Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

جب ہمارے ڈرامے سبق آموز ہوا کرتے تھے

103,021 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von qwerty
qwertyvor 2 Jahren

من چلے کا سودا

Profilbild von Human being
Human beingvor 2 Jahren

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تحریر اور خیام سرحدی کی کمال صداکاری و اداکاری. اس ڈرامے میں فردوس جمال نے بھی بہت اعلیٰ معیار کی اداکاری کی تھی

Profilbild von Mshafiq
Mshafiqvor 2 Jahren

من چلے کا سودا، اشفاق احمد کی تصوف پہ عمدہ تحریر

Profilbild von Maaz khan
Maaz khanvor 2 Jahren

من چلے کا سودا ❤️

Profilbild von ثاقبي
ثاقبيvor 2 Jahren

Woh Ashfaq Ahmed ka daur tha

Profilbild von Samina
Saminavor 2 Jahren

اشفاق احمد "میں اپنی گردن پر ان ہاتھوں کا لمس محسوس کرتا ہوں جو مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں" ہم سے ہمارے ادیب زبردستی دور کیے گئے،تا کہ ہم زندگی کا فلسفہ،حقیقت اور مقصد جان ہی نا پائیں،اور نئی نسل کو ایک عارضی چکاچوند میں دھکیل دیا گیا جس کی کوئی منزل نہیں،جس میں کبھی فلاح نہیں ۔

Profilbild von Moni khan
Moni khanvor 2 Jahren

کتنا پرسکون ڈرامہ اور ڈائیلاگ بہترین ❤️

Profilbild von Ans
Ansvor 2 Jahren

yes

Profilbild von fatima sharif
fatima sharifvor 2 Jahren

اب لکھنے والے بھی نہ رہے

Profilbild von قیدی نمبر 804
قیدی نمبر 804vor 2 Jahren

ظہر تک کمائی والی بات بالکل ٹھیک کی، بلکہ مجھے یاد ہے چھوٹے شہروں میں کئی لوگ صرف 3 سے 4 گھنٹے کام کرتے تھے صبح 10 بجے کہ بعد نان واے، دہی والا، چنے بیچنے والا سب ختم کر کے باقی سارا دن گھر یا دوستوں میں گزارتے اور کچھ ایسے جو شام کو سموسے یا چاٹ وغیرہ لگاتے وہی چند گھنٹوں کیلئے

Ähnliche Videos