Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جب ہمارے ڈرامے سبق آموز ہوا کرتے تھے

102,998 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля qwerty
qwerty1 год назад

من چلے کا سودا

Фото профиля Human being
Human being1 год назад

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تحریر اور خیام سرحدی کی کمال صداکاری و اداکاری. اس ڈرامے میں فردوس جمال نے بھی بہت اعلیٰ معیار کی اداکاری کی تھی

Фото профиля Mshafiq
Mshafiq1 год назад

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تصوف پہ عمدہ تحریر

Фото профиля Maaz khan
Maaz khan1 год назад

من چلے کا سودا ❤️

Фото профиля ثاقبي
ثاقبي1 год назад

Woh Ashfaq Ahmed ka daur tha

Фото профиля Samina
Samina1 год назад

اشفاق احمد "میں اپنی گردن پر ان ہاتھوں کا لمس محسوس کرتا ہوں جو مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں" ہم سے ہمارے ادیب زبردستی دور کیے گئے،تا کہ ہم زندگی کا فلسفہ،حقیقت اور مقصد جان ہی نا پائیں،اور نئی نسل کو ایک عارضی چکاچوند میں دھکیل دیا گیا جس کی کوئی منزل نہیں،جس میں کبھی فلاح نہیں ۔

Фото профиля Moni khan
Moni khan1 год назад

کتنا پرسکون ڈرامہ اور ڈائیلاگ بہترین ❤️

Фото профиля Ans
Ans1 год назад

yes

Фото профиля fatima sharif
fatima sharif1 год назад

اب لکھنے والے بھی نہ رہے

Фото профиля قیدی نمبر 804
قیدی نمبر 8041 год назад

ظہر تک کمائی والی بات بالکل ٹھیک کی، بلکہ مجھے یاد ہے چھوٹے شہروں میں کئی لوگ صرف 3 سے 4 گھنٹے کام کرتے تھے صبح 10 بجے کہ بعد نان واے، دہی والا، چنے بیچنے والا سب ختم کر کے باقی سارا دن گھر یا دوستوں میں گزارتے اور کچھ ایسے جو شام کو سموسے یا چاٹ وغیرہ لگاتے وہی چند گھنٹوں کیلئے

Похожие видео