Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
جب ہمارے ڈرامے سبق آموز ہوا کرتے تھے
Комментарии: 10

من چلے کا سودا

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تحریر اور خیام سرحدی کی کمال صداکاری و اداکاری. اس ڈرامے میں فردوس جمال نے بھی بہت اعلیٰ معیار کی اداکاری کی تھی

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تصوف پہ عمدہ تحریر

من چلے کا سودا ❤️

Woh Ashfaq Ahmed ka daur tha

اشفاق احمد "میں اپنی گردن پر ان ہاتھوں کا لمس محسوس کرتا ہوں جو مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں" ہم سے ہمارے ادیب زبردستی دور کیے گئے،تا کہ ہم زندگی کا فلسفہ،حقیقت اور مقصد جان ہی نا پائیں،اور نئی نسل کو ایک عارضی چکاچوند میں دھکیل دیا گیا جس کی کوئی منزل نہیں،جس میں کبھی فلاح نہیں ۔

کتنا پرسکون ڈرامہ اور ڈائیلاگ بہترین ❤️

yes

اب لکھنے والے بھی نہ رہے

ظہر تک کمائی والی بات بالکل ٹھیک کی، بلکہ مجھے یاد ہے چھوٹے شہروں میں کئی لوگ صرف 3 سے 4 گھنٹے کام کرتے تھے صبح 10 بجے کہ بعد نان واے، دہی والا، چنے بیچنے والا سب ختم کر کے باقی سارا دن گھر یا دوستوں میں گزارتے اور کچھ ایسے جو شام کو سموسے یا چاٹ وغیرہ لگاتے وہی چند گھنٹوں کیلئے

