Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جب میں وزیراعلی تھا تو مجھے فیصل آباد اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس والے بلا رہے تھے۔میں نے کہا میرا وہ صوبہ ہی نہیں کیوں ملنا چاہتے ہیں ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ ہمارے پاس لیبر نہیں ہے ہمیں لیبر چاہئے گلگت کے لوگ ایماندار اور محنتی ہیں...

61,979 views • 3 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

آج میرے کیس کی پیشی تھی۔ آئی ایل ایف کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ میرا کیس مزید نہیں لیں گے اور مجھے اپنا پرائیویٹ وکیل کرنا ہے۔۔۔۔ جج صاحب نے بھی ریمارکس دیے کہ کیس آپ کو ہی لینا چاہیے۔ میں نے اگے سے کہا کہ میرے اوپر پی ٹی ائی کے احتجاج کا کیس ہے تو کیس بھی انہیں لینا چاہیے تو تب محترمہ وکیل نے کہا کہ آپ نیگیٹو نہ ہوں، ہم ٹرائل کیسز نہیں لیتے، ہم صرف ضمانتوں کے کیس کرتے ہیں۔ لیکن ایک اور کیس عامر مغل اور باقیوں کے خلاف ہو رہا تھا اور اس کیس کا بھی ٹرائل جاری ہے۔ اگر آئی ایل ایف والے ٹرائل کیسز نہیں لیتے تو پھر اس کیس کو کیا کیا جا رہا ہے؟ میرے کیس میں ہی کیوں کہا گیا کہ ہم ٹرائل نہیں لیتے؟ یہ ہیں آئی ایل ایف کے حالات۔۔۔۔ یہ نااہلی ہے آئی ایل ایف کی پارٹی پر تنقید کرنے والوں کے کیس شاید آئی ایل ایف نہیں لیتی یا اگر لے تو سپریم کورٹ تک بات کو پہنچا دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آئی ایل ایف کے وکیل میرے کیس کے لیے نہیں آئے تھے وہ کسی اور کیس کے لیے آئے تھے میں جب وہاں گیا تو انہوں نے دیکھا اور میرے پاس آگئے ورنہ انہیں میرے کیس کا معلوم بھی نہیں تھا۔۔۔۔

Haider Saeed

41,900 views • 3 months ago

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,018 views • 1 month ago

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

187,811 views • 15 days ago

خان سانپ فرماتے ہیں کہ مجھے ایجنسیوں نے بتایا کہ نوازشریف، زرداری وغیرہ چور ہیں۔۔۔ تو میں فوراً مان گیا کیونکہ انکو پتہ ہوتا ھے، لیکن جب ایجنسیوں نے مجھے یہ بتایا کہ پنکی اور گوگی ھیرے کی انگوٹھیاں اور بھاری رشوت لیکر ٹرانسفر پوسٹنگ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کو NOC جاری کرواتی ہیں تو میں نے یقین نہیں کیا، کیونکہ انکو اتنا نہیں پتہ جتنا مجھے پتہ ھے☺️ جب ایجنسیوں نے مجھے بتایا کہ سلمان شہباز نے چائنہ سے کمیشن لی تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ سچ ہے لیکن جب عثمان بزدار، پرویزخٹک اور فرح گوگی کے بارے میں بتایا کہ وہ کمشن اور کک بیکس لیتے ہیں تو میں نے یقین نہیں کیا☺️ جب سفیر نے بتایا کہ امریکہ نے سازش کی ھے تو میں نے فورا یقین کر لیا۔۔۔ لیکن جب ایجنسیوں نے بتایا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تو میں نے یقین نہیں کیا☺️ جب پانامہ پیپرز نے نوازشریف کی چوری کی رپورٹ جاری کی تو مجھے یقین ہوگیاکہ یہ نوازشریف چور ھے، لیکن جب فنانشل ٹائم اور پنڈورہ لیکس کی رپورٹ آئی تو مجھے لگا یہ جھوٹ ھے☺️ جب عارف نقوی نے پیسے بھیجے تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ پاکستانی اورسیز نے فنڈنگ کی ھے تو مجھے یقین تھا کہ یہ جائز اور حلال ھے، لیکن جب اکبرایس بابر نے فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ کے ثبوت دکھائے تو مجھے معلوم ہو گیا کہ جھوٹ بول رہا ھے☺️ جب الیکشن کمشن نے نوازشریف کونااہل کیا تو مجھے یقین ہوگیاکہ فیصلہ درست اور الیکشن کمشن غیرجانبدار ھے۔ لیکن جب الیکشن کمشن نے میرے خلاف فیصلہ دیا حساب مانگا تو مجھے پتہ چلاکہ یہ تو جانبدار ہیں اور سازش کررہے ہیں☺️ جب ایم کیو ایم باب اور ق لیگ میرے ساتھ ملے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ محب وطن اور نفیس لوگ ہیں، لیکن جب چھوڑکر پی ڈی ایم کیساتھ گئے تو پتہ چلاکہ یہ تو غدار ہیں☺️ جب جہانگیرترین آزاد ارکان لایا تو مجھے یقین ہوگیاکہ یہ سب ایماندار مخلص اور جمہوری لوگ ہیں، لیکن جب انہوں نے ن لیگ کا ساتھ دیا تو پتہ چلاکہ یہ تو لوٹے ہیں 😜😂

نواب عادل رندھاوا✍🏻

23,434 views • 6 days ago