Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جرنل صاحب تُسی سانُوں چ نہ سمجھو ساڈے کول آئیڈیاز بہت 😜✌️

109,594 просмотров • 3 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

میں قسمً یہ ٹویٹ کر رہا ہوں اس میں 1% بھی جھوٹ نہیں 🚨 شیر افضل مروت پر سب سے پہلا منظم حملہ عادل راجہ نے کیا، اس کے بعد مخصوص یوٹیوبرز کو لگایا گیا، تاکہ ایک بہادر آواز کو آہستہ آہستہ متنازع بنا کر خاموش کیا جا سکے۔ 🚨 جب مروت صاحب پارٹی میں تھے تو وہ ہر احتجاج کی کھل کر حمایت کرتے تھے، بلکہ خود آگے بڑھ کر کہتے تھے کہ میں ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہوں۔ 🚨 شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنا کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا، یہ ایک گہری سازش تھی، جس کا مقصد احتجاجی سیاست کو دفن کرنا تھا۔ 🚨 مروت صاحب جب عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر آتے تھے تو عوام کو ایک ایک لفظ سچ بتاتے تھے، بغیر ڈر کے، بغیر فلٹر کے، اور یہی بات سلمان اکرم راجہ اور چند دیگر ممبرز کو سب سے زیادہ چبھتی تھی، کیونکہ اس کا مؤقف سخت اور دو ٹوک ہوتا تھا۔ 🚨 شیر افضل مروت کو ہٹانے کے بعد احتجاجی تحریک واضح طور پر کمزور پڑ گئی، نہ پنڈی میں کوئی مؤثر احتجاج ہوا اور نہ ہی اسلام آباد میں کوئی طاقتور آواز اٹھی۔ 🚨 عمران خان کی ہر پیشی پر سلمان اکرم راجہ مروت صاحب کے حوالے سے خان صاحب کو گمراہ کرتے رہے اور حقائق کے برعکس باتیں پہنچاتے رہے۔ 🚨 جب مروت صاحب ملاقات کے لیے جاتے تھے تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ان کا نام لسٹ سے نکلوایا جاتا تھا، تاکہ وہ خان صاحب تک سچ نہ پہنچا سکیں۔ 🚨 سوال بہت سادہ ہے: آج اگر شیر افضل مروت غدار تھا تو آپ سب وفادار ہو، پھر آپ اسلام آباد میں احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ 🚨 آپ پنڈی میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟ وہ تو اکیلا تھا، پھر بھی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ 🚨 آج آپ سب موجود ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں — فیصلہ آپ خود کریں، نقصان کس کا ہوا اور فائدہ کس کا۔ Sher Afzal Khan Marwat Mohammad Shehzad Khan Shams Khattak EliteSocialClub Zahid Khan Marwat Ali Muhammad Khan

Arman Khanx

75,413 просмотров • 9 месяцев назад

بیشک عزت و ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ! زیر نظر یہ دو تصاویر رہائی کے سال بعد مجھے جیل کے اندر کام کرنے والے محکمہ جیل خانہ جات کے میرے اک ہمدرد بھائی نے جو خان صاحب سے بے حد پیار کرتاہے نے نام نہ بتانے کے شرط پہ بھیجیں کہ جب آپ کو گرفتار کرکے لائے تو آپ کے علم میں لائے بغیر یہ تصاویر ”کسی“ نے بنا کر ”اُوپر“ کسی کو بھجوائی تاکہ ”ان“ کی انا کو تسکین پہنچ سکے۔ میں اس بھائی کا نام اور متعلقہ جیل کا نام اسکی خود کی حفاظت کی خاطر آج بھی لینے سے گریز کرونگا اور صیغئہ راز میں رکھنے کو ترجیح دونگا ۔ لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کر کے آپ نہ میرا حوصلہ توڑ سکے اور نہ ہی میرے لیڈر Imran Khan اورمیری جماعت PTI سے میری کمٹمنٹ و وابستگی کوتوڑ سکے۔ اسیری کے زمانے میں ہمیشہ میں اپنا وکیل کا کالا کورٹ زیب تن رکھتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جیل کے اندر اور جیل کے باہر گرفتاریوں کے وقت اور عدالتوں میں پیشیوں کے وقت کبھی بھی میرے چہرے پہ ان کو پریشانی نظر نہ آئے۔ کیونکہ یہی وہ چاہتے تھے۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ چھیننا چاہتے تھے۔ (زیر نظر جہلم جیل کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے) میرا پیغام ان کو ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ آپ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی تو پہنا سکتے ہیں لیکن آپ میرے چہرے کی مسکراہٹ نہیں چھین سکتے کیونکہ میرا رب آپ سے بہت بڑا ہے۔ آپ کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اور میرے پاس میرے ایمان کی طاقت۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا لیکن میری آنکھوں میں تمہیں ڈر نہ ملے گا زندگی کا اک تکلیف دہ دن اپنے ہی آبائی شہر مردان کی آبائی بار مردان بار جہاں میرے دادا پیر محمد خان صاحب نے بھی 1947 میں آزادی کے بعد سے وکالت کی اور میں نے بھی وہیں سے اپنی وکالت کی ابتداء کی وہاں وکیل کے یونیفارم میں دو مرتبہ ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر لایا گیا اور عدالت کے اندر بھی ہتھکڑی نہ کھولی گئی۔ (زیر نظر ویڈیو موجود ہے) لیکن یہ شاید بھول گئے تھے کہ عزت و ذلت ان زمینی خداؤں کے ظالم ہاتھوں میں نہیں بلکہ میرے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ میں شکر گزار ہوں اللّٰہ تعالیٰ کا اور مجھے فخر ہے اپنے مردان کے عوام پہ جنہوں نے دوبارہ منتخب کر کے عزت کیساتھ تیسری بار واپس ایوان میں بھیجا۔ بیشک عزت و ذلت زمینی خداؤں کے نہیں میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سلسہ آج بھی جاری ہے جس طرح ہمارے کارکنان کےساتھ کیا جارہا ہے لیکن کوئی ایک کارکن بتا دیں جو باوجود اس طرح کی فسطائیت کے راہ حق سے ہٹایا جا سکا ہو۔ جتنی جلد طاقت عوام کے اصل نمائندوں کے حوالہ کریں گے اور قوم کے لیڈر عمران خان کی رہائی کریں گے تاکہ وہ اپنی قوم کی قیادت کر سکے اتنا ہی جلد یہ ملک واپس ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ نصر من اللّٰہ و فتح قریب پاکستان زندہ باد 🇵🇰 تا قیامت پائیندہ باد

Ali Muhammad Khan

794,542 просмотров • 1 год назад

میرے خلاف جس انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ دراصل اسی سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے برسوں سے چند نام نہاد سوشل میڈیا ٹرولز نے پروان چڑھایا۔ مسلسل گالم گلوچ، بہتان تراشی، تضحیک اور دھونس کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، اور یہی رویّہ بالآخر مجھے اس مقام تک لے آیا جہاں آج میں کھڑا ہوں۔ میں اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں ہوں، اس لیے مجھ پر کسی جماعتی ڈسپلن کی اخلاقی یا سیاسی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت قرار دینا دراصل سیاسی عدم برداشت کی بدترین شکل ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ عمران خان صاحب کی غیر منصفانہ سزا کا حوالہ دینے کا مقصد ہرگز کسی کی توہین نہیں تھا بلکہ صرف اُس قانونی اصول کی نشاندہی کرنا تھا جو خود عمران خان صاحب کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 2018 میں میاں نواز شریف کے خلاف طے کیا تھا۔ اصول اگر ایک کے لیے قانون بنے تو دوسرے کے لیے بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ قانون شخصیات کے تابع نہیں بلکہ شخصیات قانون کے تابع ہوتی ہیں۔ پی ٹی آئی اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے گزشتہ برسوں میں جو طرزِ سیاست اپنایا، وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دینا، ان کی کردار کشی کرنا، جعلی مہمات چلانا اور خاندانوں تک کو نشانہ بنانا ایک کھلا راز بن چکا ہے۔ تمام تر ٹرولنگ، خصوصاً علیمہ خان کے زیرِاثر چلنے والی مہمات کے باوجود، میں نے ہمیشہ خان صاحب کا احترام کیا، ان کا دفاع کیا اور مشکل ترین وقت میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا رہا۔ مگر افسوس کہ پارٹی قیادت یا ذمہ دار حلقے میری بات سننے، وجوہات معلوم کرنے یا آئینی عدالت میں دائر مؤقف پر مجھ سے مکالمہ کرنے کے بجائے سیدھا ٹرولز کو چھوڑنے میں مصروف ہوگئے۔ اگر اختلاف تھا تو دلیل سے جواب دیتے، گفتگو کرتے، نظرِ ثانی کی درخواست کرتے، مگر یہاں تو ہر سمت سے صرف بھونکنے کی آوازیں آئیں۔ یاد رکھیں، پی ٹی آئی کے ہر اُس کارکن کی فطرت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ جتنا اسے دباؤ، جتنا اسے دیوار سے لگاؤ، وہ اتنا ہی زیادہ خطرناک ردِعمل دیتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں، ٹرولنگ اور کردار کشی سے مجھے خاموش کرا لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ میں نے نہ پہلے کبھی کسی کے شور کی پرواہ کی، نہ آج کرتا ہوں۔ البتہ میرا ردِعمل ایسا ضرور ہوگا جو آپ کو بے چین بھی کرے گا، تڑپائے گا بھی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے گا۔ سیاست دلیل، برداشت اور کردار سے چلتی ہے، ٹرولز، گالیوں اور ہجوم کے شور سے نہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

19,517 просмотров • 4 месяцев назад