Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بہت شکریہ جناب دو دِن تُوں سارا سوشل میڈیا میرے پِچھے سی ہُنڑ تُسی اے اُڑدا تیر لے لو شوق دے نال : دو دن سے سوشل میڈیا پر ذلیل ہونے والے پٹواری کا Ahmed Ali Khan کو شکریہ کا فون 😜✌️✌️

23,097 views • 18 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

62,894 views • 1 month ago

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

673,530 views • 2 years ago

شکریہ کرک۔ میرے پاکستانیو! کرک کی عوام اپنے امن کے لئے نکل آئے ہیں اب آپکا کام ہے ان کی آواز ہر جگہ پہنچانا۔جب سیکورٹی کے ذمہ داران پارلیمان ،عدلیہ ،میڈیا، الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے فتح کرنے کے بعد چلغوزے کی کاشت اور کھیتی باڑی میں مصروف ہوں۔جب ان کی تمام توانائیاں ملک کے مقبول ترین لیڈر اور ان کی پارٹی کو کچلنے اور ان کے خلاف بیانیہ بنانے میں صرف ہورہی ہوں۔ جب حفاظت کرنے والو سے ہی آپ کو خطرہ ہو تب آپ کو اپنا امن خود بحال کرنا پڑتا ہے۔جب آگ گھر کی دہلیز پر ہو اور آگ بجھانے والے آگ بھڑکا رہے ہوں تو اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو خود بچانا پڑتا ہے۔ میرے پاکستانیو! یہ ملک ہمارا ہے، یہ گھر ہمارا ہے اور ہم نے مل کر تمام سیاسی وابستگیوں ذات پات قومیت سے بالاتر ہوکر اس کو بچانا ہے۔ ۲۰۲۲ میں جب مالاکنڈ سوات دیر بونیر میں یہ جنگ لائی گئی تو دو مرتبہ ہم نے اپنے زور بازو سے ان کو نکالا تھا، اب سابقہ فاٹا اور جنوبی اضلاع سے انکو نکالنے کا عزم کرنا ہے۔کرک آغاز ہے میرے مہمند، باجوڑ،لکی مروت، وزیرستان، ٹانک، ڈی آئی خان اور خیبر کے غیرت مندوں تیار رہو انشاءاللہ جلد مل کر وہاں بھی امن کے پرچم کے سائے تلے نکلیں گے۔اور پھر دیر باجوڑ سے لیکر بلوچستان تک سب کو متحد کرکے پنڈی اسلام آباد کا رخ کرینگے۔آپ نے چوکیداری چھوڑ کر سیاست شروع کر دی ہے ہم نے فی الحال امن کا پرچم تھاما ہے اس سے قبل کے آپ کا کام قوم سنبھال لے اپنے مورچوں پر واپس جاؤ۔ اپنے ڈالروں کے لیے ہمیں آگ میں مت دھکیلو۔ ہمارے گھر، ہماری جانیں، ہمارے بچے، ہمارا مستقبل برائے فروخت نہیں ہے!

Murad Saeed

153,701 views • 1 year ago

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔
0:17

Sensitive content

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔

Saleem Speaks

39,753 views • 4 months ago

میں نہیں کہتا کہ متحدہ عرب امارات مسلک کی بیناد پہ لوگوں کو نکل رہا ہے لیکن میں دو معاملات کا چشم دید گواہ ہوں اگر وہ یہاں بیان نہ کروں تو بددیانتی ہوگی میرے ایک جانے والے ہیں چھ سات سال پہلے وہ وزٹ ویزا پہ دوبئی گیا پھر جب وہاں پہ اسکا مستقل ویزا لگایا جانا تھا تو اسکے نام کیساتھ شاہ تھا ویزا نہیں لگا ابھی دو سال پہلے ایک دوست کے ویزے کے لئے اپلائی کیا اسکے نام میں علی تھا تو اسکا دوبئی کا ویزا مسترد ہوگیا اب آتے ہیں اصل مودے کی طرف اور اس ویڈیو کی طرف ان لوگوں کو گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات سے نکلا گیا وہ تو وجہ یہ بتا رہیں ہیں کہ ہم ایک مخصوص مسلک کے ساتھ وابستہ ہیں تو ہمیں اس لئے نکلا گیا لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنگ کے دوران انہوں نے کس ایسی سرگرمی میں حصہ لیا ہو جو وہاں کے قانون کے خلاف ہے ہوسکتا ہے انہوں نے ویڈیو یا تصویر بنائی ہوں ہوسکتا ہے کسی سوشل میڈیا پوسٹ کسی واٹس ایپ گروپ میں دوبئی کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہو ؟ کیونکہ جہاں اگر کسی کو علی نام کی وجہ سے ویزا نہیں ملتا وہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے نام کیساتھ علی ہے شاہ ہے وہ دوبئی میں کام کرتے ہیں میرے خیال میں انسان جس ملک میں روزی روٹی کمانے جاتا ہے اسکے قوانین کا احترام کرے مشکل وقت میں اس ملک کیساتھ کھڑا ہو جس نے اسکے گھریلو حالات بہتر کئیے /🙏

محفوظ الرحمن اعوان

32,686 views • 4 months ago

دو بھائیوں پہ بہیمانہ تشدّد- ایک جان کی بازی ہار گیا اور دوسرا ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہے- تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں- دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں نے راستے میں رائیونڈ کے ساتھ ایک گاؤں بھمبھ (جائے وقوعہ) سے ایک درجن کیلے خریدے جو 130 روپے کے تھے- ان کے پاس ایک نوٹ سو والا تھا اور باقی 5 5 ہزار والے تھے- فروٹ والے کے پاس پانچ ہزار کا کھلّا نہیں تھا- انہوں فروٹ والے سے کہا کہ ہمارے پاس سو روپے ہیں- یہ لے لو یا اپنے باقی 30 روپے کے کیلے واپس نکال لو- اس بات پر تکرار ہوئی اور فروٹ والا گالیاں دینے لگا- یوں جھگڑا بڑھ گیا اور فروٹ والے نے اپنے دوست کو فون کر دیا کہ یہاں لڑائی ہو گئی ہے- فروٹ والے کے دوست نزدیک ہی کرکٹ کھیل رہے تھے جو سب کے سب اکٹھے ہو کر آ گئے اور بنا تحقیق ان دونوں بھائیوں کو ملکر مارنے لگے- دونوں بھائی شدید زخمی ہوۓ جس پر انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا- دونوں میں سے چھوٹا بھائی زخموں کی تاب نا لا سکا- اسنے ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا جبکہ بڑا بھائی (جسے آخر میں بیٹ لگا) ابھی تک کومے کی حالت میں ہے- میں ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس واقعے کی مکمّل تحقیقات کروا کر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں- شکریہ Maryam Nawaz Sharif Punjab Police Official

Amir H. Qureshi

21,124 views • 1 year ago

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ لوگ پورا اترے ہیں - ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان سے نرم دل ' میٹھا میٹھا یا حاتم طائ ہونا آئیکسپیکٹ کرتے ہیں - ہر گز نہیں - لوگ ان سے بس قانون کی عمل داری کرنا اور پروفیشنل ہونا ایکسپکٹ کرتے ہیں اور الحمد للہ یہ ہر موقع پر انتہائی غیر پروفیشنل' بے قانون اور غیر ذمے دار ثابت ہوتے ہیں - عورت کو بس ایک عورت اہلکار ہی ہاتھ لگاے -- لیکن نہیں - وہاں ان کے مرد اہلکار عورتوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھے گیے ہیں - ایک سرکاری افسر ہوتے ہویے ان کو عوام کا خادم ہونا ہوتا ہے - وہاں ان کے آئ جی پھولوں والی بگھیوں پر برطانوی راج والے پروٹوکول میں اسلام آباد کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے بھی دیکھے گیے ہیں - اور اب آج یہ نمونہ - ایک نوجوان جو بغیر ڈرائیور کے گاڑی کا تجربہ بغیر کسی لائسینس ' کسی انجنیرنگ اتھارٹی اپروول کے اسلام آباد کی ہائی وے پر کر رہا تھا ' اور ساتھ کیمرہ مین کو انٹرویو بھی دے رہا تھا ' اس نے پولیس کی گاڑی میں ٹکر دے ماری تو پولیس محض یہاں ویوز اور عوامی داد سمیٹنے کیلئے ایک انتہائی غفلت والے اقدام کو سراہ رہی ہے اور جگہ جگہ میمز بن رہی ہیں - یہ مذاق ہے ؟ ابھی تین دن پہلے اس ملک میں ایک حادثہ ہوا ہے جہاں ایک ہسپتال میں چودہ ننھے بچے جل کر دنیا سے چلے گیے ہیں ' اس کے بعد اس طرح کے بھیانک مذاق ؟ چلیں یہ تو پولیس تھی - یہی کسی کا بچہ اس نے نیچے دے دیا ہوتا - اپنے ویوز کے چکر میں کسی موٹر سائکل کو کچل دیا ہوتا - کسی ویل چیئر یا فٹ پاتھ پرچڑھ جاتا ' یا کسی کو ساری عمر کیلئے معذور کردیا ہوتا ' تو تب بھی پولیس کا یہی رسپانس ہوتا ؟ اگر جواب "نہیں " میں ہے تو اب یہ والا رسپانس کوئی بہت بردباری نہیں بلکہ انتہائی غیر پروفیشنل رویہ ہے - یہاں کوئی بھی مہذب ملک ہوتا تو اس آدمی کو جرمانہ کرکے اس کے ڈراوئنگ لائسنس کینسل کرکے اس کو حوالات میں رکھتا - کیا آ پ کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا انتہائی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس معطل کرکے اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیور سیٹ پر ہوتے ہویے بھی دماغی طور پر کار کی سیٹ پر نہیں ہوتا - اور یہاں تو ڈرائیور دماغی طور پر نہیں ' جسمانی طور پر سیٹ سے ہی غائب ہے - اس پر یہ واہ واہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ پروفیشنل نہی ہے - کیا پولیس والے نے چیک کیا کہ اس معاملے میں قانون کی کہتا ہے ؟ پاکستان پینل کوڈکیا کہتا ہے ؟ یہ کبھی سزا دے دینا اور کبھی معاف کردینا کسی پولیس والے کی بساط اور اختیار کب سے ہوگیا ؟ یہ ملک ہے یا ان کا تھانہ ہے کہ کسی کو چھتر چڑھا دیے کسی کو ہار پہنا دیے - جہاں تک اس سٹوڈنٹ کی بات ہے تو اس کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے اگر ایسا تجربہ کرنا بھی ہے تو اس کا پروٹوکول ہے - آپ کسی آتھینٹک کمپنی سے گاڑی چیک کرواتے ہیں ' اس کے بعد اس گاڑی کے بنانے والے کی اہلیت اور کریڈنشل چیک کراتے ہیں اس کے بعد ایسا تجربہ کسی ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں عوام یا ٹریفک نہ ہو - اگر اس طرح کے عمل پر شاباش ملنے لگی تو کل کو کوئی انجن لگا کا جہاز بنا کر چھت سے چھلانگ لگا دیگا اور کسی راہ چلتے پر ٹرانسفارمر جیسا انجن گرادیگا - اسی اصول کے مطابق ون ویلنگ کرنے والے سارے من چلوں کو ایوارڈ دینا چاہیے کہ یہ بھی ٹیلنٹ ہے - خدا کیلئے - کبھی تو ہمیں بھی غلط ثابت کریں - کوئی کام ویسے بھی کیا کریں جیسا قانون کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے - آپ کو سوشل میڈیا پر حاتم طائ بننے کی تنخواہ نہی دی جاتی ' قانون پر عملداری کی تنخواہ ملتی ہے جس کا آپ کے عمل سے دور دور کا بھی تعلق نہی ہے - خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے قلم کی جسارت وقاص نواز ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Hamid Mir حامد میر Imran Riaz Khan Islamabad Police

Dr Waqas Nawaz

66,050 views • 26 days ago

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

65,422 views • 29 days ago

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 views • 9 months ago

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 views • 1 year ago