سماعت پر حکومت کو دو ماہ کا وقت دیا تھا لیکن حکومت نے جج کے احکامات کی دھجیاں اُڑا دیں اور دو ماہ کے باوجود عدالت میں جواب جمع کروانا بھی گورا نہ کیا، ہم صحافی جج کو دُہائیاں دیتے رہے، ہمارے وکلا ریاست علی آزاد اور عمران شفیق نے ناقابل تردید دلائل کی بھرمار کر دی کہ اگر عدالت اس کالے قانون کو کالعدم قرار نہیں دیتی تو کم از کم حکومت کے غیر سنجیدہ اور توہین آمیز رویے کو دیکھتے ہوئے اس کالے قانون پر فوری عملدرآمد روکنے کا ہی حکم دے دیا جائے، جج کو بتایا گیا کہ لوگوں پر مقدمات درج ہو رہے ہیں، FIRs تک دکھائی گئیں، عدالت میں مضبوط دلائل کا ماحول ایسا تھا کہ جج مکمل طور پر لاجواب نظر آئے مگر جج نے ایک نہ سُنی اور حکومت کو دو ہفتے کی مزید مہلت دے دی۔ ہم نے یہاں تک استدعا کی کہ اگلی سماعت کی تاریخ ہی سنا دی جائے مگر جج صاحب سماعت کی تاریخ تک نہ دے سکے، کیا نظام انصاف پر اتنا خوف اور رعب طاری ہے؟

Ameer Abbas

12,248 次观看 • 1 年前

"کل جو ہماری گرفتاری ہوئی تو ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہم سے کون سا جرم سرزد ہوا ہے۔ ہمیں اندازہ تو تھا کہ ان کو سنجانی جلسے کی تکلیف ہے۔ پوری قوم کو یہ دو باتیں بتانا چاہتا ہوں، کہ حد کر دی ہے ان لوگوں نے۔ بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے! نہ ان کو قانون کا کوئی پاس ہے نہ لحاظ ہے! نہ ارٹیکل 14 کے تحت احترام اہمیت کا حق ہے پاکستانیوں کو! جس طریقے سے یہ لوگوں کو کھینچتے ہیں اور پارلیمنٹیرینز کو کیمرے کے سامنے پارلیمنٹ کے سامنے ان کو حیا ہی نہیں ہے! اور سب سے بڑا گلا میرا اسلام اباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان سے بنتا ہے! جج صاحبان اس طرح سے دھڑا دھڑ غلط کیسوں پر ریمانڈ نہ دیں۔ یہاں پولیس کے کیس درج کرنے کی دیر ہے اور جج صاحبان خود ہی اٹھا لیتے ہیں باقی کام! ابھی یہ جو پرچہ دیا ہے اس میں الزام ہے کہ علی امین خان نے ڈی ایس پی کی کنپٹی پر کلیشن کوف رکھی جلسے میں! اور میں نے کسی کے کپڑے پھاڑے اور تو اور شعیب شاہین نے پستول نکال کر کسی تھانیدار کی کنپٹی پہ رکھی! چھ گھنٹے سات گھنٹے کے جلسے میں کسی نے کیا کوئی ایک اسلحہ دیکھا؟ تعزیرات پاکستان کا دفعہ 193 یہ پولیس والوں کے لیے سزا مقرر کرتا ہے کہ اگر یہ کسی پر غلط کیس بنائیں گے تو اتنی ہی سزا ان پر ہوگی جتنی سزا وہ بے قصور کو ملزم بنا کر دلانا چاہتے ہیں۔" شیر افضل خان مروت

Sher Afzal Khan Marwat

224,329 次观看 • 2 年前